افغان پاليسي کي ناکامي کي وجہ پاک امريکا تعلقات کا بگاڑ ہے ،فنانشل ٹائمز

برطانوي اخبار’فنانشل ٹائمز‘ اپنے اداريے ميں لکھتا ہے کہ فوج اور انٹيلي جنس ايجنسيوں کي فراہم کردہ معلومات پر مرتب کردہ افغانستان کيلئے بنائي گئي مغربي ممالک کي پاليسي ناکام ہو گئي،جزوي طور پر افغان پاليسي کي ناکامي پاک امريکا تعلقات کا بگاڑ بھي ہے.فرانس کي طرف سے فوجي انخلاء کے اعلان نے افغانستان کي سلامتي اور استحکام کے ہليري کے کھوکھلے دعووں کا پول کھول ديا،مغرب بھارت کي ناراضگي نہيں چاہتا ليکن پاکستان کے بغير افغان خطے ميں استحکام ممکن نہيں،افغان جنگ کيفيصلے امريکا اور فرانس ميں صدارتي انتخابات پر اثر انداز ہوں گے. اخبا رکے مطابق امريکي وزير خارجہ ہليري کلنٹن نے ايک بار دعوي?کيا تھا کہ افغانستان کيلئے 2011 ء سفارتکاري ميں اضافے کا سال ہو گا.تباہ شدہ افغانستان کي سلامتي اور استحکام کے لئے مضبوط سويلين کو فوجي کوششوں کا ساتھ دينا ہوگا.ليکن امريکااور نيٹوکے اتحادي فرانس نے طے شدہ فريم ٹائم2014سے قبل افغانستان سے فوجي انخلاء کے اعلان نے ان تمام دعووں کے کھوکھلے پن کو عياں کرديا جس نے ناقص افغان سيکورٹي پر مزيد دباؤ بڑھا ديا .کرپشن اور لاقانونيت ميں گھرے ملک کے استحکام کے لئے کوئي زيادہ کام نہيں کيا جاسکا.مسئلہ يہ ہے کہ افغانستان کے لئے مغرب کي پاليسي ناکا م ہو گئي ہے .اس پاليسي کے پس پشت فوج اور انٹيلي جنس طاقتيں کار فرما تھيں جب کہ بوسنيا کے سياسي تصفيے کے لئے سفارتي کوششيں کم تھيں ليکن فوجي دباؤ اور طاقت بھي بہت کم استعمال کي گئي .اخبار کے مطابق اس پاليسي کي ناکامي کي وجہ افغان خطے ميں پاکستان کے ساتھ امريکا کے تعلقات ميں تيزي سے بگاڑ ہے .اخبار لکھتا ہے کہ حاليہ امريکي فوجي رپورٹ ميں بھي بيان کيا گيا کہ افغانستان ميں بھارتي اثر و رسوخ کے توڑ کے لئے پاکستان طالبان کي حمايت کرتا ہے .مغرب يہ چاہتا ہے کہ بھارت مشتعل نہ ہو ليکن پاکستان کي شرکت کے بغير افغانستان ميں استحکام قائم نہيں ہوگا. فوج کے انخلاء کا فرانسيسي اعلان طالبان کي حوصلہ افذائي کرے گا جو يقيني طور پر کمزور ہو رہے ہيں اور ان ميں سے کچھ مذاکرات کے لئے تيار ہو چکے ہيں.امريکي اور فرانسيسي افواج کا اس وقت انخلاء مثالي نہيں ہوگا.دونوں ممالک ميں صدارتي انتخابات ان فيصلوں سے مطابقت نہيں رکھتے. گزشتہ ہفتے چار فرانسيسي فوجيوں کي موت نے فرانس ميں جنگ کو اليکشن مہم کا اہم ايشو بنا ديا. جبکہ امريکي صدر اوباما فوجي دستوں ميں کمي کي وجہ سے دباؤ کا شکار ہيں. تنازعات ميں اب سياسي سوچ بچار مرکزي احيثيت اختيار کر رہي ليکن الميہ يہ ہے کہ افغانستان کے استحکام کے لئے کچھ زيادہ نہ کيا جا سکا.



















اہم بیرونی روابط