حکومت منشور میں کئے گئے وعدے پورے کرے
صدر آصف علی زرداری نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ حکومت کو 5سالہ آئینی مدت پوری کرنے دی گئی تو ”ہم ملک کی تقدیر بد ل دیں گے۔ “بیوروکریسی ہمیں کام کرنے دے تو ہم ایک نیا پاکستان بنا ئیں گے۔ حکومت کے خلاف ہر روز نئی سازشیں ہوتی رہتی ہیں جو ناکام رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں۔ ہماری سیاست کا انحصار ووٹوں پر نہیں ہے۔ جس نے ہمیں ووٹ دینا ہے وہ دے جس نے نہیں دینا وہ نہ دے۔ ہماری منزل ووٹ نہیں ملک کی ترقی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار کراچی میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سندھ وسیلہ حق پروگرام کی قرعہ اندازی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے ہم نے قومی معیشت کو مستحکم کیا ہے۔
اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد ہی جمہوری حکومتوں کی بساط لپیٹنے کا جو عمل شروع ہوا اس میں بلاشبہ بیوروکریسی نے بنیادی کردار ادا کیا جسے ایک منہ زور گھوڑے کے کردار سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ اس وقت سکندر مرزا،چودھری محمد علی اور غلام محمد جیسے بیوروکریٹ کے کردار اور طاقت کے استعمال نے ہی انہیں سیاستدان بنا دیا اور وہ قومی سیاست پر مسلط ہوگئے۔ انہوں نے کئی حکومتوں کو ان کی آئینی مدتِ اقتدار پوری کرنے سے پہلے ہی انہیں ایوان قتدار سے نکال باہر کیا۔ یہ وہ صورتحال تھی جس نے قومی سیاست اور سیاستدانوں پر عوام کے اعتماد کو مجروح کیا۔ مختلف حلقوں اور اداروں کی طرف سے ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کا عمل بھی زور پکڑ گیا لیکن اس ساری صورتحال کا ایک توجہ طلب پہلو یہ بھی ہے کہ بیوروکریٹس کو تربیت کے دوران جن حقائق کو پیش نظر رکھنے اور فرائض کی ادائیگی کی تربیت دی جاتی ہے بعض بااثر سیاستدانوں نے جب ان سے ناجائز اور غیرقانونی کام لینا شروع کئے، نسلی، لسانی، گروہی اور سیاسی بنیادوں پر بعض افراد کو نوازنے پر مجبور کیا تو خود بیوروکریٹس بھی اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے اور ان کے غلط استعمال کی راہ پر چل نکلے۔ اگر خود سیاستدان اس طرزِ عمل سے اجتناب کرتے اور انہیں ان کے اختیارات کے دائرہ میں رہ کر فرائض انجام دینے کی پالیسی اختیار کرتے تو یقینا سیاسی جماعتوں کی بساط الٹنے اور آئینی مدتِ اقتدار پوری کرنے سے پہلے انہیں رخصت کرنے کی نوبت نہ آتی۔ اس صورتحال نے ایک ادارے کو دوسرے ادارے کے دائرہ اختیار میں مداخلت کا موقع فراہم کیا۔ ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہوگیا اور کوئی پارلیمینٹ ، کوئی حکومتی اداروں او ر کوئی عدلیہ کو ہدف تنقید بنانے لگا اور آئینی و قانونی حدود پامال کئے گئے۔یہ صورتحال اس قدر وسعت اختیار کرگئی تھی کہ ایوب خان، یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دورِ اقتدار میں سینکڑوں کی تعداد میں ایسے طاقتور بیوروکریٹس کوملازمتوں سے فارغ کیا جو بظاہر عوامی اور سرکاری حلقوں میں اچھی شہرت کے حامل سمجھے جاتے تھے لیکن جب ملازمتوں سے فارغ کئے جانے کے بعد ان کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آیا تو اس سے نوکرشاہی کی منہ زوری اور اختیارات کے غلط استعمال کے تاثر کو تقویت ملی اور ان حکمرانوں کے اس عمل نے ثابت کردیا کہ انہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں بیوروکریٹس کو فارغ کرکے ایک صحیح اقدام کیا تھا۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ صورتحال میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آسکی اور بیوروکریٹس کا وہی کردار زیادہ طاقت اور قوت کے ساتھ سامنے آنے لگا جس نے جہاں جمہوری نظام حکومت کو بدنام کیا وہاں عوام کے مسائل و مشکلات میں اس قدر اضافہ کیا کہ ان کے لئے روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھنا بھی مشکل ہوگیا تاہم سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف نے بیوروکریٹس کو سائیڈ لائن لگانے اور انہیں اپنے دائرہ اختیارات کے اندر رہ کر کام کرنے کی پالیسی اختیار کی لیکن اس کے باوجود اب صورتحال یہ ہے کہ صدرمملکت کی طرف سے کبھی سیاستدانوں کو سیاسی اداکار قرار دے کر انہیں ہدف ِ تنقید بنایا جاتا ہے ،کبھی بیوروکریسی اور کبھی عدلیہ پر کڑی نکتہ چینی کی جاتی ہے۔ خود وزیراعظم کی طرف سے بھی فوج کے بارے میں بعض ناخوشگوار تاثرات اور خیالات پوری قوم کے سامنے آچکے ہیں اور پھر ان کی ہی جانب سے تردید بھی کردی گئی۔ اگر پہلے ہی اپنے دائرہ اختیارات کا خیال رکھا جاتا تو یہ ناخوشگوار صورتحال جنم نہ لینے پاتی۔ اس وقت موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت اقتدار کے 4 سال پورے کرچکی ہے لیکن اس عرصہ میں عوام کے مسائل و مشکلات میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔ غربت و افلاس کا گراف دن بدن بلند تر ہوتا جارہا ہے۔ توانائی کے بحران نے قومی معیشت کو متزلزل کرکے رکھ دیا ہے۔ ہزاروں کارخانے، فیکٹریاں اور صنعتی ادارے بند ہوچکے ہیں جس سے لاکھوں مزدور بیروزگار ہوگئے ہیں۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے مصنوعات کی پیداواری لاگت میں اضافہ کرکے گرانی کے ایک نئے طوفان کو جنم دیا ہے۔برآمدات میں زبردست کمی سے نہ صرف کئی غیرملکی منڈیا ں پاکستان کے ہاتھ سے نکل گئی ہیں بلکہ تجارتی خسارے میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ملک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے جس نے سرمایہ کاری کو بری طرح متاثر کیا ہے اور غیرملکی سرمائے کا فرار تیز تر ہوتا جارہا ہے۔ اس سے ملک میں سرمایہ کاری کی زبردست حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ حکمران جماعت نے اگرچہ بعض آئینی ترامیم کے ذریعے اصلاح احوال کی کوشش کی ہے لیکن مسائل اس قدر گھمبیر ہیں کہ ان کا حل ایک مشکل امر بن کر رہ گیا ہے۔ حکومت کو زمینی حقائق اور معروضی حالات سے آنکھیں چرانے کی بجائے ان کا پوری سنجیدگی سے ادراک کرتے ہوئے گڈ گورننس کے تصور کو عملی شکل دینے اور عوام کی توقعات پر پورااترنے میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔وزیراعظم گیلانی نے قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں عوام کے لئے ایک ریلیف پیکیج دینے کا اعلان کیا تھا۔ چار سال سے عوام منتظر ہیں۔ ریلیف پیکیج تو دور کی بات ہے ان کے مصائب میں اضافہ ہی ہوتا رہا ہے۔ اس لئے کہ حکمرانوں نے اپنے انتخابی منشور میں عوام کے ساتھ جو وعدے کئے تھے اور عوام نے ان سے جو توقعات وابستہ کی تھیں وہ سب حکومت کی ناکام پالیسی کے باعث نقش برآب بن کر رہ گئی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت عوام کی مشکلات و مصائب کا ازالہ کیوں نہیں کرپائی اور عوام سے کئے گئے وعدوں اور یقین دہانیوں کی تارپود کیوں بکھر کر رہ گئی ہے۔ حکومت صرف اپنی حسن کارکردگی کی بنا پر ہی پھر آئندہ انتخابات میں عوام کااعتماد حاصل کرکے ایوان اقتدار تک پہنچ سکے گی۔ اگر حکومت واقعی پھر ایک مرتبہ اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے ماضی کی غلطیوں سے بھی سبق حاصل کرنا ہوگا، عوام سے کئے گئے وعدوں اور یقین دہانیوں کو عملی جامہ پہنانا ہوگا اور اپنے انتخابی منشور پرمکمل عملدرآمدکے ذریعے ہی اپنی کامیابی کا راستہ ہموار کرنا ہوگا۔ محض زبانی کلامی دعوؤں اور یقین دہانیوں سے عوام کا اعتماد حاصل نہیں کیا جاسکے گا۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ!
وفاقی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کے یکم فروری سے پٹرول کی قیمت میں 5روپے اور ڈیزل کی قیمت میں ڈھائی روپے اضافے سے متعلق اعلان نے عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ جبکہ ایک اطلاع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے لئے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی سمری وزارت پٹرولیم نے منظور کر لی ہے ۔ حکومت کا یہ معمول اچھی گورننس کے تقاضوں سے کسی طرح بھی ہم آہنگ محسوس نہیں ہوتا کہ غیر ترقیاتی اخراجات پوری کرنے کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ اس بار روپے کی قدر میں کمی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کا جواز بنایا گیاہے۔ اگرچہ یہ بات اصولی طور پر طے شدہ ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی ہو گی تو اسی تناسب سے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے گی لیکن ماضی میں کئی بار عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ملکی سطح پر اسی تناسب سے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی نہیں کی گئی۔ یہ درست ہے کہ ڈالر کی قیمت 90 روپے سے تجاوز کرنے کے اثرات پٹرولیم مصنوعات سمیت تمام اشیاء صرف پر پڑ رہے ہیں لیکن اس کا ذکر کر کے تمام تر بوجھ عوام پر ڈالنا کسی صورت مناسب نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ بھی تیل کی عالمی منڈی میں قیمتوں میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہ ہونے کے باوجود پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی کوشش کی گئی جس پر اعلیٰ قیادت نے مداخلت کی اور اسے موخر کرایا گیا ۔ ملک کو اس وقت جس مشکل معاشی صورتحال ،لوڈ شیڈنگ ، کارخانوں کی بندش اور دوسرے مسائل کا سامنا ہے اس کا تقاضا ہے کہ حکومت اپنے اخراجات میں کمی کرکے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے۔







































