اسٹیٹ بینک کی رپورٹ ۔ تلخ معاشی حقائق

اسٹیٹ بینک کی سہ ماہی رپورٹ میں ،جو ہفتے کو جاری کی گئی، آنے والے دنوں میں مزید معاشی مشکلات کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال میں مجموعی قومی پیداوار کا 4.2 فی صد کا مقررہ ہدف پورا کرنا مشکل ہوگا جبکہ افراط زر کی شرح کو بھی ایک ہندسے تک محدود نہیں کیا جاسکے گا رپورٹ کے مطابق یہ شرح بارہ فی صد کے لگ بھگ رہے گی۔ افراط زر کا لازمی نتیجہ تمام ضروریات زندگی کی مہنگائی کی شکل میں نکلتا ہے، اس بناء پر کہا جاسکتا ہے کہ مستقبل قریب میں مہنگائی کو لگام دیے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔رپورٹ میں گیس کی قلت،تیل کی بلند قیمتوں اور زرعی اجناس کی عالمی قیمتوں میں کمی کے عوامل کو قومی پیداوار کے مقررہ ہدف کے حصول میں دشواری کا سبب ٹھہرایا گیا ہے۔ اس میں یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ بیرونی وسائل سے رقم نہ آنے کے سبب بجٹ خسارہ پورا کرنے کا بوجھ بینکاری نظام پر آگیا ہے جس کی وجہ سے نجی شعبے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی گنجائش ختم ہوگئی ہے جبکہ رپورٹ کے مطابق بینک بھی اپنا مالی وساطت کا کردار ادا کرنے سے گریز کررہے ہیں۔رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ حکومت اپنی مالیات کو بہتر بنانے کے لیے کچھ پیش رفت کررہی ہے چنانچہ بجٹ خسارہ جو گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی قومی پیداوار کا1.5 فی صد تھا، موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں1.2فی صد رہا ہے۔ اس بہتری کا بنیادی سبب وفاقی بورڈ آف ریوینو کے محاصل میں 29.7 فی صد کا اضافہ ہے جوٹیکس جمع کرنے کی کوششوں میں تیزی اوردرآمدات سے آنے والے محاصل کے بڑھنے کی وجہ سے ممکن ہوا۔ بلا ٹیکس محاصل میں بھی 50.4 فی صد کا متاثر کن اضافہ ہوا ہے۔اس کے باوجود بورڈ آف ریوینو نے گزشتہ دسمبر کے اواخر تک محاصل کی جو رقم جمع کی ہے وہ 1952.3روپے کے سالانہ ہدف کی تکمیل کے لیے درکار رقم سے کم ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کمی کے ازالے کا انحصاراتحادی سپورٹ فنڈ کی آمد اور تھری جی لائسنسوں کی فروخت پر ہوگا جس سے تقریباً 150ارب روپے کا حصول متوقع ہے۔سٹیٹ بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان ذرائع سے مطلوبہ رقم نہ ملی توحکومت کے لیے بجٹ خسارے کو مقررہ سالانہ ہدف کے اندر رکھنا مشکل ہوگا۔اس حوالے سے مزید تشویشناک بات جس کی نشان دہی رپورٹ میں کی گئی ہے یہ ہے کہ وفاقی حکومت کو صوبوں کی جانب سے 125ارب کی جو رقم ملنی تھی ، اس میں بھی نمایاں کمی ہوتی نظر آرہی ہے۔ اس کی وجہ صوبوں کے اپنے اخراجات میں52.8 فی صد کا اضافہ ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں صوبوں کی طرف سے مرکز کے لیے صرف 11.6ارب روپے کی فراہمی کا بندوبست کیا جاسکا ہے جبکہ اسے 125 ارب روپے کا چوتھائی یعنی 31.25ارب روپے ہونا چاہیے تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبوں کی جانب سے وفاق کے لیے فراہم کی گئی یہ رقم پچھلے سال کی اسی مدت میں فراہم کردہ رقم سے85.7 فی صد کم ہے۔ ان اعداد وشمار سے وفاق کے ساتھ ساتھ صوبوں کی مالی زبوں حالی کا بھی کچھ اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس رپورٹ میں سٹیٹ بینک نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ صوبوں کی جانب سے مہیا کی جانے والی رقم میں اس قدر بھاری کمی کی وجہ سے وفاق کے لیے مالی خسارے کو ہدف کے اندر رکھنا مزید دشوار ہوجائے گا۔رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ قرضوں پر حکومت کا انحصار بڑھتا چلا جارہا ہے چنانچہ آخر نومبر2011تک بینکاری نظام سے حکومت نے736.8ارب روپے کا قرضہ لیا تھا جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں لیا گیا قرضہ 336.1ارب روپے تھا۔ اسٹیٹ بینک کی یہ رپورٹ ملک کی معاشی ابتری کی بڑی حدتک عکاسی کرتی ہے ، اس سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہے کہ مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پستے کروڑں پاکستانیوں کے لیے مزید مشکل وقت آرہا ہے۔ اس ابتری کے حقیقی اسباب کیا ہیں؟ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کرپشن کا کینسر ہمارے قومی وسائل کو جس طرح تباہ کررہا ہے، اس کی تفصیلات آئے دن منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔ حکمراں اپنی کرپشن کی دولت کو بچانے کے لیے پورے موجودہ دور حکومت میں عدالتی احکامات کو ٹالنے کی جدوجہد میں مصروف رہے ہیں۔ چار سال تک معیشت کو بہتری کے بجائے ہولناک ابتری میں مبتلا کرنے والے حکمراں یہ مضحکہ خیز دعویٰ کررہے ہیں کہ انہیں پانچ سال پورے کرلینے دیے جائیں تو وہ ملک کی تقدیر بدل دیں گے۔ حکومت کی جانب سے چار سال کی اس مدت میں اگر توانائی کے مسئلے کو حل کرنے پرضروری توجہ دی گئی ہوتی تو آج ہماری صنعت کا پہیہ ٹھپ نہ ہوتا، کارخانے پیداوار دے رہے ہوتے، نئی صنعتوں کاقیام عمل میں آنے کا سلسلہ جاری ہوتا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے روزگار کے نئے مواقع بے روزگاری میں کمی کا ذریعہ بن رہے ہوتے۔ لیکن افسوس کہ اس مدت میں کم ہی کوئی مثبت کام ہوسکا۔ بلاشبہ ہمارے ملک کو کئی سنگین مسائل کا سامنا ہے، عالمی طاقتیں خطے میں اپنے مفادات کے حصو ل کے لیے جو کھیل کھیل رہی ہیں، ہماری بے حکمتی کے سبب ہمیں اس میں ایک مہرے کی طرح استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اب ہماری عسکری اور سیاسی قیادت نے قومی مفادات کے حوالے سے درست موقف اختیار کیا ہے تو اس کی پاداش میں ہمیں مالی دشواریوں میں مبتلا کرنے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ تاہم اس سب کے باوجود اس مملکت خداداد کو قدرت کی جانب سے اتنے بڑے پیمانے پر ہر قسم کے وسائل اور بہترین افرادی قوت سے نوازا گیا ہے کہ ایک قومی امنگوں سے ہم آہنگ دیانت دار اور باصلاحیت قیادت کسی بیرونی بیساکھی کے بغیر اس ملک کو بہت کم وقت میں اپنے پیروں پر کھڑا کرسکتی ہے۔ عالم اسلام میں ملائشیا اور ترکی جیسی مثالیں موجود ہیں جہاں لائق اور مخلص قیادتوں نے اپنے ملکوں کو مسائل کے گرداب سے نکال کر بہت کم وقت میں ترقی کی شاہراہ پر گام زن کردیا۔ ہمارے ہاں بھی ایسا ہونا ممکن ہے اور خود موجودہ حکمراں بھی اگر چاہیں تو اپنے باقی عرصہ اقتدار میں حالات کو بہتر بنانے کے لیے خاصے نتیجہ خیز اقدامات کرسکتے ہیں۔ مالی مشکلات پر قابو پانے کے لیے تمام غیر ضروری غیرترقیاتی اخراجات روک کر، بیرون ملک دوروں کے انتہائی ضرورت تک محدود کرکے، دوروں پر جانے والے وفود میں افراد کی تعداد کو محض ناگزیر حد تک رکھ کر ، غیرضروری وزارتوں کو ختم کرکے، وزراء اور اعلیٰ افسران کو مہیا کی گئی مصرفانہ سہولتوں پر پابندی لگا کے اور اس سمت میں دیگر اقدامات عمل میں لاکر خاصے مالی وسائل بچائے جاسکتے ہیں۔ چند ہی روز پہلے خود وفاقی وزیر خزانہ بھی یہ بات کہہ چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ گیس اور بجلی کے بحران کے حل کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرکے صنعتوں کی بحالی کا عمل شروع کیا جاسکتا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی جو بھاری رقوم بھیجتے ہیں اگر ان کا بہتر استعمال کیا جائے تو معیشت کی ترقی کے لیے بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ کوئلے اور شمسی توانائی سے بجلی کی تیاری کی چار سال کی مدت میں صرف باتیں ہوتی رہی ہیں، اگر اب بھی فوری طور پر اس مقصد کے لیے کچھ کام شروع کردیا جائے تو حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ ہماری سیاسی قیادتوں کو یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ترقی کرنے والی قوموں کا معاشی ایجنڈا قومی بنیاد پر تیار ہوتا ہے اور ہر حکومت آکر نئے سرے سے عمارت تعمیر کرنا شروع نہیں کرتی۔ بھارت اور جاپان وغیرہ ایسے ملک ہیں جن کے سیاسی حالات میں ہماری ہی طرح اتار چڑھاوٴ آتا رہتا ہے مگر ان کا معاشی ایجنڈا بار بار تبدیل نہیں ہوتا۔ ہماری سیاسی قیادتیں بھی اس کا اہتمام کرکے ملک کی ہموار ترقی کا اہتمام کرسکتی ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی تاریخ ساز فتح
ابوظہبی میں قومی کرکٹ ٹیم کی تاریخی کامیابی ٹیم اسپرٹ اور کھلاڑیوں کے اچھے کھیل کا نتیجہ ہے جس پر کرکٹ ٹیم شاباش اور پاکستانی قوم مبارک کی مستحق ہے۔ اس جذبے اور لگن کو مستقبل میں بھی جاری رہنا چاہئے۔ دنیا کی نمبر ون اور مسلسل 9 ٹیسٹ میچوں میں ناقابل شکست نظر آنے والی انگلینڈ کی ٹیم کو 145رنز کے ہدف کے تعاقب کے دوران 36.1اوورز میں ڈھیر کرنے میں فیصلہ کن کردار عبدالرحمن کی تباہ کن بولنگ نے ادا کیا۔ انہوں نے 25رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں اور بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ سعید اجمل نے 3 وکٹیں اور محمد حفیظ نے ایک وکٹ لی۔ اس طرح تین میچوں کی سیریز اپنے نام کر کے پاکستان اسپنرز نے ناممکن کو ممکن کر دکھاتے ہوئے سات برس بعد انگلینڈ کو زیر کرلیا۔ اس کامیابی کا ایک قابل ذکر پہلو سعید اجمل کا ٹیسٹ کرکٹ میں تیز ترین 100وکٹیں لے کر ایک نیا ریکارڈ قائم کرنا ہے۔ ایک بڑے بحران اور کرپشن کی رسوائی کے تکلیف دہ مرحلے سے گزرنے کے بعدپاکستانی کرکٹرز کی یہ فتح ہمارے اس تشخص کی بحالی ہے جو عشروں تک ہمارا طرہٴ امتیاز رہا ہے۔



















اہم بیرونی روابط