قبل ازوقت انتخابات کیلئے حکومت کی آمادگی
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں چاہیں تو عام انتخابات قبل از وقت کرانے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور مئی میں قومی بجٹ کے اعلان کے بعد کسی بھی وقت انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔ ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے بعد اسلام آباد واپسی پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتخابات کو آزادانہ اور شفاف بنانے کے لئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری اتفاق رائے سے کریں گے۔ ہم ملک میں شفاف اور آزاد انتخابات چاہتے ہیں تاکہ پرامن انتقال اقتدار کی روایت قائم ہو سکے۔ اپوزیشن لیڈرڈائیلاگ نہ چاہیں تو بھی حکومت قومی امور حزب اختلاف سے بات چیت سے ہی طے کرے گی۔ وزیراعظم نے عالمی اقتصادی فورم کے حوالے سے کہا کہ ماہرین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔ پاکستان دنیا کے ان ملکوں میں شامل ہے جن کی اقتصادی سمت درست ہے۔ اقتصادی اعشارئیے ظاہر کر رہے ہیں کہ مہنگائی پہلے سے کم ہوئی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب ملی ہے۔ آئین کے شیڈول کے مطابق عام انتخابات اگلے سال ہونا ہیں لیکن ملک اس وقت کئی طرح کے بحرانوں کا شکار ہے۔ زیادہ تر بحران خود حکومت ہی کے پیدا کردہ ہیں۔ ان حالات میں سیاسی بالغ نظری کا تقاضا بھی یہی ہے کہ حکومت قبل از وقت انتخابات کرانے کے بارے میں اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں سے صلاح مشورے کا عمل بلا تاخیر شروع کرے تاکہ اس بارے میں پایا جانے والا ابہام جلد دور ہو سکے۔ اطلاعات کے مطابق فروری کے اواخر یا مارچ کے اوائل میں سینیٹ کے انتخابات متوقع ہیں۔ مئی میں نیا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا اور سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق انتخابی فہرستوں کو بھی اس وقت تک حتمی شکل دیئے جانے کا پروگرام ہے اس کے بعد عام انتخابات کے انعقاد میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں رہ جائے گی۔ قیاس یہی ہے اور حکومت کے سرکردہ رہنماؤں کا بھی یہی کہنا ہے کہ انتخابات اس سال کی آخری سہ ماہی میں جا سکتے ہیں۔ یہ بات اطمینان بخش ہے کہ بہت سارے نشیب و فراز کے باوجود اس معاملے میں خوش اسلوبی سے پیشرفت ہو ر ہی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہیں اور حکومت بھی بظاہر اس کیلئے تیار ہے تو یہ خوش آئند بات ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کسی تھرڈ امپائر کا انتظار کئے بغیر آئین میں دیئے گئے طریق کار کے مطابق اس بارے میں جلد کوئی حتمی فیصلہ کر لیا جائے۔ آئین نے انتخابات کو منصفانہ اور غیر جانبدارانہ بنانے کیلئے نگراں حکومت کے قیام کی شرط لگائی ہے جس پر حکومتی اور اپوزیشن پارٹیوں کا اتفاق رائے ضروری ہے اور چیف الیکشن کمشنر کی تقرری بھی تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے کی متقاضی ہے۔ یہ فرض حکومت پر عائد ہوتا ہے کہ وہ ان معاملات کو جمہوری اصولوں اور آئین کی روح کے مطابق طے کرے۔ عام انتخابات کے لئے وقت کے تعین کے ساتھ ہی سیاسی جماعتیں انتخابی مہم میں مصروف ہو جائیں گی لیکن دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس حوالے سے کوئی ہوم ورک بھی کر رہی ہیں یا نہیں۔ منصفانہ انتخابات کیلئے بنیادی ضرورت انتخابی فہرستوں کا غلطیوں سے پاک ہونا ہے۔ جن فہرستوں کی بنیاد پر گزشتہ انتخابات کرائے گئے تھے ان میں تقریباً پونے چار کروڑ جعلی ووٹ درج تھے جنہیں عدلیہ کے حکم پر خارج کیا گیا۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ درست انتخابی فہرستوں کی تیاری کو یقینی بنائیں۔ خود عوام کو بھی اس معاملے میں چوکس رہنا ہو گا۔ وہ نہ صرف اپنا ووٹ درج کرائیں بلکہ پولنگ کے روز اسے استعمال بھی کریں۔اس وقت عام اندازے کے مطابق صرف چالیس سے پچاس فیصد تک ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں۔گویا ملک کی آدھی آبادی انتخابی عمل میں حصہ ہی نہیں لیتی،گھروں میں بیٹھی رہتی ہے۔ عدم دلچسپی کا یہ رویہ جمہوریت کی روح اور قومی مفاد کے منافی ہے۔ اس سے سیاسی عمل تو چلتا رہتا ہے مگر عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے کیونکہ ان کے حقیقی نمائندے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے ہی نہیں۔ سیاسی جماعتیں انتخابات کے وقت جو منشور اور وعدے لے کر عوام کے پاس جاتی ہیں، اقتدار میں آ کر ان کی پاسداری نہیں کرتیں کیونکہ انہیں پتہ ہے احتساب کرنے والا کوئی نہیں۔ عوام کو انتخابی عمل کے آغاز ہی سے ایسی جماعتوں کا محاسبہ شروع کر دینا چاہئے اور جو پارٹی ماضی میں ان کی توقعات پر پوری نہیں اتری اسے دوبارہ اقتدار میں آنے سے روک دینا چاہئے۔ انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کو چاہئے کہ عوام کے سامنے ملکی مسائل کا ٹھوس اور قابل عمل حل پیش کریں۔ خاص طور پر زوال پذیر معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی تجاویز سامنے لائی جائیں۔ وزیر اعظم نے ڈیوس سے واپسی پر کہا ہے کہ ملک کی معیشت مستحکم ہو رہی ہے اور مہنگائی میں کمی ہوئی ہے مگر زمینی حقائق ان کے دعوے کی تصدیق نہیں کرتے۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی تازہ رپورٹ کا حوالہ کافی ہو گا جس میں قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی سمیت کئی اقتصادی شعبوں میں پیش آنے والی ناکامیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ پاکستان اس وقت توانائی کے سنگین بحران کا شکار ہے بجلی اور گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ سے عوام کا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ صنعتیں بند ہونے سے مزدور بیروزگار ہو رہے ہیں،کرپشن اور بدانتظامی عروج پر ہے۔ سیاسی جماعتوں کو ان مسائل کا حل تلاش کرنا ہو گا اور عوام کو بتانا ہو گا کہ وہ ان کی مشکلات کیسے ختم کریں گی۔ امریکہ سے جاپان اور کینیڈا سے آسٹریلیا تک ساری دنیا میں سیاسی پارٹیاں اپنے معاشی پروگراموں کی بنیاد پر الیکشن لڑتی ہیں کیونکہ جمہوریت صرف سیاسی اقتدار کا راستہ نہیں دکھاتی، معاشی ترقی کی راہیں بھی کھولتی ہے۔ ہماری سیاسی پارٹیوں کو بھی گڈ گورننس کے ساتھ معیشت پر زور دینا چاہئے اور بتانا چاہئے کہ وہ کون سے معاشی منصوبے شروع کریں گی، بیروزگاری کس طرح دور کریں گی اور بنیادی اشیائے ضرورت کی مہنگائی کیسے کم کریں گی۔ انہیں اپنے منشور اس احساس ذمہ داری کے ساتھ مرتب کرنے چاہئیں کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں ان پر عمل بھی کرنا ہے محض اقتدار کا حصول ان کا مقصد نہیں ہونا چاہئے بلکہ عوام کے اقتصادی اور سماجی مسائل حل کر کے ملک کے سیاسی نظام کو مضبوط اور مستحکم بنانا ان کا مطمح نظر ہونا چاہئے۔ حکومتی پارٹیاں تو اپنی کارکردگی کے بل پر عوام سے ووٹ مانگیں گی اور صدر زرداری کہہ چکے ہیں جسے ووٹ دینا ہے دے جسے نہیں دینا نہ دے مگر اپوزیشن پارٹیوں کو سنجیدگی سے اپنے اپنے منشور کے ذریعے قومی مسائل کا موثر حل پیش کرنا ہو گا۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ حکومت قبل از وقت انتخابات کیلئے اپوزیشن سے مشاورت کی خواہش رکھتی ہے۔ اس سے مفاہمت اور مصالحت کی فضا میں شفاف انتخابات کی راہ ہموار ہو گی اور ایسا کر کے ہی جمہوری اداروں کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔
امریکہ طالبان تاریخی مذاکرات کا آغاز
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان افغان مسئلہ پر مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔ فریقین اعتماد سازی اور قیدیوں کے تبادلے پر بھی بات چیت کر رہے ہیں۔ اتفاق ہونے پر قیدیوں کو قطر کے حوالے کر دیا جائے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کرزئی حکومت طالبان سے الگ مذاکرات کرے گی۔ پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں تمام فریق شریک ہونے چاہئیں۔ امریکی اخبارات کے مطابق اس بات چیت کو پاکستان کی بھی حمایت حاصل ہے۔ بعض طالبان کے مطابق صرف گوانتاناموبے سے طالبان کی رہائی کی بات چیت ہو رہی ہے اس کا مقصد مستقبل میں مذاکرات کے لئے مناسب اور موافق ماحول پیدا کرنا ہے۔ یہ امر بہرحال حوصلہ افزا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک بھی افغان مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں اور 2014ء تک اتحادی فوجوں کی مکمل واپسی کا عندیہ بھی دیا جا چکا ہے۔ ماضی میں بھی اس مسئلے پر کئی مرتبہ بات چیت ہوئی لیکن کبھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔ قطر میں اس سے پہلے بھی فریقین کے درمیان مذاکرات کی خبریں منظر عام پر آ چکی ہیں ۔ پاکستان ہمیشہ اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں رہا ہے۔ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ امریکہ گوانتاناموبے جیل سے اہم طالبان رہنماؤں کو رہا کرنے پر تیار ہو گیا ہے جو مذاکرات میں کامیاب پیش رفت کا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے سلسلے کو قائم رکھنے کے لئے قطر نے طالبان کو اپنے یہاں دفتر کھولنے کی بھی اجازت دے رکھی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک اہم فریق کی حیثیت سے پاکستان کو بھی ان مذاکرات میں شریک کیا جائے ،امریکی حکام کے ساتھ افہام و تفہیم کی بنیاد پر بات چیت کو آگے بڑھایا جائے۔ امریکہ افغانستان کے خلاف جارحیت کے ارتکاب کی تاریخ اور اس کے نتائج کو جو برطانوی استعمار کے دور میں سامنے آئے نظر انداز نہ کرے اور قبائلی مزاج اور روایات کو پیش نظر رکھا جائے۔







































