چار سال کا کام ایک سال میں کیسے ہوگا

صدر آصف علی زرداری نے2012ء کو عوامی خدمت کا سال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے مالی سال کا بجٹ عوام دوست ہو گا اور اس میں توانائی کے بحران پر قابو پانے  غربت اور مہنگائی کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھانے کے لئے کئی بڑے پروگرام شامل کئے جائیں گے۔ کراچی میں صوبائی وزراء کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے امن و امان کے قیام اور معیشت کے استحکام کو ترجیح دینا ہوگی۔ معیشت مستحکم ہو گی تو ملک میں امن و امان کے مسائل بھی حل ہوں گے۔ صدر نے واضح کیا کہ یہ سینیٹ کے انتخابات کا سال ہے، عام انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام ایشوز اتفاق رائے سے طے کئے جائیں گے۔ انہوں نے حکومت اور اداروں کے درمیان تصادم کے تاثرکو غلط قرار دیا اور کہا کہ تمام ادارے آئین اور قانون کی حدود میں رہ کر کام کر رہے ہیں۔
صدرمملکت نے سال رواں کو عوام کی خدمت کیلئے وقف کرنے اور حکومتی کارکردگی میں اضافے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے عوامی حلقوں میں اس لحاظ سے اس کا خیرمقدم کیا جائے گا کہ اب جبکہ اس حکومت کی مدت ختم ہونے میں تقریباً ایک سال باقی رہ گیا ہے تو اسے کرنے کے وہ تمام کام یاد آ گئے ہیں جو پچھلے چار سال میں ہو جانے چاہئیں تھے۔ صدر نے درست کہا کہ امن و امان کا قیام اور معیشت کا استحکام حکومت کا ترجیحی ایجنڈا ہونا چاہئے۔ اس ایجنڈے پر چار سال پہلے عملدرآمد شروع ہو جاتا تو اس وقت ملک بے یقینی اور بے چینی کی موجودہ صورتحال سے دوچار نہ ہوتا۔ ذمہ دار اپوزیشن  آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کی صورت میں جوسازگار ماحول موجودہ حکومت کو میسر آیا وہ ماضی میں شاید ہی کسی حکومت کو نصیب ہوا ہو۔ تمام تر خرابیوں کے باوجود اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے اقتدار کیلئے کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہ کیا۔ عدلیہ آئین کی بالادستی اور قانون کی عملداری کیلئے حکومت کی مسلسل رہنمائی کرتی رہی اور میڈیا قومی مسائل کی بے لاگ نشاندہی کر کے اسے اصلاح احوال کی راہ دکھاتا رہا۔ حکومت چاہتی تو فکر و عمل کی ہم آہنگی کے ساتھ اس ماحول سے فائدہ اٹھا کر کم سے کم داخلی محاذ پر امن و امان اور معیشت کے شعبوں میں کامیابیاں حاصل کر سکتی تھی مگر وہ خود اپنے لئے ایک کے بعد دوسرا بحران پیدا کرتی رہی اور اس کی ساری توجہ اپنے اقتدار کو نادیدہ خطرات سے بچانے پر مرکوز رہی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت امن و امان قائم کر سکی نہ گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دے سکی۔ اقتصادی ترقی کے جن بڑے منصوبوں کا صدر نے ذکر کیا ہے ان کی آخری ایک سال میں تکمیل عملی طور پر ناقابل یقین ہے۔ مثال کے طور پر توانائی کے بحران ہی کو لے لیں۔ اس بحران نے پوری ملکی معیشت کو تہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔ پٹرولیم  گیس اور بجلی کی شدید قلت کی وجہ سے نہ صرف صنعتوں کا پہیہ رک گیا ہے بلکہ اس سے عام آدمی کی زندگی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ان تینوں بنیادی ضروریات کی تلاش اور فراہمی کیلئے برسوں کی مدت درکار ہوتی ہے۔ اگر پچھلے چار سال میں اس حوالے سے کوئی عملی کام شروع ہوتا اور اس کے لئے فنڈز کا انتظام بھی کر لیا جاتا تو کہا جا سکتا تھا کہ اس سال اس کے ثمرات کارخانوں  ٹرانسپورٹ کے شعبے اور گھریلو صارفین تک پہنچنا شروع ہو جائیں گے مگر اس شعبے میں زبانی جمع خرچ کے سوا شاید ہی کوئی پیشرفت ہوئی ہو۔ تھرکول پروجیکٹ کئی سو سال تک پورے ملک میں بجلی اور گیس کی ضروریات پوری کر سکتا ہے مگر اس پر کام تعطل کا شکار ہے کیونکہ حکومت اس کیلئے ضروری فنڈز مہیا نہیں کر سکی۔ یہی حال دوسرے منصوبوں کا ہے۔ فنڈز کی کمی کی بڑی وجہ بے تحاشا غیر پیداواری اخراجات  کرپشن  ناقص اقتصادی منصوبہ بندی  غیر ملکی قرضوں کا ناقابل برداشت بوجھ اور بدامنی کی وجہ سے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کا رک جانا ہے۔ عالمی بنک  ایشیائی ترقیاتی بنک اور آئی ایم ایف کے قرضوں میں ہمارا بال بال جکڑا ہوا ہے صرف اس مہینے ہمیں آئی ایم ایف کے ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر قرضے کی قسط ادا کرنی ہے۔ ہمارے اقتصادی منصوبہ سازوں کو اس معاشی زبوں حالی کا یا تو خود ادراک نہیں یا وہ ملک کی سیاسی قیادت کو سچ بتانے کی کوشش نہیں کر رہے اور سیاسی قیادت عوام کو حقیقت حال سے آگاہ کرنے کی بجائے کامیابیوں کے بلند و بانگ دعوؤں سے مطمئن کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس پس منظر میں حکومت نے انتخابی مصلحتوں کے تحت اس آخری سال میں اپنی کارکردگی دکھانے کیلئے کوئی ناممکن العمل منصوبہ شروع کیا اور اسے افراتفری اور جلد بازی میں مکمل کرنے کی کوشش کی تو کوئی بھی سمجھ سکتا ہے کہ عوام کیلئے اس کی افادیت کتنی ہو گی، کام کا معیار کیا ہو گا اور فنڈز کس طرح ضائع ہوں گے۔
وزیر اعظم گیلانی نے گزشتہ روز صاف طور پر کہا تھا کہ قبل از وقت انتخابات مئی میں قومی بجٹ کے اعلان کے بعد سیاسی جماعتوں کے صلاح مشورے سے کسی وقت بھی کرائے جا سکتے ہیں۔ یہ ملک کے چیف ایگزیکٹو کا وعدہ تھا مگر صدر زرداری نے یہ کہہ کر اس کی نفی کر دی ہے کہ2012ء سینیٹ کے انتخابات کا سال ہے۔ عام انتخابات اپنے وقت پر یعنی2013ء میں ہوں گے۔ قبل از وقت انتخابات ہوتے ہیں یا نہیں یہ حکومتی پارٹیوں اور اپوزیشن کے طے کرنے کا معاملہ ہے۔ اپوزیشن جہاں قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے وہاں اسے انتخابات کے مقررہ وقت پر منعقد ہونے پر بھی زیادہ اعتراض نہیں کیونکہ وہ چاہتی ہے کہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے اور اسے یہ بہانہ نہ ملے کہ ہمیں کام کرنے کیلئے پورا وقت نہیں دیا گیا اور جب موجودہ کارکردگی کے ساتھ عوام کے سامنے جائے تو عوام کے ذہنوں میں کوئی ابہام نہ ہو۔ تاہم اس حوالے سے صدر اور وزیراعظم کے انداز فکر میں فرق اس تضاد کو نمایاں کرتا ہے جس کی نشاندہی حکومت میں شامل اہم لوگوں کے بیانات سے ہوتی رہتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمران اہم قومی معاملات پر لوگوں کے ذہنوں میں ابہام پیدا کرنے سے گریز کریں۔ اس سے عوام میں پہلے سے موجود بے چینی اور پریشانی میں اضافہ ہو گا جو دوسروں کے ساتھ ساتھ خود حکومت کے حق میں بھی بہتر نہیں ہو گا۔



کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا پھیلتا دائرہ
کراچی میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ پیر کے روز بھی جاری رہا اور ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ اندھے قتل کے واقعات میں آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ فائرنگ کے واقعات کے بعد شہر میں کشیدگی پھیل گئی۔ ہلاک ہونے والوں میں بلوچستان اسمبلی کے رکن اور نواب اکبربگتی کے نواسے صاحبزادہ سردار بختیار ڈومکی کی اہلیہ، بیٹی اور ڈرائیور بھی شامل ہیں۔ پر تشدد واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 8 تک پہنچ گئی اور متعدد افراد زخمی بھی ہوگئے۔ پریشانی کی بات یہ ہے کہ کراچی میں ایسے المناک واقعات ایک معمول کی شکل اختیار کر چکے ہیں، حکومت کی طرف سے بظاہر موثر انتظامات کے بعد محض چند دن سکون کا وقفہ ہوتا ہے اس کے بعد پھر یہی خطرناک صورتحال تمام حکومتی دعوؤں اور یقین د ہانیوں کی قلعی کھول دیتی ہے۔ شہر میں بعض متحارب گروپوں کے مابین تصادم نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے یا ان پر قبضہ کرنے کی کوشش کے علاوہ لاکھوں خاندانوں کو ان کے گھروں میں محصور کر دیتے ہیں ۔ بعض اوقات رینجرز اور پولیس کا گشت بھی صورتحال پر قابو پانے میں مددگار ثابت نہیں ہوتا۔ ایسے تشویشناک واقعات کے بعد اعلیٰ سرکاری حکام وفاقی اور صوبائی وزراء جو اکثر زبانی یقین دہانیاں کرانے اور مجرموں کو گرفت میں لینے کے دعوے کرتے رہتے ہیں،مخدوش حالات کے تسلسل سے ان کی حقیقت کھل جاتی ہے۔ بلوچستان میں بھی اندھے قتل، اغواء اور بعض علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے قتل کی وارداتیں اوربوری بند لاشوں کا ملنا ایسے حقائق ہیں جن سے لوگوں میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہوتی ہے۔ اور لوگوں کے لئے معمولات زندگی انجام دینے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ بالخصوص ڈاکٹروں، اساتذہ، تاجروں، کاروباری افراد اراور صنعتکاروں میں پیدا ہونے والی بددلی سے لوگوں کے لئے بڑے پیمانے پر مسائل جنم لے رہے ہیں۔ اسی ضمن میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کراچی میں رونما ہونے والا حالیہ واقعہ اپنی سنگینی کے لحاظ سے جہاں انتظامی اقدامات کے ناکافی ہونے پر دلالت کرتا ہے وہاں اس امر کا بھی متقاضی ہے کہ اس واقعہ کے ذمہ داروں کو قانون کی گرفت میں لاکر ان کے خلاف قانونی کارروائی میں تاخیر نہ کی جائے اور ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں بھی امن و سلامتی کی فضا کو بہتربنانے کے لئے سنجیدگی سے کوششیں کی جائیں۔ یہاں اس پہلو پر بھی توجہ رہنی چاہئے کہ کراچی میں رونما ہونے والا حالیہ واقعہ بین الصوبائی کشیدگی میں اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔



















اہم بیرونی روابط