مہران بینک اسکینڈل ...قلم کمان …حامد میر

کچھ مقدمات کا فیصلہ عدالتیں نہیں بلکہ تاریخ کرتی ہے، پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے میمو گیٹ اسکینڈل میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ معاملہ طول پکڑرہا ہے لیکن تاریخ فیصلہ دے چکی ہے۔ اس اسکینڈل کے ساتھ وہی ہوا ہے جومہران بینک اسکینڈل کے ساتھ ہوا تھا۔ 20اپریل 1994ء کو اس وقت کے وزیر داخلہ میجر جنرل ریٹائرڈ نصیر اللہ بابر نے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا کہ سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ نے آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر 1990ء میں پیپلز پارٹی کے مخالفین میں 14کروڑ روپے تقسیم کئے۔ بعدازاں انہوں نے اس اسکینڈل کے ایک مرکزی کردار سابق ڈی جی آئی ایس آئی سے بیان حلفی حاصل کرلیا کہ واقعی صدر غلام اسحاق خان اور آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کی مرضی سے سیاستدانوں میں رقوم تقسیم کی گئیں۔ ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان اس معاملے کو 1996ء میں سپریم کورٹ میں لے گئے اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے مہران بینک اسکینڈل کی تحقیقات شروع کر دیں۔ سجاد علی شاہ اور نواز شریف میں کشیدگی کے باعث یہ عام خیال تھا کہ سپریم کورٹ نواز شریف کو آئی ایس آئی سے رقم لینے کے الزام میں نااہل قرار دیدے گی لیکن اس دوران جسٹس رفیق تارڑ اور جسٹس سعید الزمان صدیقی نے جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف بغاوت کر دی اور چیف جسٹس کی چھٹی ہوگئی۔ نئے چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی نے مہران بینک اسکینڈل کی سماعت شروع کی تو نصیر اللہ بابر نے عدالت میں کچھ مزید دستاویزات پیش کر دیں۔ یہ وہ دور تھا جب وزیراعظم فوج اور آئی ایس آئی چاہتے تھے کہ یہ معاملہ کسی طرح دبا دیا جائے لہٰذا سپریم کورٹ نے اس اہم مقدمے میں اپنے فیصلے کوفائلوں میں محفوظ کر دیا۔ سپریم کورٹ نے نہیں بتایا کہ آئی ایس آئی نے کوئی غیر آئینی کام کیا یا نہیں، سپریم کورٹ نے یہ بھی نہیں بتایا کہ کس سیاستدان نے کتنے پیسے لئے لیکن تاریخ نے اپنا فیصلہ دیدیا کہ آئی ایس آئی نے سیاستدانوں میں کروڑوں تقسیم کرکے ایک جرم کا ارتکاب کیا۔ آئی ایس آئی عدالت کے فیصلے سے بچ گئی لیکن تاریخ کا فیصلہ آج تک بھگت رہی ہے کیونکہ تاریخ عدالتی فیصلوں کی محتاج نہیں ہوتی۔
میمو گیٹ اسکینڈل کا بھی آئی ایس آئی سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ میمو گیٹ اسکینڈل کی کہانی 2مئی 2011ء کو ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن سے شروع ہوتی ہے، یہ وہ دن تھا جب دنیا کی واحد مسلم ایٹمی طاقت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سلامتی خود مختاری ہم سب کے لئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن گئی۔ ہم دس سال تک پوری دنیا کو کہتے رہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں نہیں ہے لیکن 2مئی 2011ء کو امریکی فوج کے کمانڈو افغانستان سے ہیلی کاپٹروں میں بیٹھ کر آئے وہ ایبٹ آباد میں پاکستان ملٹری اکیڈمی سے کچھ فاصلے پر بلال ٹاؤن میں اترے، اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کیا اور پھر ان کے جسد خاکی کو لے کر واپس چلے گئے۔ امریکی ہیلی کاپٹر دو گھنٹے تک پاکستان میں موجود رہے لیکن ہماری فوج،ایئر فورس اور آئی ایس آئی کو کچھ پتہ نہ چلا۔ امریکی صدر بارک اوبامہ نے جیسے ہی ایبٹ آباد آپریشن کی کامیابی کا اعلان کیا تو سیاسی و فوجی قیادت دنگ رہ گئی۔ ہم جیسے صحافی پورے عالمی میڈیا کے نشانے پر تھے جو اپنی سیاسی و فوجی قیادت کے اس موقف کی تائید کیا کرتے تھے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں نہیں ہے۔ آئی ایس آئی کے بارے میں بہت سے سوالات اٹھائے جا رہے تھے لیکن کہیں سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں آرہا تھا۔ پھر مہران بیس کراچی پر حملہ ہوگیا جہاں پاکستان نیوی کے جاسوس طیارے تباہ کر دیئے گئے۔ عام پاکستانی پوچھنے لگے کہ جو فوج اپنی حفاظت نہیں کرسکتی وہ پاکستان کی کیا حفاظت کریگی؟ فوج شدید دباؤمیں تھی۔ حکومت میں شامل جماعتیں فوج کا تحفظ کر رہی تھیں لیکن فوجی قیادت امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی سے نالاں تھی۔
10اکتوبر 2011ء کو برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں حسین حقانی کے ایک امریکی دوست منصور اعجاز نے ایک مضمون لکھ دیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2مئی کے ایبٹ آباد آپریشن کے چند دن بعد انہوں نے ایک سفارتکار کی مدد سے ایک خفیہ میمو تیار کیا تھا جس میں امریکی صدر سے کہاگیا گیا تھا کہ وہ پاکستان کی جمہوریت کو ایک ممکنہ فوجی بغاوت سے بچائیں۔ منصور اعجاز نے سفارتکار کا نام نہیں لکھا لیکن 30اکتوبر کو عمران خان نے لاہور میں ایک بہت بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سفارتکار حسین حقانی تھے۔ حقیقت میں30اکتوبر میمو گیٹ اسکینڈل کی ابتداء تھی۔ پھر معلوم ہوا کہ ڈی جی آئی ایس آئی احمد شجاع پاشا اس جلسے سے چند دن قبل لندن میں منصور اعجاز سے ملاقات کر چکے ہیں اور آرمی چیف کو رپورٹ دے چکے ہیں کہ میمو ایک حقیقت ہے۔ ابتداء میں ڈی جی آئی ایس آئی کا ہدف صرف حسین حقانی تھے لیکن جب میڈیا نے اس معاملے کو ایک بہت بڑے اسکینڈل میں تبدیل کر دیا تو کچھ لوگوں نے سوچا کہ کیوں نہ اس طوفان میں آصف علی زرداری کو پاکستان سے بھگا دیا جائے۔ آصف علی زرداری کو بھگانے کا بہترین طریقہ یہ تھا کہ مسلم لیگ (ن) پارلیمینٹ کے اندر ق لیگ، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں کو اپنے ساتھ ملاتی اور پارلیمینٹ سے باہر عمران خان کے ساتھ ہاتھ ملاتی۔ پیپلز پارٹی صرف ایک ہفتے میں حکومت سے باہر ہوجاتی لیکن نوازشریف نے سیاسی راستہ اختیار کرنے کی بجائے سپریم کورٹ کا رخ کیا۔ یہاں سے غلط فہمیوں کاآغاز ہو گیا اور پھرپیپلز پارٹی نے سیاسی شہید بننے کی ٹھان لی۔ بڑے بڑے تجزیہ نگار اور تیس مار خان ٹائپ صحافیوں نے صورتحال کو سمجھنے میں غلطیاں کیں۔ یہ درست ہے کہ سسٹم واقعی خطرے میں تھا لیکن کچھ بادشاہ گر خود سامنے آنے کی بجائے عدلیہ اور میڈیا کا کندھا استعمال کرنا چاہتے تھے تاکہ کل کو کہہ سکیں کہ ہم تو بالکل بے قصور ہیں، ہمیں تو عدلیہ نے حکم دیا اور ہم حکم کی تعمیل میں سیاستدانوں کی پکڑ دھکڑ کر رہے ہیں۔ جیسے ہی نواز شریف کو بادشاہ گروں کی نیت پر شک ہوا وہ پیچھے ہٹ گئے۔ عمران خان نے بھی اعلان کر دیاکہ وہ انتخابات کے سوا کسی دوسرے طریقے سے حکومت میں نہیں آئیں گے۔ عدلیہ نے بھی واضح کر دیا کہ غیر آئینی مداخلت تسلیم نہیں کی جائے گی۔ میڈیا میں جمہوریت کی حمایت کرنے والوں پر عاشقان زرداری کے فتوے لگا کر انہیں خاموش کرنے کی کوشش کی گئی لیکن فتوے لگانے والے بھول چکے تھے کہ آئی ایس آئی کے سیاسی کردار کے عاشقوں کا دور گزر چکا ہے۔ یہ فتوے ان سر پھروں پر لگ رہے تھے جنہیں ماضی میں آصف علی زرداری کے کہنے پر نوکریوں سے بھی نکالا گیا اور پابندیوں کا شکار بھی کیا گیا۔ جھوٹوں کا منہ کالا ہوگیا۔ ان کا زعم تقویٰ بھی ان کی عزت نہ بچا سکا۔ آپ لوگ ٹیلیویژن پر ان کی شکلیں دیکھ کر ہنسنے لگتے ہیں۔ انہوں نے آصف علی زرداری کو کمزور نہیں مضبوط کیا ہے۔ تاریخ فیصلہ دے چکی ہے۔ میمو گیٹ اسکینڈل کا قصہ تمام ہوا۔ اس اسکینڈل نے صرف اور صرف قوم کا وقت برباد کیا۔ اس میں سے کچھ نہیں نکلے گا۔ جس طرح کھسیانی بلی کھمبا نوچتی ہے اسی طرح اب ہمارے کچھ ساتھی دوبارہ مہران بینک اسکینڈل پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ وہ آئی ایس آئی کو نہیں نواز شریف کو سزا دینا چاہتے ہیں لیکن یاد رکھئے گا کہ نواز شریف بچ جائیں گے۔ اس اسکینڈل میں کل بھی تاریخ کا فیصلہ آئی ایس آئی کے خلاف تھا، آئندہ بھی آئی ایس آئی کے خلاف ہوگا۔ آئی ایس آئی کو چاہئے کہ سیاست کو خیرباد کہے اورصرف اپنے کام سے کام رکھے یہی ہم سب کے مفاد میں ہے۔



















اہم بیرونی روابط