منصوبے باز کا نیا منصوبہ....کٹہرا…خالد مسعودخان
منصوبے باز ایک غیرعملی آدمی ہے۔ وہ صرف منصوبے بنا سکتا ہے مگر ان کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتا۔ اس کے قریباً سارے منصوبے صرف اس کی ذات تک ہی رہ جاتے ہیں۔ اس کے منصوبوں کی عملی طور پر ناکامی میں میرا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔ میرا ہاتھ اس طرح ہے کہ وہ اپنے تمام منصوبے مجھ سے بیان کرتا ہے اور امید ہی نہیں بلکہ یقین رکھتا ہے کہ میں اس کے کاغذی منصوبوں اور خیالی ارادوں کو یا تو بذات خود پایہ تکمیل تک پہنچا سکتا ہوں یا اس کے لئے اسباب فراہم کرسکتا ہوں۔ اس کی ناکامی کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ مجھ جیسے سست اور کاہل الوجود شخص سے ایسی امیدیں وابستہ کئے بیٹھا ہے۔ یہ بالکل ایسی حرکت ہے جیسے کوئی حجام سکھوں کے محلے میں دکان کھول لے۔ تاہم اس کی اس واحد حماقت کے علاوہ میں اس کے اکثروبیشتر منصوبوں سے نہ صرف متفق ہوں بلکہ اس کی ذہنی استعداد اور منصوبہ سازی کی اہلیت کا دل و جان سے قائل ہوں۔
پچھلی سے پچھلی بار وہ ایک نہایت کارآمد اور نفع بخش منصوبہ لے کر میرے پاس آیا لیکن میری نااہلی اور نالائقی کی وجہ سے وہ اپنے اس منصوبے کو عملی صورت نہ دے سکا۔ وہ مجھ سے کہنے لگا کہ وہ اسلام آباد میں ایوان صدر کرائے پر لینا چاہتا ہے۔ یہ تب کی بات ہے جب سابق صدر جنرل پرویز مشرف راولپنڈی میں واقع آرمی ہاؤس میں رہائش پذیر تھا اور ایوان صدر قریباً خالی پڑا تھا۔ وہ مجھ سے کہنے لگا کہ وہ خالی اور بیکار پڑے ہوئے ایوان صدر کو تین کروڑ چالیس لاکھ بیس ہزار روپے ماہانہ کرائے پر لینا چاہتا ہے۔ مجھے اس کی بات سن کر بڑی حیرانی ہوئی ۔ میں نے پوچھا کہ وہ اتنی بڑی عمارت کو کرائے پر لے کر کیا کرے گا؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ اتنا کرایہ کہاں سے ادا کرے گا؟ منصوبے باز کہنے لگا کہ ایک قلندر اور درویش آدمی ہے اور ایک کمرے میں تین چار حصہ داروں کے ساتھ بھی گزارا کرسکتا ہے۔ وہ دراصل اسلام آباد میں موجود خالی پڑے ہوئے ایوان صدر کو بیکار دیکھ کر دکھی ہوتا ہے۔ مزید برآں ملکی دگرگوں معاشی صورتحال اسے اور زیادہ دکھی کرتی ہے۔ اس کے منصوبے سے نہ صرف ایوان صدر آباد ہو جائے گا بلکہ ملکی معیشت میں اس کے تین کروڑ چالیس لاکھ بیس ہزار ماہانہ جو سالانہ چالیس کروڑ بیاسی لاکھ چالیس ہزار بنتے ہیں شامل ہو کر بہتری پیدا کریں گے اور وہ ایک محب وطن پاکستانی کے طور پر اپنے ملک کی خدمت کرکے خوشی بھی محسوس کرے گا۔
میں نے تفصیل پوچھی تو کہنے لگا میں ایوان صدر کو گیسٹ ہاؤس میں تبدیل کردوں گا اور اس سے نفع کماؤں گا۔ مزید بتانے لگا کہ ایوان صدر کا ماسٹر بیڈ روم ، مین لاؤنج ، پورچ ، ایک کچن ، ایک مہمان خانہ اور ایک سرونٹ کوارٹر صدر پاکستان کی ایمرجنسی ضروریات کے مدنظر ہمہ وقت خالی اور صاف حالت میں تیار رکھے گا اور بوقت ضرورت صدرپاکستان کو بالکل فری استعمال کرنے دے گا۔ میں نے پوچھا کہ وہ اتنا زیادہ کرایہ کیسے اور کہاں سے ادا کرے گا تو وہ کہنے لگا کہ وہ دراصل حکومت کو صرف بیس ہزار روپے مہینہ ادا کرے گا۔ میں نے کہا کہ ابھی وہ کہہ رہا تھاکہ وہ تین کروڑ چالیس لاکھ بیس ہزار روپے ماہانہ کرایہ دے گا اور اب محض بیس ہزار کہہ رہا ہے۔ بقیہ تین کروڑ چالیس لاکھ روپے کہاں گئے؟ وہ کہنے لگا جب وہ ایوان صدر کرائے پر لے گا تو اس پر ہونے والے حکومتی اخراجات جو قریباً تین کروڑ چالیس لاکھ روپے ماہانہ ہیں بچ جائیں گے۔ اوپر سے میں بیس ہزار روپے نقد سکہ رائج الوقت ادا کروں گا تو حکومت کو بیس ہزار روپے آمدنی اور تین کروڑ چالیس لاکھ کی بچت کل ملا کر تین کروڑ چالیس لاکھ بیس ہزار روپے ماہانہ کا فائدہ ہوگا۔
پھر وہ بتانے لگا کہ اس نے یہ فارمولا قائد اقبال ایڈووکیٹ سے سیکھا ہے۔ جب اس نے اپنی ذاتی پریکٹس شروع کی تو اس کی پہلے ہی مہینے کی آمدنی پچاس ہزار تھی۔ تفصیل پوچھی تو قائد اقبال نے بتایا کہ وہ اپنی جائیداد کے مقدمات کے سلسلے میں قریباً ہر تیسرے دن کچہری آتا تھا اور اپنے تمام مقدمات کی مد میں وکیلوں اور منشیوں کو قریباً اڑتالیس ہزار روپے ادا کرتا تھا۔ اس ماہ اسے دو ہزار روپے معاوضے کا ایک کیس ملا ہے اور اڑتالیس ہزار کا خرچہ بچا ہے۔ اسے توبہرحال پچاس ہزار کی آمدنی ہوئی ہے۔ دوہزار نقد اور اڑتالیس ہزار کی بچت ہوئی ہے۔
پچھلی مرتبہ آیا تو کہنے لگا مجھے پی آئی اے کا منیجنگ ڈائریکٹر بنوا دو تو میں پی آئی اے کا خسارہ کم کردوں گا۔ میں نے کہا وہ کیسے؟ تو کہنے لگا میرے پاس خسارہ کم کرنے کا شاندار منصوبہ ہے۔ میں نے تفصیل پوچھی تو کہنے لگا کہ پی آئی اے کا سابقہ ایم ڈی قریباً سولہ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لیتا تھا۔ لاکھ ڈیڑھ لاکھ کا پٹرول پھونکتا تھا۔ میں نے کہا اسے کیسے پتہ ہے کہ وہ لاکھ ڈیڑھ لاکھ کا پٹرول پھونکتا تھا۔ وہ ہنسا اور کہنے لگا اخبار میں آیا ہے کہ اس کے تین چار سرکاری موبائل فونوں کا بل قریباً سینتیس لاکھ آیا تھا جس کے موبائل فونز کا اوسطاً ماہانہ بل تین لاکھ سے زیادہ ہو بھلا اس کی گاڑی کس طرح پیچھے رہ سکتی ہے۔ سابقہ ایم ڈی کا کل ماہانہ خرچہ بمعہ تنخواہ پچیس لاکھ روپے کے قریب تھا۔ پی آئی اے کی جو اب حالت ہے اس سے زیادہ خراب ہونا تو ممکن نہیں ہے۔ وہ یہی کام دو لاکھ روپے ماہانہ میں کرنے کو تیار ہے۔ اس طرح حکومت کو قریباً تیئس لاکھ روپے ماہانہ یعنی دو کروڑ چھیہتر لاکھ روپے کی بچت ہوگی۔ خسارے کو نفع میں بدلنے کا پہلا قدم خسارے کو کم کرنا ہے اور میں گارنٹی دیتا ہوں کہ ایم ڈی بنتے ہی پونے تین کروڑ سالانہ خسارہ کم کردوں گا۔ اس کی تجویز سن کر میرے تو اپنے منہ میں پانی آگیا تھا۔
اب کل آیا تو ایک اور منصوبہ لے کر آیا۔ کہنے لگا کہ اگر میں اس کے منصوبے کے لئے پچاس لاکھ کی سرمایہ کاری کردوں تو وہ مجھے آئندہ الیکشن کے سیزن میں ایک کروڑ روپے واپس کرے گا۔ میں نے پھر تفصیل پوچھی تو کہنے لگا کہ دراصل آئندہ الیکشن سے قبل ایک ”ڈسپوزایبل بومرینک“ جوتے بنانے کی فیکٹری لگانا چاہتا ہے۔ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ یہ ”ڈسپوزایبل بومرینک“ کیا ہوتے ہیں۔ وہ کہنے لگا تمہیں پتہ ہی ہوگا کہ ماضی قریب سے شروع ہونے والی جوتا بازی کی تاریخ کیا ہے۔ موجودہ دور میں سیاسی بنیادوں پر سب سے پہلے جوتا ارباب رحیم کو سندھ اسمبلی میں پڑا تھا۔ اس کے بعد دوسرا تاریخی جوتا بغداد میں منتظر الزیدی نے صدر بش کو مارا تھا۔ تیسرا قابل ذکر جوتا چائنا کے وزیراعظم کو انگلینڈ میں پڑا تھا۔ چوتھا مشہور جوتا لبنان میں اسرائیلی سفیر کو مارا گیا تھا۔ پانچواں جوتا بھارتی لوک سبھاکے الیکشن میں پانچ امیدواروں کو مارا گیاتھا۔ چھٹا مقدس جوتا انگلینڈ میں صدر پرویز مشرف کو ، ساتواں برمنگھم میں صدر زرداری کو ، آٹھواں جوتا انڈیا میں پچھلے ہی ہفتے راہول گاندھی کو مارا گیا تھا۔ اپنی حکومت کی چار سالہ کارکردگی کو مدنظررکھتے ہوئے مجھے یقین ہے کہ آئندہ الیکشن میں لوگ سابقہ ارکان اسمبلی کو بے بھاؤ جوتے ماریں گے۔ میں ایسے جوتے کا ڈیزائن بنانے میں کامیاب ہوگیا ہوں جو نہایت ہلکا ، بے ضرر اور نہایت ہی سستا ہوگا جسے امیدوار جلسہ گاہ میں آنے والے ہر شخص کو مفت پہنائے گا تاکہ وہ جوتا بازی سے محفوظ رہ سکے۔ یہ جوتا ایسا ہوگا کہ مارنے کی صورت میں چار یا پانچ گز سے زیادہ دور نہیں جائے گا اور واپس گھوم کر قدیم آسٹریلین باشندوں کے ہتھیار ”بومرینک“ کی طرح نشانہ خطا ہونے کی صورت میں واپس پلٹ کر آئے گا اور مارنے والے کے منہ پر پڑے گا۔ اگرا سٹیج اور سامعین کے درمیان دس گز کا فاصلہ رکھا جائے تو مقرر یا اسٹیج پر بیٹھے کسی شخص کو جوتا مارنا ممکن نہیں ہوگا۔
پھر کہنے لگا تم شرط لگا لو اس دفعہ الیکشن پر مہنگائی ، بے روزگاری ، عدم تحفظ ، انصاف سے محروم ، بجلی ، گیس کے ستائے ہوئے عوام حکمران پارٹی سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو اتنے جوتے ماریں گے کہ اس کا ریکارڈ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج ہوگا۔ میرا بنایا ہوا جوتا اتنا مقبول ہوگا کہ اس کاذکر بھی اسی کتاب میں ہوگا۔ پھر مسمسی سی شکل بنا کر کہنے لگا ایک کام اور کرنا۔ اس جوتے کو انٹیلکچوئل پراپرٹی رائٹس والوں کے پاس میرے نام سے رجسٹرڈ بھی کروا دینا۔
آپ یقین کریں مجھے اس کا یہ منصوبہ بھی زبردست لگا ہے لیکن میں اس جوتے کے طفیل پچھلے چار سال سے مصائب اور مسائل میں گھرے ہوئے گھٹن زدہ لوگوں کی آخری تفریح ضائع ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔







































