یہاں تک تو پہنچے....سویرے سویرے…نذیر ناجی
آج سے ٹھیک 14دن بعد انتخابات کو چار سال پورے ہو جائیں گے۔ یہ چار سال جمہوریت کے مخالفین پر بھی بھاری گزرے۔ حامیوں پر بھی اور عوام پر بھی۔ مخالفین کی خواہش یہ تھی کہ جس قدر جلد ہو سکے‘ جمہوریت کو ختم کر کے دوبارہ فوجی حکومت قائم کی جائے۔ ابھی ایک سال پورا نہیں ہوا تھا کہ فوج کو دعوتیں دینے والے سرگرم ہو گئے تھے اور پیش گوئیاں کرنے لگے تھے کہ کسی بھی وقت حکومت کو برطرف کیا جا سکتا ہے۔ ایک خاص سٹریٹجی کے تحت صدر زرداری کو بطور خاص نشانہ بنایا گیا۔ ایسا کرنے والوں کا خیال تھا کہ اگر ہم جمہوری حکومت کو زرداری حکومت کا نام دیں گے‘ تو عوام میں جمہوریت کے خلاف زیادہ مخالفانہ جذبات ابھریں گے۔ اس ترکیب کی بنیاد یہ تصور تھا کہ آصف زرداری کے خلاف برسوں سے کردار کشی کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ ان پر مقدمے چلائے گئے ہیں اور ایسے انداز میں ان مقدموں کو طول دیا گیا ہے کہ زرداری اپنے آپ کو بیگناہ بھی ثابت نہ کر سکیں ۔ وہ کئی مقدمات میں بری ہوتے رہے لیکن ان کے مخالفین نے اس پہلو کو کبھی اجاگر نہیں ہونے دیا اور ان کی کردار کشی ان مقدمات کی بنیاد پر جاری رہی‘ جن کے فیصلے نہیں ہو رہے تھے۔ اسی صورتحال کے دوران ان کی زندگی کے 9قیمتی سال جیلوں کے اندر گزر گئے۔ صدر بن کر ان کی نئی زندگی کا آغاز ہوا۔ انہیں اپنی پارٹی کو بھی سنبھالنا تھا۔ نئی نئی جمہوریت کو بھی سہارا دینا تھا اور مخالفین کو بھی ساتھ لے کر چلنا تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کردار کشی کی مہم کا سامنا بھی کرنا تھا اور ان سب سے مشکل کام فوج کو اس ترغیب سے بچانا تھا‘ جو جمہوریت کے مخالفین زوروشور سے اقتدار پر قبضے کے لئے فوج کو دے رہے تھے۔
دوسری طرف میڈیا میں صدر زرداری کے حامیوں کی تعداد برائے نام تھی اور جو لوگ ان کی حمایت میں لکھتے بھی تھے‘ وہ بہت احتیاط سے کام لے رہے تھے۔ ان میں سے بھی بیشتر محض تعریف و ستائش تک محدود تھے۔ معروضی حالات کی روشنی میں دلائل سے کام لے کر جمہوریت کی جارحانہ حمایت کرنے کا جو راستہ میں نے اختیار کیا‘ وہ دشوار تھا۔ اکثر لوگ یہ سوچتے تھے کہ میں صدر زرداری اور حکومت کا حواری یا حامی ہوں۔ جبکہ میں صرف جمہوریت کی حمایت میں ایسا کر رہا تھا اور صدر زرداری کی حمایت کی واحد وجہ یہ تھی کہ ان کے مخالفین نے ان کی شخصیت کو نشانہ بنا کر‘ جمہوریت پر ضربیں لگانے کی حکمت عملی اختیار کر رکھی تھی۔ میں اس حکمت عملی کو بے نقاب کرتا‘ تو عام آدمی تک بات پہنچانا مشکل ہوتا۔ اس لئے میں نے بھی اسی طریقہ کار کو ہدف تنقید بنایا۔ پیپلزپارٹی کی جو حکومت مخدوم یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں قائم کی گئی تھی‘ اس میں شامل کچھ عناصرمثالی کردار اور کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے تھے۔ وزیراعظم سمیت بہت سے لوگوں کے بارے میں ایسی کہانیاں زبان زدعام ہو گئیں‘ جن کا دفاع بہت مشکل تھا۔ میں نے حکومت کا دفاع کر کے اس کی کارکردگی کی تعریف سے بڑی احتیاط کے ساتھ گریز کیا۔ اگر میں یہ راستہ اختیار کرتا‘ تو جمہوریت کے دفاع کی مہم غیرموثر ہو جاتی اور مجھ پر کرپشن کی حمایت کا الزام لگ جاتا۔ میں اس صورتحال سے بچنا چاہتا تھا۔ صورتحال کچھ ایسی بن گئی تھی کہ کرپشن میں ملوث عناصر اپنی حکومت کو عارضی اور غیرمستحکم سمجھ کر اپنی سرگرمیوں میں تیزی اور بے احتیاطی سے مصروف تھے اور بعض عدالتی فیصلوں میں نہ صرف کرپشن کے بڑے بڑے واقعات بے نقاب ہوئے۔ بلکہ کثیر سرمایہ بھی کرپشن کرنے والوں سے واپس لے کر سرکاری خزانے میں جمع کرایا گیا۔ یہی صورتحال تھی جسے دیکھتے ہوئے میں نے ایک سال پہلے صدر زرداری کو براہ راست تجویز دی کہ فوری طور پر کرپشن کا نوٹس لیں اور اگر وہ کوئی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں تو کم از کم وزیراعظم کو خطوط لکھ کر اپنی تشویش اور عوام کی پریشانی کو ریکارڈ پر ضرور لائیں۔جمہوریت کے ایک حامی کی حیثیت میں میرے لئے یہی ممکن تھا۔
جمہوریت پر ہر طرف سے اتنے شدید اور کاری حملے ہو رہے تھے کہ خود اراکین پارلیمنٹ بھی بے یقینی کا شکار ہو گئے تھے۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ جب چیف آف آرمی سٹاف کا حوالہ دے کر باقاعدہ وہ مہینہ بتا دیا جائے ‘ جس میں وہ کچھ کر گزرنے کا ارادہ ظاہر کر چکے ہوں‘ تو جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کے پاس اعتماد کی کونسی وجہ رہ جاتی ہے؟ میں اس کالم کا حوالہ دے رہا ہوں‘ جو ایک بزرگ نے 2009ء کے اوائل میں لکھا تھا۔ انہوں نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل کیانی سے ایک طویل ملاقات کا حوالہ دیا اور اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر اپنی طرف سے یہ تجزیہ پیش کیا کہ جنرل کیانی مارچ تک کوئی اقدام کرنے والے ہیں اور اپنی اس ملاقات میں شامل ایک اور شخصیت کا نام لئے بغیر ذکر کیا اور بتایا کہ وہ اس گفتگو کے گواہ ہیں۔ بعد میں پتہ چلا کہ شریک گفتگو شخصیت کا نام شفقت محمود تھا۔ مارچ کا مہینہ گزر گیا لیکن حکومت برقرار رہی۔ حال میں ایک اور انکشاف ہوا کہ عسکری ذرائع کی طرف سے سعودی حکومت کے کچھ عہدیداروں تک یہ پیغام بھیجا گیا کہ آپ ہمیں امریکہ سے کلیرنس لے دیں‘ تو ہم زرداری حکومت کو فارح
غ کر سکتے ہیں۔ اس کوشش کی وجہ یہ خیال تھا کہ سعودی حکمران زرداری حکومت سے خوش نہیں ہیں۔ نوازشریف کا لانگ مارچ بھی ایک ایسا ہی واقعہ تھا۔ اس کے دوران بھی اچھے بھلے لوگ یہ سوچ بیٹھے تھے کہ اس مرتبہ جمہوری حکومت کا بچنا ممکن نہیں۔ میڈیا کے بڑے بڑے معتبر بھی اپنے نام سے وثوق سے پیش گوئیاں کر رہے تھے کہ زرداری حکومت کا بچنا ممکن نہیں رہ گیا۔ ان لوگوں نے بھی لگاتار تاریخیں دیں اور کئی ایک نے تو یہ بھی بتایا کہ زرداری صاحب ایوان صدر سے کس طرح نکلیں گے؟ کچھ نے براہ راست جنرل کیانی کو مخاطب کر کے دعوت دی گئی کہ وہ عوام کو مزید انتظار نہ کرائیں اور جمہوریت کی بساط لپیٹ دیں۔ کیری لوگر بل میں جب جمہوریت کو پاک امریکہ تعلقات کا بنیادی عنصر قرار دیا گیا‘ تو کورکمانڈرز کی طرف سے غیرمعمولی طور پر براہ راست احتجاج کر دیا گیا‘ جو حکومتی پالیسی کے برعکس تھا اور یہ خبریں پھیلائی گئیں کہ بل میں جمہوریت سے متعلق جو الفاظ شامل کئے گئے ہیں‘ اس کے ذمہ دار امریکہ میں اس وقت کے پاکستانی سفیر حسین حقانی ہیں۔ جمہوریت کے حق میں اگر انہوں نے کچھ کیا بھی تھا‘ تو یقینی طور پر اسے جرم نہیں کہا جا سکتا۔ جس کی بعد میں انہیں سزا دی گئی۔ لیکن الزام لگانے والوں کو شاید یہ اندازہ نہیں کہ امریکہ میں تو صدر بھی کانگریس کی کارروائی پر اثرانداز نہیں ہو سکتا۔ پاکستان جیسے ایک غریب ملک کا سفیر ‘ امریکی کانگریس میں پاس ہونے والے کسی بل کی ڈرافٹنگ میں دخیل ہو سکتا ہے‘ یہ مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ لیکن حسین حقانی کے مخالفین نے انہیں وہ اعزاز دے دیا‘ جس کی انہیں خود بھی کبھی امید نہ رہی ہو گی۔ یہاں میں اپوزیشن کا ذکر اس انداز میں نہیں کروں گا ‘ جیسے پیپلزپارٹی کے لوگ کرتے ہیں اور وہ یہ کہ نوازشریف نے حکومت کو ناکام بنا کر اسے ہٹانے کی بہت کوششیں کیں۔ یقینا حالات اور حکومت کے ظاہری عدم استحکام کو دیکھتے ہوئے‘ کوئی بھی اپوزیشن لیڈر قبل ازوقت انتخابات کے امکان کو آزمانے کی خواہش کو نہیں روک سکتا۔ نوازشریف نے بھی یہ کوششیں کیں۔ لیکن جب بھی انہیں یہ خطرہ نظر آیا کہ فوج ان کی کوششوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر سکتی ہے‘ تو وہ ایسے ہر وقت پر کھل کر سامنے آئے اور صاف کہا کہ اقتدار پر فوج کا قبضہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ حکومت کے مخالفین نوازشریف کی اس پالیسی پر بہت پریشان ہوئے اور میڈیا کے جو عناصر یہ توقع رکھتے تھے کہ ان کی مخالفانہ پالیسیاں حکومت کو ہٹانے والوں کی خواہشیں پوری کریں گی‘ انہیں شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے طعنے کے طور پر نوازشریف کو فرینڈلی اپوزیشن کا نام دے دیا۔ بہرحال جمہوریت کسی نہ کسی طرح بچتی چلی آئی اور چند ہی دنوں کے بعد اس کا پانچواں سال شروع ہونے والا ہے۔ جسے روایتی طور پر الیکشن کا سال کہا جاتا ہے۔ لیکن بے یقینی کی کیفیت چند روز پہلے تک بھی تھی۔ دو تین ہفتے پہلے جب میں نے حامد میر کے ایک شو میں یہ کہا کہ سینٹ کے انتخابات بھی ہوں گے اور بجٹ بھی یہی حکومت پیش کرے گی اور اس کے بعد انتخابات ہوں گے‘ تو اس وقت بھی میری بات پر یقین نہیں کیا جا رہا تھا۔ صرف اے این پی کے سینیٹر زاہد خان نے میری بات سے اتفاق کیا۔ لیکن اب بادل چھٹ چکے ہیں۔ اب صاف دکھائی دینے لگا ہے کہ سینٹ کے الیکشن بھی ہوں گے اور بجٹ بھی یہی حکومت پاس کرے گی اور الیکشن بھی انشاء اللہ اکتوبر میں ہو جائیں گے۔ ہم تمام تر مشکلوں ‘ مزاحمتوں اور سازشوں کے باوجود اپنی جمہوریت کو یہاں تک لے آئے ہیں۔ یہ آسان کام نہیں تھا لیکن عوام کے عزم و ارادے اور صبر اور صدر زرداری کی کامیاب حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ ہم یہاں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ لیکن پاکستانی جمہوریت کو اتنا مضبوط کبھی نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ خطروں سے محفوظ ہو گئی ہے۔ یہ خطرے کئی سال تک موجود رہیں گے۔ جب تک مارشلاؤں میں پروان چڑھنے والی دو تین نسلوں کے اثرات باقی رہیں گے۔جمہوریت کو لاحق خطرات بھی موجود رہیں گے۔







































