آزادی وعید میلہ 2011 بارسلونا " تحریر شفقت علی رضا
بارسلونا کی تاریخ میں پاکستانی کمیونٹی نے ہمیشہ تفریح کو پسند کیا ہے دیار غیر میں کوئی بھی تفریح ہو وہ وطن اور اپنوں سے دوری کے دکھ کو کم کرنے میں کارگر ثابت ہوتی ہے یورپ یا دنیا بھر میں مقیم پاکستانی جہاں اپنے دیس میں بسنے والوں کو نہیں بھولتے اسی طرح وہ اپنے دیس اور معاشرے کے رسم و رواج کو بھی اپنے ذہنوں میں بسائے پھرتے ہیں وہ اپنی بولی اور اپنے ملک کے وقار کو بھی ایک یاد بنائے دل سے لگائے رکھتے ہیں جب کبھی 14 اگست ،6 ستمبر ، 23 مارچ ،علامہ اقبال ڈے ،قائد اعظم محمد علی جناح ڈے یا کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرنے کے دن دیار غیر میں رہتے ہوئے منانے کا وقت آجائے تو پاکستانی بڑھ چڑھ کر اور سج دھج کے ساتھ ان دنوں کو منانے میں فخر محسوس کرتے ہیں ،جہاں پاکستانی دنوں اور رسم و رواج کو یاد رکھا جاتا ہے وہاں اپنے ملک کے مقامی اور قومی کھیلوں کو بھی زندہ و جاوداں رکھنے کے لئے یورپ بھر کے ممالک میں انہیں کھیلا جاتا ہے ،کرکٹ ،ہاکی ، فٹ بال ، کھیلے جاتے ہیں لیکن دیسی کھیل کبڈی کو دنیا بھر میں بہت پذیرائی ملتی ہے یورپ کے کسی بھی ملک میں کبڈی کا ٹورنامنٹ ہو کھلاڑی بھی ذوق شوق سے اس مین حصہ لیتے ہیں اور تماشائیوں کی تعداد تو ہزاروں میں دیکھنے کو ملتی جو کبڈی سے محبت رکھنے کی نشانی سمجھی جاتی ہے ،4 ستمبر کا دن بارسلونا میں کھیلوں اور تفریح کے حوالے سے ایک یاد گار دن تھا جب بے سوس مار کے فٹ بال سٹیڈیم میں پاکستان اور کتالونیا کا قومی ترانہ بجایا گیا جس کے احترام میں سٹیڈیم کا ہر زی روح کھڑا ہو گیا کسی کے احترام اور ادب میں کھڑا ہونا بھی زندہ قوموں کی نشانی ہوتی ہے ،پورے سٹیڈیم میں تماشائیوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا جو کسی بھی تفریحی پروگرام میں پہلے دیکھنے کو نہیں ملا تھا ہر چہرہ خوش ہر آواز ایک دوسرے کی محبت میں ڈھل جانے کو بہتاب ہر آنکھ محبت سے لبریز اور ہر قدم ایک دوسرے کو بغل گیر کرنے کے لئے اٹھتا نظر آ رہا تھا ،پاک پنجاب کتلان ایسوسی ایشن کے روح رواں چوہدری مظہر وڑائچانوالہ ان کے دوست راجہ شعیب ستی ،چوہدری نوید وڑائچ شیر پاکستان کبڈی کلب کے چیئر مین چوہدری نزیر گوندل ، صدر چوہدری گلریز بوگا اور سینئر نائب صدر چوہدری نواز گھمن گراونڈ میں انتظامات کو دیکھ رہے تھے ان کی نگاہ سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں تھا وہ کرکٹ ،ہاکی ، والی بال ، اور کبڈی کے معاملات کو بغور دیکھ رہے تھے ،دوسرے ممالک سے آنے والے مہمان جن میں انگلینڈ سے چوہدری مظہر اقبال گوندل ، چوہدری ذوالفقار آف چھوکر کلاں ، بیلجیم سے چوہدری اکرم منہاس ، چوہدری جہانگیر آف دھول سرائے ، چوہدری اعجاز ڈوئیاں ، چوہدری اویس ڈوئیاں ،چوہدری ندیم گجر موجیانوالہ ، چوہدری نثار گجر آف باشنا ،بارسلونا کے پاکستانیوں کے ساتھ مل کر انجوائے کر رہے تھے اور میلہ کی ہر آئٹم کو دیکھ رہے تھے انگلینڈ سے ڈی ایم ڈیجیٹل کے مینجر مظہر بخاری ،کمپیئر محبوب ملک اور ان کی ٹیم کوریج کر رہی تھی ،کمپیئرنگ کے فرائض پاک سپین پریس کلب کے صدر اور پاک نیوز کے چیف ایڈیٹر شفقت علی رضا اور محبوب ملک سر انجام دے رہے تھے دونوں کے درمیان کبھی کبھی برجستہ جملوں کا تبادلہ ہوتا تو تماشائی اپنی ہنسی پر قابو نہ رکھ سکتے ،میلہ کی سب سے بہترین بات میلہ میں انٹری کا فری ہونا تھا ہر شخص بلا روک ٹوک سٹیڈیم میں کھنچا چلا آ رہا تھا ،صبح نو بجے سے رات 10 بجے تک اپنی رونقیں بحال رکھے ہوئے یہ میلہ سب کی توجہ کا مرکز تھا ، انڈیا اور پاکستان کی کبڈی ٹیموں کے درمیان ہونے والے میچ نے پنجاب کا ایسا رنگ پیش کیا تھا کہ سب پنجابی اس رنگ میں رنگے گئے تھے ،والی بال میچ کی ہر شوٹ اور پوائنٹ پر شوروغل کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے یہ شورو غل تماشائیوں کی طرف سے کھلاڑیوں کے لئے حوصلہ افزائی تھی ،اچھی شاٹ پر نقد انعامات بھی میلے کے حسن کو دوبالا کر رہے تھے ،کرکٹ کا میچ منہاج القران کی ٹیم جیتی ، کبڈی انڈیا کی ٹیم ، والی بال تنویر کلب نے جیتا اور اپنے اپنے انعامات وصول کئے ،پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ سپین کی گورنمنٹ کے نمائندے بھی پاکستانی کھیلوں سے محظوظ ہوتے رہے ،سپانش خواتین نے پنجابی لباس پہن کر بھنگڑا کی پرفارمنس دی جسے دیکھ کرکوئی بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکا

انگلینڈ سے آئی ہوئی معروف گلوکارہ سونو والیہ نے سٹیڈیم میں موجود تماشائیوں کو اپنے گانوں پر بھنگڑا ڈالنے پر مجبور کئے رکھا ،یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پاک پنجاب کتلان ایسوسی ایشن اور شیر پاکستان کبڈی کلب نے مشترکہ طور پر آزادی و عید میلہ کا فری انعقاد کر کے پاکستانی کمیونٹی کی خدمت کا ایک سنہرا باب رقم کیا ہے ۔






































