تازہ ترین
سانپ نے آدمی کو کاٹا اور پھر آدمی نے اپنی بیوی کو کاٹ لیا، لیکن زندہ کون بچا؟ ناقابل یقین واقعہ         صدی کا سب سے بڑا مقدمہ، تاریخ کے سب سے بڑے منشیات سمگلر ایل چیپو کو سخت ترین سزا سنادی گئی         28 سالہ دلہن نے 70 سالہ دولہے کو لوٹ لیا         امیر ترین ہسپانوی سپر ماڈل کی مفلسی، سڑک پر آگئی         محمد اقبال چوہدری کے تایا جان کی روح کے ایصال ثواب کے لئے قران خوانی اور ختم شریف میں معززین کی شرکت         شفقت علی رضا اور رضوان کاظمی کی پالسن کے اونر چوہدری امانت علی وڑائچ اور محمد بلال علی سے ملاقات         سپین ۔کشمیری حریت پسند مقبول احمد بٹ شہید کی 35ویں برسی کی تقریب         بہاماس میں ہیٹی سے تارکین وطن کو لے جانے والی کشتی الٹنے سے 28 مسافر ڈوب گئے         بحیرہ روم میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد میں اضافہ         لیبیا کے قریب بحرہ احمر میں کشتی الٹنے سے 90 تارکین ڈوب کر ہلاک ہوگئے         67 سالہ دولہے اور 24 سالہ دلہن کی جان کو خطرہ         پاکستان اب ای پاسپورٹ اشو کرے گا تیاریاں مکمل         اوسپتالیت میں بین المذاہب ہم آہنگی سیمینار ، پاکستانیوں کی جانب سے طاہر رفیع کی شرکت         چوہدری شوکت آف قرطبہ ریسٹورنٹ کا حافظ عبدالرزاق صادق کے اعزاز میں عشائیہ ، معززین کی شرکت         دوران پروازجہاز کے انجن میں آگ لگ گئی ، مسافر محفوظ رہے        
l_141092_070735_updates

بیٹی کی پیدائش پر اسپتال کے اخراجات معاف، نیا بھارتی منصوبہ

l_141092_070735_updates

بھارت کے اسپتالوں میں لڑکی کی پیدائش پراب والدین کو بل ادا کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ جی ہاں۔۔۔بھارت ایک ایسا ملک ہے جہاں لڑکی کی پیدائش کو معیوب سمجھا جاتا ہے جبکہ لڑکوں کی پیدائش پر شادیانے بجائے جاتے ہیں ۔

اس صنفی فرق کو ختم کرنے کے لئے حکومت اس منصوبے پر غور کررہی ہے کہ آئندہ والدین کو لڑکی کی پیدائش پر اسپتال کا بل نہ دینا پڑے۔

بھارتی اخبار، ٹائمز آف انڈیا کی کی رپورٹ کے مطابق ،بھارتی شہر احمد آباد میں قائم ایک اسپتال میں خصوصی پیشکش جاری ہے جس میں ان جوڑوں کے لیے خوشخبری ہے جن کے یہاں بیٹی کی پیدائش ہوگی ۔اسپتال انتظامیہ کی جانب سے ان کا بل ادا کیا جائے گا۔

یہ اقدام بھارت میں بگڑتے ہوئے صنفی توازن کی روک تھام کے لیے کیا جارہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ اقدام ایسے معاشرے میں عمل میں لایا جارہا ہے جہاں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کے مقابلے میں گیارہ فیصد کم ہے۔

30 سالہ سندھو اسپتال میں گزشتہ ماہ اس نئے منصوبے کا آغاز ہوا ہے جہاں ڈیڑھ سوسے زائدخواتین کےناموں کو پہلے ہی ڈیلیوری کی غرض سے درج کیاجا چکا ہے۔

معمول کے مطابق اسپتال میں نارمل ڈیلوری کا پیکیج سات ہزار اور سی سیکشن کے لیے بیس ہزار کی قیمت وصول کی جاتی ہے۔

اسپتال کے منیجنگ ڈائریکٹر کا اس بارے میں کہنا ہے کہ’’ بہت سالوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہاں حاملہ خواتین آتی ہیں اور لڑکے کی پیدائش کے لیےدعا گو رہتی ہیں۔

ایسے موقعوں پر بار ہا دیکھا گیا ہے کہ لڑکوں کی پیدائش پر خوب مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں اور لڑکی کی پیدائش پر وہ غمگین ہوجاتی ہیں مگر اب وقت آگیا ہے کہ بیٹی کی پیدائش پر جشن منایا جائے گا‘‘

ہسپتال میںڈلیوری کی غرض سے آنے والی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ گزشتہ 35 سالوں سے ہمارے خاندان میں کوئی لڑکی پیدانہیں ہوئی۔میں دعا گو ہوں کہ میرے یہاں لڑکی کی پیدائش ہو۔‘‘

اسپتال انتظامیہ کی جانب سے ان خاتون کو دعائیہ القابات سے نوازا جا رہا ہے اور کہا گیا ہے اگر ان کے یہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی تو اسپتال انتظامیہ کی جانب سے ان کے خاندان کی کیک اور اسنیکس کے ساتھ خاطر کی جائے گی ۔

صرف احمد آباد میں ہی نہیں،بھارت بھر میں یہ اقدام انتہائی ضروری ہے ۔یہ اقدام بظاہر چھوٹا مگر مثبت ہے جو اسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں کی کوششوں سے پائے تکمیل کو پہنچنے والا ہے۔ ملک بھر میں پیدا ہونے والی بچیوں کی زندگیاں بچانے کے لیے یہ بہت ضروری ہے