تازہ ترین
گریگ فیسٹیول ’’ منجوئیک ‘‘ میں پاکستانی ثقافت کے رنگ ، پاکسانی شعرا نے اپنا کلام سنایا         سپین۔مسلم لیگ کا اجلاس احتجاجی ضرور تھا لیکن کسی کے خلاف نہیں ، عہدیداران         سپین۔مسیحیوں کو اپنا نمائندہ خودمنتخب کرنے کا حق دیا جائے ، راجو الیگزینڈر         میاں نواز شریف کے استقبال کے لئے سپین سے بھی قافلے پاکستان پہنچیں گے ، مسلم لیگ ن سپین         سپین۔ تصویری نمائش میں بے نظیر بھٹو شہید کی تصویر توجہ کا مرکز         سپین۔الیکٹرانک میڈیا نمائندگان کے پلیٹ فارم کے لئے ایگزیکٹو کمیٹی قائم         سپین۔سفیر پاکستان اور قونصل جنرل بارسلونا کی کمیونٹی سے ملاقات         سپین۔بارسلونا کرکٹ کلب کی یونیفارم کی رونمائی اور تقریب تقسیم انعامات ظہیر عباس کی شرکت         سپین۔کشمیر کی آواز سنو سیمینارمیں بیرسٹر سلطان محمود کی شرکت         جنرل سیکرٹری مسلم لیگ ن سپین راجو الیگزینڈر کی جانب سے بیگم کلثوم نواز کی صحت یابی کے لئے دعائیہ تقریب کا اہتمام         چین نے پاکستانیوں کیلئے ویزہ اجراء کو نہایت آسان کر دیا         انڈونیشیا میں کشتی ڈوبنے سے193افراد تاحال لاپتہ         موت سے بچ جانے والے مزید 522 تارکین وطن اٹلی پہنچ گئے، حکومت روکنے میں ناکام         برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کا بل کامنز میں منظور، ووٹ نے عوام کی طاقت ثابت کردی، وزیراعظم         ان گنت طبی فوائد لیے چھوٹا سا بیج ’’تخم بالنگا‘‘        
shafqat-ali-raza

ممتاز تارڑ کی بارسلونا آمد ۔ شفقت علی رضا

’’ آئی پی یو ‘‘ انٹر پارلیمینٹری یونین کے اجلاس میں شرکت کے لئے قومی اسمبلی پاکستان کے اسپیکر ایاز صادق اپنے وفد کے ساتھ سوئٹرزلینڈ کے شہر جنیوا پہنچے جہاں دنُیا کے تمام ممالک کی پارلیمنٹ کے ممبران اس اجلاس میں شرکت کے لئے پہنچے تھے ۔اجلاس کا موضوع دنیا میں امن ، انٹرنیشنل تعلقات اور پرائیویٹ سیکیورٹی سسٹم کا خاتمہ تھا ۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز سادق کے ساتھ وفد میں پانچ ارکان پارلیمنٹ آئے تھے جن میں سے منڈی بہاوالدین سے تعلق رکھنے والے ایم این اے ممتاز تارڑ بھی شامل تھے جو اجلاس کی کاروائی ختم ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن سپین کی خصوصی دعوت پربارسلونا پہنچے جہاں اُن کاشاندار استقبال کیا گیا ۔استقبال کرنے والوں میں مسلم لیگ ن سپین کے صدر راجو الیگزینڈر ، سینئر نائب افضال احمد وڑائچ ، نائب صدر عبدالروف ، جنرل سیکرٹری ایاز عباسی ، انفارمیشن سیکرٹری ملک شاہد حسین، چوہدری ناظم دھدرا اور دوسرے مسلم لیگی کارکن اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے ۔سپین میں مقیم تارکین وطن پاکستانیوں کی زیادہ تعداد گجرات اور ضلع منڈی بہاوالدین سے تعلق رکھتی ہے اس لئے اپنے علاقے کے ایم این اے سے ملنے اور ان کو خوش آمدید کہنے کے لئے کثیر تعداد ائیر پورٹ پہنچی تھی ۔ایم این اے ممتاز تارڑ کو جلوس کی شکل میں بارسلونا کے نواحی علاقہ ’’ بیا نوا ‘‘ لایا گیا جہاں ان کے اعزاز میں فاروق بھٹی اور چوہدری ناظم نے ظہرانہ کا اہتمام کیا تھا ۔ رات کو پاکستان مسلم لیگ ن سپین نے اپنے ایم این اے کے اعزاز میں ایک عشائیہ کا اہتمام کیا جہاں بہت سے مقررین اور ممتاز تارڑنے خطاب کیا ۔ اس عشائیہ کا اہتمام پاکستان مسلم لیگ ن سپین کے سینئر راہنما مہر بلال اور فیصل گوندل نے کیا تھا ۔تلاوت کلام پاک سے شروع ہونے والی اس عشائیہ کی محفل میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے بھی آئے ہوئے تھے ۔اس موقع پر مسلم لیگی کارکنوں نے دھواں دار تقاریر کیں اور اپنے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے ایم این اے سے کہا کہ وہ ان مسائل کو پاکستان کے متعلقہ اداروں اور متعلقہ وزارتوں تک ضرور پہنچائیں تاکہ ہمارے مسائل کا فوری حل ہو ۔مقررین نے اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل مین سب سے بڑا مسئلہ شناختی کارڈ فیس کا زیادہ ہونا قرار دیا ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے ممالک اپنی عوام کو شناختی کارڈ مفت مہیا کرتے ہیں لیکن پاکستانی گورنمنٹ اوورسیز پاکستانیوں کے لئے شناختی کارڈ بہت مہنگا دے رہا ہے ۔مقررین نے کہا کہ 36 صفحات پر مشتمل پاسپورٹ کی فیس 35یورو ہے جبکہ ایک صفحے کے شناختی کارڈ کی فیس 110یورو ہے اس کو کم کرنے کے لئے وزارت داخلہ کو بہت سی درخواستیں بھیجی ہیں لیکن ابھی تک اس فیس میں کمی نہیں کی گئی ۔پاکستانی کمیونٹی کے دوسرے مسائل میں شامل پاکستانی بینک ، کمیونٹی سنٹر اور سپین میں پاکستانی سکول کا ہونا شامل ہیں ۔مقررین کا کہنا تھا کہ بے شک ہم نے اب ان ممالک مین رہنا ہے ہمارے بچوں نے یہیں پڑھنا ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی سکول یہاں ضرور ہوں تاکہ ہمارے بچے اپنے کلچر سے جڑے رہیں ۔اور اپنے رہن سہن اور تہذیب و تمدن سے روشناس رہیں ۔پاکستانی بینک کا ہونا اس لئے لازمی ہے تاکہ ہم اپنی رقوم آسان اور محفوظ طریقے سے پاکستان پہنچا سکیں اس سے حکومت پاکستان کو بھی فائدہ ہوگا ۔ عشائیہ اس وقت سیاسی جلسہ کا رنگ پیش کر رہا تھا ، پاکستان زندہ باد اور مسلم لیگ زندہ باد کے نعرے فضا میں بلند ہو رہے تھے ۔اس موقع پر ایم این اے ممتاز تارڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری حکومت اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل سے بخوبی واقف ہے کیونکہ ہمارے قائدین جلا وطن رہ کر اوورسیز کے مسائل کو قریب سے دیکھ چکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سپین میں مقیم یا یورپ کے تمام اوورسیز کی آواز کو مقامی ادارون اور وزارتوں تک پہنچانا میرا اولین فرض ہے اور مین یہ فرض ضرور پورا کرونگا ۔انہوں نے کہا کہ جنیوا اجلاس میں پرائیویٹ سیکیورٹی سسٹم پر تشویش کا اظہار کیا گیا کیونکہ اُس پر بہت زیادہ بجٹ بھی ہے اور اس کے ملازمین بھی ہزاروں بلکہ لاکھوں میں ہیں اس سسٹم کا خاتمہ ضروری ہے کیونکہ یہ سسٹم طاقتور بن کر اسٹیٹ کے لئے خطرہ بن سکتا ہے ۔دُنیا میں امن قائم رکھنے کے لئے ہتھیاروں میں کمی ضروری ہے جس کے لئے ہتھیار بنانے اور بیچنے والے ممالک کو سوچنا ہو گا ۔ممتاز تارڑ کا کہنا تھا پاکستان میں جلسہ جلوس پر پابندی نہیں لیکن عمران خان طاقت اور تشدد کے ساتھ اسلام آباد بند کرنا چاہتے تھے جو بالکل غیر آئینی طریقہ تھا ۔حکومت کو ختم کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کبھی برداشت نہیں کیا جائے گا ۔تحریک انصاف کو اگر سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن پر اعتماد ہے تو وہ فیصلے کا انتظار کرے ۔چار ججبز کوہٹایا گیا اور نئے ججز پر عمران خان اعتماد بھی کرتے ہیں اس کے باوجود پانامہ لیکس کے حوالے سے کئے جانے والے کیس کے فیصلے کا انتظار نہ کرنا سمجھ سے بالا تر ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ تحریک انساف اور عمران خان ایسا کرکے سپریم کورٹ پر پریشر ڈالناچاہتے ہیں تاکہ فیصلہ ان کے حق میں ہو جائے ۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو خطرہ ہے کہ جس تیزی سے پاکستان ترقی کر رہا ہے اس وجہ سے 2018کا لیکشن بھی مسلم لیگ ن جیت جائے گی اس لئے وہ آنے والے الیکشنوں سے پہلے حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔ممتاز تارڑ کا کہنا تھا کہ سسٹم کو ’’ڈی ریل‘‘ کرنے کی کوشش نہ کی جائے بلکہ پانامہ لیکس پر ہونے والی انکوائری کے فیصلے کا انتظار کیا جائے ۔ ممتاز تارڑ نے کہا کہ تارکین وطن پاکستانی ہمارے ملک کا سرمایہ ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی معیشت کے بڑھاوے میں اوورسیز پاکستانی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کے مسائل کے حل پر موجودہ حکومت سے پہلے کسی نے زور نہیں دیا جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں پر مشتمل بینچ بنائے گئے ہیں جو صرف تارکین وطن پاکستانیوں کے مسائل حل کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بیرسٹر امجد ملک ، زبیر گل اور افضال بھٹی پاکستان میں اوورسیز پاکستانیوں کی سہولت کے لئے کام کر رہے ہیں اور ہماری حکومت ان حاحبان کو مزید اختیارات بھی دینے کے بارے میں سوچ رہی ہے تاکہ تارکین وطن کے مسائل کو ایک ہی کھڑکی پر حل کیا جا سکے ۔آخر میں انہوں نے اپنے علاقہ سے تعلق رکھنے والوں اور پاکستانی کمیونٹی کے تمام معززین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں یہاں آکر آپ کا اتحاد و اتفاق دیکھ کر بہت خوش ہوا ہوں ۔