تازہ ترین
چوہدری مظہر وڑائچانوالہ کے کزن چوہدری فیضان گھیگی کے لئے قران خوانی کے مناظر         چوہدری مظہر وڑائچانوالہ کے کزن چوہدری فیضان گھیگی کی روح کے ایصال ثواب کے لئے ختم شریف اور محفل قران خوانی         تحریک انصاف کا مختلف ممالک میں انٹرا پارٹی الیکشن کا اعلان کر دیا گیا ، طارق رفیق بھٹی         میر نوید جان کاگوادر چیمبر آف کامرس کا صدر منتخب ہونا خوش آئند ہے۔ ذیشان چوہدری         شجاع کرکٹ اسٹیڈیم جرونا کی افتتاحی تقریب ، فیتہ چوہدری امانت حسین مہر نے کاٹا         ضمنی الیکشن میں بیگم کلثوم نواز کی جیت جمہوریت اور حق سچ کی جیت ہے ، حاجی ا سد حسین         ایک شام مسرت عباس کے نام پروگرام میں اسٹیج پر بیٹھے آرگنائزرز اور مہمان خصوصی کی تصاویر         ایک شام مسرت عباس کے نام کے مہمان خصوصی چوہدری اختر علی چھوکر کلاں ، چوہدری مسرت اور یونس پرواز کی یادگار تصویر         پاکستان مسلم لیگ ن سپین کے صدر حاجی اسد حسین کی ایک شام مسرت عباس کے نام میں خصوصی شرکت         چوہدری کلیم الدین وڑائچ کی چوہدری امتیاز لوراں کو میاں محمد بخش کا کلام سنانے کی بھر پور فرمائش         چوہدری امتیاز لوراں اور چوہدری کلیم الدین وڑائچ کی دوسرے مہمانوں سمیت مسرت عباس کے ساتھ تصویر         بارسلونا میں یوتھ کے راہنما میاں شیراز اور چوہدری عمران چھوکر کی مسرت عباس کے ساتھ ملاقات         چوہدری اختر علی آف چھوکر کے ساتھ چوہدری متین امتیاز اور چوہدری مبین امتیاز کی تصویر         سکائی ویز ریسٹورنٹ پر مسرت عباس کے نام ایک شام میں شرکا کی تواضع کی تصویری جھلکیاں         بارسلونا میں دہشت گردی اور میانمار میں مرنے والے بے گناہوں کے لئے ایک منٹ کی خاموشی        
l_292803_022456_updates

مردم شماری : وفاق اور سندھ حکومت کااختلاف سامنے آگیا

مردم شماری کے معاملے پر وفاق اور سندھ حکومت میں اختلاف سامنے آگیا ،ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے پی پی کی درخواست کی حمایت جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اسے خلاف آئین قراردیدیا ۔

سندھ ہائی کورٹ میں پیپلز پارٹی کی مردم شماری کے طریقہ کار کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی ، جسٹس منیب اختر نے اس موقع پر شہری محمد اسحاق کی درخواست بھی منسلک کرنے کا حکم دیا ۔

دوران سماعت اے جی سندھ نے کہا کہ درخواست پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست قابل سماعت نہیں اسے مسترد کیا جائے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دئیے کہ یہ بظاہر وفاق اور صوبے کا تنازع ہے، دو حکومت کے تنازع کو حل کرنے کا سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار ہے۔

عدالت نے مزید دلائل طلب کرتے ہوئے درخواست کی سماعت7اپریل تک ملتوی کردی