تازہ ترین
فخر گجرات چوہدری تنویر کوٹلہ کے اعزاز میں چوہدری امانت مہر کا افطار ڈنر ، معززین کی ریکارڈ تعداد میں شرکت         اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کرکے اسلام اور پاکستان کا سافٹ امیج پیش کیا جا سکتا ہے ، چیئر مین ضلع کونسل گجرات محمد علی تنویر         چوہدری امتیاز آکیہ کے مہمان چوہدری تنویر کوٹلہ پاکستان روانہ ہو گئے         فخر گجرات چوہدری تنویر کوٹلہ کے اعزاز میں افطار ڈنر پارٹی تاریخی اہمیت کی حامل ہوگی ، چوہدری امانت حسین مہر         زمین سے ملتے جلتے 10 سیارے دریافت         دبئی،رواں سال کے آخر میں مسافر ایئر ٹیکسی میں اڑیں گے         یورپ: طویل ترین دن، ہزاروں افراد کی تا ریخی یا دگار آمد         برسلز سینٹرل ریلوے اسٹیشن پر مشتبہ شخص کو گولی مار دی گئی         پاکستانی کرکٹ ٹٰیم جیتی ہی نہیں اس نے انڈیا کا غرور بھی توڑا ہے ، چوہدری امانت مہر         پاکستان کرکٹ ٹیم کی جیت پر مسلم لیگ ن سپین کی جانب سے مٹھائی تقسیم کی گئی         فخر گجرات چوہدری تنوہر کوٹلہ کو بارسلونا میں خوش آمدید کہتے ہیں ، راجہ زوالفقار ، راجہ سونی ، حمید اختر         دکھ کی اس گھڑی میں ہم عبدالخلیم بٹ کے ساتھ ہیں ، ایاز عباسی ، ملک شاہد حسین         سپین۔ماہ صیام میں مسکینوں اور یتیموں کا خاص خیال رکھا جائے ، امانت حسین مہر         اللہ تعالی راجہ نامدار اقبال کو اپنے والد کی وفات کا صدمہ سہنے کی توفیق دے ، ایاز عباسی         دکھ کی اس گھڑی میں راجہ نامدار اقبال کے ساتھ ہیں ، میاں اظہر ، میاں عمران ساجد        
l_292802_021230_updates

امریکی صدر ٹرمپ کو نئی پریشانی نے آگھیرا

کینٹکی میں ڈسٹرکٹ جج نے رولنگ دی ہے کہ صدارتی مہم کے دوران حامیوں کو اکسانے پر ٹرمپ کے خلاف مقدمہ چلایا جاسکتا ہے،مقدمہ شروع نہ کرنے کے لیے ٹرمپ کے وکیل کی آزادی اظہار رائے کی دلیل جج نے مسترد کر دی۔

اس مقدمے میں درخواست گزاروں نے ٹرمپ، ان کی انتخابی مہم اور دیگر تین حامیوں کو فریق بنایا تھا،درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ مارچ 2016ء میں ایک ریلی کے دوران ٹرمپ نے مبینہ طور پر مسلسل یہ کہا کہ ’انہیں باہر پھینک دو‘، جس پر ٹرمپ کے حامیوں نے درخواست گزاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

ریاست کینٹکی میں لوئزویل کے ڈسٹرکٹ کورٹ جج ڈیوڈہیل کے اس فیصلے سے 3 مظاہرین کی طرف سے اب قانونی طور پر مقدمہ شروع کرانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

ہنری بروسیو، کاشیا نوانگوما اور مولی شاہ کا موقف ہے کہ مارچ 2016ء میں لوئزویل میں ایک ریلی کے دوران ٹرمپ نے مبینہ طور پر مسلسل یہ کہا کہ “انھیں باہر پھینک دو”، جس پر ٹرمپ کے حامیوں نے انہیں نشانہ بنایا۔

ٹرمپ کے وکیل کا استدلال تھا کہ یہ اظہار رائے کی آزادی سے متعلق ہے اور ٹرمپ کا ارادہ نہیں تھا کہ ان کے حامی طاقت کا استعمال کریں۔ جج ہیل نے اپنے فیصلے میں یہ رائے تحریر کی کہ ’یہ قرین قیاس ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے ‘انھیں باہر پھینک دو‘ کی ہدایت طاقت کے استعمال کی وکالت کرتی تھی، یہ ایک حکم تھا۔

مقدمے میں جن لوگوں کو مبینہ حملہ آور نامزد کیا گیا ہے، ان میں ایک سفید فام نسل پرست گروپ کے رکن میتھیو ہیمباک اور کوریئن جنگ میں شریک رہنے والوں کی اوہائیو میں ایسوسی ایشن کے رکن ایلون بمبارجر بھی شامل ہیں، تیسرے شخص کی شناخت تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔

جج ہیل کا کہنا تھا کہ نوانگوما جو کہ ایک سیاہ فام خاتون ہیں، کو ریلی سے نکالا جانا ’خاص طور پر لاپرواہی ہے‘۔ انہوں نے اس خاتون کی طرف سے نسل پرستی کا شکار ہونے کا الزام بھی مسترد نہیں کیا