تازہ ترین
چوہدری مظہر وڑائچانوالہ کے کزن چوہدری فیضان گھیگی کے لئے قران خوانی کے مناظر         چوہدری مظہر وڑائچانوالہ کے کزن چوہدری فیضان گھیگی کی روح کے ایصال ثواب کے لئے ختم شریف اور محفل قران خوانی         تحریک انصاف کا مختلف ممالک میں انٹرا پارٹی الیکشن کا اعلان کر دیا گیا ، طارق رفیق بھٹی         میر نوید جان کاگوادر چیمبر آف کامرس کا صدر منتخب ہونا خوش آئند ہے۔ ذیشان چوہدری         شجاع کرکٹ اسٹیڈیم جرونا کی افتتاحی تقریب ، فیتہ چوہدری امانت حسین مہر نے کاٹا         ضمنی الیکشن میں بیگم کلثوم نواز کی جیت جمہوریت اور حق سچ کی جیت ہے ، حاجی ا سد حسین         ایک شام مسرت عباس کے نام پروگرام میں اسٹیج پر بیٹھے آرگنائزرز اور مہمان خصوصی کی تصاویر         ایک شام مسرت عباس کے نام کے مہمان خصوصی چوہدری اختر علی چھوکر کلاں ، چوہدری مسرت اور یونس پرواز کی یادگار تصویر         پاکستان مسلم لیگ ن سپین کے صدر حاجی اسد حسین کی ایک شام مسرت عباس کے نام میں خصوصی شرکت         چوہدری کلیم الدین وڑائچ کی چوہدری امتیاز لوراں کو میاں محمد بخش کا کلام سنانے کی بھر پور فرمائش         چوہدری امتیاز لوراں اور چوہدری کلیم الدین وڑائچ کی دوسرے مہمانوں سمیت مسرت عباس کے ساتھ تصویر         بارسلونا میں یوتھ کے راہنما میاں شیراز اور چوہدری عمران چھوکر کی مسرت عباس کے ساتھ ملاقات         چوہدری اختر علی آف چھوکر کے ساتھ چوہدری متین امتیاز اور چوہدری مبین امتیاز کی تصویر         سکائی ویز ریسٹورنٹ پر مسرت عباس کے نام ایک شام میں شرکا کی تواضع کی تصویری جھلکیاں         بارسلونا میں دہشت گردی اور میانمار میں مرنے والے بے گناہوں کے لئے ایک منٹ کی خاموشی        
l_292802_021230_updates

امریکی صدر ٹرمپ کو نئی پریشانی نے آگھیرا

کینٹکی میں ڈسٹرکٹ جج نے رولنگ دی ہے کہ صدارتی مہم کے دوران حامیوں کو اکسانے پر ٹرمپ کے خلاف مقدمہ چلایا جاسکتا ہے،مقدمہ شروع نہ کرنے کے لیے ٹرمپ کے وکیل کی آزادی اظہار رائے کی دلیل جج نے مسترد کر دی۔

اس مقدمے میں درخواست گزاروں نے ٹرمپ، ان کی انتخابی مہم اور دیگر تین حامیوں کو فریق بنایا تھا،درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ مارچ 2016ء میں ایک ریلی کے دوران ٹرمپ نے مبینہ طور پر مسلسل یہ کہا کہ ’انہیں باہر پھینک دو‘، جس پر ٹرمپ کے حامیوں نے درخواست گزاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

ریاست کینٹکی میں لوئزویل کے ڈسٹرکٹ کورٹ جج ڈیوڈہیل کے اس فیصلے سے 3 مظاہرین کی طرف سے اب قانونی طور پر مقدمہ شروع کرانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

ہنری بروسیو، کاشیا نوانگوما اور مولی شاہ کا موقف ہے کہ مارچ 2016ء میں لوئزویل میں ایک ریلی کے دوران ٹرمپ نے مبینہ طور پر مسلسل یہ کہا کہ “انھیں باہر پھینک دو”، جس پر ٹرمپ کے حامیوں نے انہیں نشانہ بنایا۔

ٹرمپ کے وکیل کا استدلال تھا کہ یہ اظہار رائے کی آزادی سے متعلق ہے اور ٹرمپ کا ارادہ نہیں تھا کہ ان کے حامی طاقت کا استعمال کریں۔ جج ہیل نے اپنے فیصلے میں یہ رائے تحریر کی کہ ’یہ قرین قیاس ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے ‘انھیں باہر پھینک دو‘ کی ہدایت طاقت کے استعمال کی وکالت کرتی تھی، یہ ایک حکم تھا۔

مقدمے میں جن لوگوں کو مبینہ حملہ آور نامزد کیا گیا ہے، ان میں ایک سفید فام نسل پرست گروپ کے رکن میتھیو ہیمباک اور کوریئن جنگ میں شریک رہنے والوں کی اوہائیو میں ایسوسی ایشن کے رکن ایلون بمبارجر بھی شامل ہیں، تیسرے شخص کی شناخت تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔

جج ہیل کا کہنا تھا کہ نوانگوما جو کہ ایک سیاہ فام خاتون ہیں، کو ریلی سے نکالا جانا ’خاص طور پر لاپرواہی ہے‘۔ انہوں نے اس خاتون کی طرف سے نسل پرستی کا شکار ہونے کا الزام بھی مسترد نہیں کیا