تازہ ترین
سپین ۔ کاتالونیا کے صوبائی انتخابات آخری مراحل میں داخل         سپین۔کاتالونیا کے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کے سامنے فلسطین کے حق میں مظاہرہ         نارویجن کرکٹ فیڈریشن کےسینئر کوچ خالد محمود انتقال کرگئے         نواز شریف کو انصاف دلانے کیلئے دنیا بھر میں آواز بلند کرینگے، ملک نور اعوان         سپین۔ختم نبوت بل میں ترمیم ،فلسطین ، سانحہ ماڈل ٹاؤن اور آرمی پبلک سکول کے عنوان سے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد         نیا پاکستان پینل سپین کی جانب سے تبدیلی پینل فرانس کو جیت کی مبارک باد         حاجی اسد حسین کی صدارت میں مسلم لیگ ن سپین کا اہم اجلاس ، ملکی حالات پر بات چیت         مقبوضہ بیت المقدس قدیم ترین شہروں میں سے ایک         پی ٹی آئی سپین کا پہلا باقاعدہ اجلاس 10 دسمبر کو ہو گا ، ممبران بھر پور شرکت کریں گے         بیلجیم کے ہزاروں بچوں کو روزانہ ڈپریشن کی گولیاں کھانے پر کس نے مجبور کیا ، آپ بھی جانیں         اے ٹی ایم کیش مشینیوں میں لاکھوں کے فراڈ کا انکشاف ، حقائق جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے         امریکی سپریم کورٹ بھی ٹرمپ کی حامی نکلی ، چھ مسلم ممالک کے داخلے پر پابندی کا حکم نامہ جاری         طاہر رفیع کو سیوتادانس پارٹی کی طرف سے کاتالونیا کی صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے لئے انتخابی فہرست میں شامل ہونے پر دلی مبارک باد         الحاج چوہدری کرامت حسین مہر کے اعزاز میں عشائیہ کے شرکا کی تصاویر         راجہ شفیق کیانی ، جاوید مغل اور افضال احمد بیدار کی طرف سے دیئے گئے عشائیہ میں الحاج چوہدری کرامت حسین مہر کا محمد اقبال چوہدری ، چوہدری امتیاز آکیہ اور شفقت علی رضا کے ساتھ گروپ فوٹو        
l_292802_021230_updates

امریکی صدر ٹرمپ کو نئی پریشانی نے آگھیرا

کینٹکی میں ڈسٹرکٹ جج نے رولنگ دی ہے کہ صدارتی مہم کے دوران حامیوں کو اکسانے پر ٹرمپ کے خلاف مقدمہ چلایا جاسکتا ہے،مقدمہ شروع نہ کرنے کے لیے ٹرمپ کے وکیل کی آزادی اظہار رائے کی دلیل جج نے مسترد کر دی۔

اس مقدمے میں درخواست گزاروں نے ٹرمپ، ان کی انتخابی مہم اور دیگر تین حامیوں کو فریق بنایا تھا،درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ مارچ 2016ء میں ایک ریلی کے دوران ٹرمپ نے مبینہ طور پر مسلسل یہ کہا کہ ’انہیں باہر پھینک دو‘، جس پر ٹرمپ کے حامیوں نے درخواست گزاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

ریاست کینٹکی میں لوئزویل کے ڈسٹرکٹ کورٹ جج ڈیوڈہیل کے اس فیصلے سے 3 مظاہرین کی طرف سے اب قانونی طور پر مقدمہ شروع کرانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

ہنری بروسیو، کاشیا نوانگوما اور مولی شاہ کا موقف ہے کہ مارچ 2016ء میں لوئزویل میں ایک ریلی کے دوران ٹرمپ نے مبینہ طور پر مسلسل یہ کہا کہ “انھیں باہر پھینک دو”، جس پر ٹرمپ کے حامیوں نے انہیں نشانہ بنایا۔

ٹرمپ کے وکیل کا استدلال تھا کہ یہ اظہار رائے کی آزادی سے متعلق ہے اور ٹرمپ کا ارادہ نہیں تھا کہ ان کے حامی طاقت کا استعمال کریں۔ جج ہیل نے اپنے فیصلے میں یہ رائے تحریر کی کہ ’یہ قرین قیاس ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے ‘انھیں باہر پھینک دو‘ کی ہدایت طاقت کے استعمال کی وکالت کرتی تھی، یہ ایک حکم تھا۔

مقدمے میں جن لوگوں کو مبینہ حملہ آور نامزد کیا گیا ہے، ان میں ایک سفید فام نسل پرست گروپ کے رکن میتھیو ہیمباک اور کوریئن جنگ میں شریک رہنے والوں کی اوہائیو میں ایسوسی ایشن کے رکن ایلون بمبارجر بھی شامل ہیں، تیسرے شخص کی شناخت تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔

جج ہیل کا کہنا تھا کہ نوانگوما جو کہ ایک سیاہ فام خاتون ہیں، کو ریلی سے نکالا جانا ’خاص طور پر لاپرواہی ہے‘۔ انہوں نے اس خاتون کی طرف سے نسل پرستی کا شکار ہونے کا الزام بھی مسترد نہیں کیا