تازہ ترین
زبیر گل کے خلاف ہونے والی سازش تمام تارکین وطن کے خلاف سازش ہے ،لیگی عہدیداران         مسلم لیگ ن سپین کے صدر ایاز عباسی اور سرپرست اعلی حاجی اسد حسین کی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان سے ملاقات         پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کا حل اؤلین ترجیح ہو گی ، خیام اکبرسفیر پاکستان میڈرڈ         مسلم لیگ ن سپین آج شام سات بجے کایئے چلی میں جشن منائے گی ، مٹھائی تقسیم کی تقریب بھی ہو گی         کشمیریوں پر ایک ماہ میں 13 لاکھ پیلٹ گنز فائر کیےگئے،کشمیر پولیس         چار روزہ ورلڈ موبائل کانگریس بارسلوناکا اختتام ، انوشہ رحمان کی شرکت         سوسائٹی فار کرائسٹ اور مسلم لیگ ن سپین کی سانحہ شاہدرہ پر مشترکہ پریس کانفرنس         پاکستانی سیاست کے یورپی ممالک میں مقیم پاکستانیوں پر اثرات ، پاک نیوز سروے رپورٹ         MWC 2018: the biggest news from Mobile World Congress in Barcelona         پاکستان پیپلز پارٹی برطانیہ میں تقرریوں کا سلسلہ جاری         بھارتی لیجنڈری اداکارہ سری دیوی انتقال کرگئیں         کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے لاہور قلندرز کو 9 وکٹوں سے ہرا دیا         ویسٹ انڈیز کا دورئہ پاکستان خطرات سے دوچار         سائرہ پیٹر کی پی لیک فیسٹیول میں شاندار پرفارمنس         اردوان نے اپنے بدترین دشمن سے ہاتھ ملا لیا        
l_292802_021230_updates

امریکی صدر ٹرمپ کو نئی پریشانی نے آگھیرا

کینٹکی میں ڈسٹرکٹ جج نے رولنگ دی ہے کہ صدارتی مہم کے دوران حامیوں کو اکسانے پر ٹرمپ کے خلاف مقدمہ چلایا جاسکتا ہے،مقدمہ شروع نہ کرنے کے لیے ٹرمپ کے وکیل کی آزادی اظہار رائے کی دلیل جج نے مسترد کر دی۔

اس مقدمے میں درخواست گزاروں نے ٹرمپ، ان کی انتخابی مہم اور دیگر تین حامیوں کو فریق بنایا تھا،درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ مارچ 2016ء میں ایک ریلی کے دوران ٹرمپ نے مبینہ طور پر مسلسل یہ کہا کہ ’انہیں باہر پھینک دو‘، جس پر ٹرمپ کے حامیوں نے درخواست گزاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

ریاست کینٹکی میں لوئزویل کے ڈسٹرکٹ کورٹ جج ڈیوڈہیل کے اس فیصلے سے 3 مظاہرین کی طرف سے اب قانونی طور پر مقدمہ شروع کرانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

ہنری بروسیو، کاشیا نوانگوما اور مولی شاہ کا موقف ہے کہ مارچ 2016ء میں لوئزویل میں ایک ریلی کے دوران ٹرمپ نے مبینہ طور پر مسلسل یہ کہا کہ “انھیں باہر پھینک دو”، جس پر ٹرمپ کے حامیوں نے انہیں نشانہ بنایا۔

ٹرمپ کے وکیل کا استدلال تھا کہ یہ اظہار رائے کی آزادی سے متعلق ہے اور ٹرمپ کا ارادہ نہیں تھا کہ ان کے حامی طاقت کا استعمال کریں۔ جج ہیل نے اپنے فیصلے میں یہ رائے تحریر کی کہ ’یہ قرین قیاس ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے ‘انھیں باہر پھینک دو‘ کی ہدایت طاقت کے استعمال کی وکالت کرتی تھی، یہ ایک حکم تھا۔

مقدمے میں جن لوگوں کو مبینہ حملہ آور نامزد کیا گیا ہے، ان میں ایک سفید فام نسل پرست گروپ کے رکن میتھیو ہیمباک اور کوریئن جنگ میں شریک رہنے والوں کی اوہائیو میں ایسوسی ایشن کے رکن ایلون بمبارجر بھی شامل ہیں، تیسرے شخص کی شناخت تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔

جج ہیل کا کہنا تھا کہ نوانگوما جو کہ ایک سیاہ فام خاتون ہیں، کو ریلی سے نکالا جانا ’خاص طور پر لاپرواہی ہے‘۔ انہوں نے اس خاتون کی طرف سے نسل پرستی کا شکار ہونے کا الزام بھی مسترد نہیں کیا