تازہ ترین
یوم آزادی پاکستان چودہ اگست کو ہی منایا جائے گا ، رامبلہ راوال پر شام پانچ بجے ، چوہدری ثاقب طاہر         یوم آزادی پاکستان کا بڑا پروگرام پریشان رامبلہ پر کل 14 اگست شام پانچ بجے منعقد ہو گا         گجرات رائل ٹی وی کے نمائندے پر قاتلانہ حملے کی مزمت کرتے ہیں ، پاکستان پریس کلب پرتگال         ترکی سےیورپ جانے والے 645 افراد گرفتار،پاکستانی شامل         جرمنی، ہیمبرگ کی سپرمارکیٹ میں چاقو کے حملے میں ایک شخص ہلاک ، 6 دیگر افرادزخمی         بارسلونا،سانتاکلومیں میوزیکل فیسٹیول آتشزدگی کے باعث کینسل         مسئلہ کشمیرپرکانفرنس کاانعقادخوش آئندہے،چوہدری لطیف اکبر         عمران کی بدولت آج قوم جشن منارہی ہے،علوی خان         پاکستان کی کمزورخارجہ پالیسی کی وجہ سے مسئلہ کشمیرسردخانے کی زینت بن گیا،چوہدری یاسین         آئرلینڈ،تحریک انصاف،منہاج القرآن کاپانامہ فیصلہ پریوم تشکر         وزیر اعظم پاکستان کی نا اہلی کو مسترد کرتے ہیں ، مسلم لیگ ن سپین         اب آئندہ کس کی باری ہے ، وقت جلد فیصلہ کرے گا ، حاجی اسد حسین         شاہد خاقان عباسی کو بطور وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں ، مسلم لیگ ن سپین         مسلم لیگ ن پاکستان میں اپنی حکومت پوری کرے گی ، ایاز عباسی ، ملک شاہد حسین ، خلیم بٹ         کل بھی نواز شریف کے ساتھ تھے ، آج بھی ہیں اور ہمیشہ رہیں گے ، چوہدری محمد ادریس        
l_292802_021230_updates

امریکی صدر ٹرمپ کو نئی پریشانی نے آگھیرا

کینٹکی میں ڈسٹرکٹ جج نے رولنگ دی ہے کہ صدارتی مہم کے دوران حامیوں کو اکسانے پر ٹرمپ کے خلاف مقدمہ چلایا جاسکتا ہے،مقدمہ شروع نہ کرنے کے لیے ٹرمپ کے وکیل کی آزادی اظہار رائے کی دلیل جج نے مسترد کر دی۔

اس مقدمے میں درخواست گزاروں نے ٹرمپ، ان کی انتخابی مہم اور دیگر تین حامیوں کو فریق بنایا تھا،درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ مارچ 2016ء میں ایک ریلی کے دوران ٹرمپ نے مبینہ طور پر مسلسل یہ کہا کہ ’انہیں باہر پھینک دو‘، جس پر ٹرمپ کے حامیوں نے درخواست گزاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

ریاست کینٹکی میں لوئزویل کے ڈسٹرکٹ کورٹ جج ڈیوڈہیل کے اس فیصلے سے 3 مظاہرین کی طرف سے اب قانونی طور پر مقدمہ شروع کرانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

ہنری بروسیو، کاشیا نوانگوما اور مولی شاہ کا موقف ہے کہ مارچ 2016ء میں لوئزویل میں ایک ریلی کے دوران ٹرمپ نے مبینہ طور پر مسلسل یہ کہا کہ “انھیں باہر پھینک دو”، جس پر ٹرمپ کے حامیوں نے انہیں نشانہ بنایا۔

ٹرمپ کے وکیل کا استدلال تھا کہ یہ اظہار رائے کی آزادی سے متعلق ہے اور ٹرمپ کا ارادہ نہیں تھا کہ ان کے حامی طاقت کا استعمال کریں۔ جج ہیل نے اپنے فیصلے میں یہ رائے تحریر کی کہ ’یہ قرین قیاس ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے ‘انھیں باہر پھینک دو‘ کی ہدایت طاقت کے استعمال کی وکالت کرتی تھی، یہ ایک حکم تھا۔

مقدمے میں جن لوگوں کو مبینہ حملہ آور نامزد کیا گیا ہے، ان میں ایک سفید فام نسل پرست گروپ کے رکن میتھیو ہیمباک اور کوریئن جنگ میں شریک رہنے والوں کی اوہائیو میں ایسوسی ایشن کے رکن ایلون بمبارجر بھی شامل ہیں، تیسرے شخص کی شناخت تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔

جج ہیل کا کہنا تھا کہ نوانگوما جو کہ ایک سیاہ فام خاتون ہیں، کو ریلی سے نکالا جانا ’خاص طور پر لاپرواہی ہے‘۔ انہوں نے اس خاتون کی طرف سے نسل پرستی کا شکار ہونے کا الزام بھی مسترد نہیں کیا