تازہ ترین
زبیر گل کے خلاف ہونے والی سازش تمام تارکین وطن کے خلاف سازش ہے ،لیگی عہدیداران         مسلم لیگ ن سپین کے صدر ایاز عباسی اور سرپرست اعلی حاجی اسد حسین کی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان سے ملاقات         پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کا حل اؤلین ترجیح ہو گی ، خیام اکبرسفیر پاکستان میڈرڈ         مسلم لیگ ن سپین آج شام سات بجے کایئے چلی میں جشن منائے گی ، مٹھائی تقسیم کی تقریب بھی ہو گی         کشمیریوں پر ایک ماہ میں 13 لاکھ پیلٹ گنز فائر کیےگئے،کشمیر پولیس         چار روزہ ورلڈ موبائل کانگریس بارسلوناکا اختتام ، انوشہ رحمان کی شرکت         سوسائٹی فار کرائسٹ اور مسلم لیگ ن سپین کی سانحہ شاہدرہ پر مشترکہ پریس کانفرنس         پاکستانی سیاست کے یورپی ممالک میں مقیم پاکستانیوں پر اثرات ، پاک نیوز سروے رپورٹ         MWC 2018: the biggest news from Mobile World Congress in Barcelona         پاکستان پیپلز پارٹی برطانیہ میں تقرریوں کا سلسلہ جاری         بھارتی لیجنڈری اداکارہ سری دیوی انتقال کرگئیں         کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے لاہور قلندرز کو 9 وکٹوں سے ہرا دیا         ویسٹ انڈیز کا دورئہ پاکستان خطرات سے دوچار         سائرہ پیٹر کی پی لیک فیسٹیول میں شاندار پرفارمنس         اردوان نے اپنے بدترین دشمن سے ہاتھ ملا لیا        
rustam-ali

یہاں چہرے بدلتے ہیں نظام نہیں – تحریر- چوہدری رستم علی اجنالہ

آج بڑے عرصے بعد کچھ لکھ رہا ہوں ،میں نے جب مشرف کی حکومت آئی تھی تو اس وقت بھی اسی عنوان سے ایک کالم لکھا تھا ْ یہاں چہرے بدلتے ہیں نظام نہیںْ آج اس بات کو کئی سال گزر گئے ہیں مشرف کے بعد بھی حکومتں آئیں ان میں بھی کئی چہرے تبدیل ہوئے لیکن نظام نہیں ۔بات شروع کرتا ہوں پاکستان کی عوام سے عوام آج کل تبدیلی کا نعرہ لگا رہی ہے ہر کوئی کہتا ہے تبدیلی آنی چاہے جب میں اپنے دوستوں سے سوال کرتا ہوں کہ کیسی تبدیلی آنی چائیے تو اکثر کہتے ہیں کہ نواز شریف کو کئی بار دیکھ لیا زرداری کو بھی دیکھ لیا سب کو دیکھ لیا ہے اب عمران خان کو بھی اک بار دیکھ لیں یہ سن کر مجھے بڑی ہنسی آتی ہے اس عوام پر کہ آج ۷۰ سال بعد بھی یہ ایک نیا چہرہ دیکھنے کی خواہش مند ہے نہ کہ نیا نظام دیکھے ۔ہماری عوام کی نظر میں تبدیلی صرف چہرے کی تبدیلی کو کہتے ہیں کیوں کہ عوام کو شعور ہی اتنا ہے ۔اب بات کرتا ہوں اپنے سیاست دانوں کی جو ۷۰ سال سے پاکستان پر حکمران بنتے آئے ہیں لیکن کیسے ؟ اس تبدیلی کے نام پرجس کی خواہش مند آج بھی ہماری پاکستانی عوام ہے۔ میرا مطلب چہرے کی تبدیلی ہے سیاست دان کیا کرتے ہیں جب دیکھتے ہیں عوام ہمارے چہرے سے تنگ آ چکے ہیں تو وہ تبدیلی کے نام پر ایک نیا چہرہ متعارف کرواتے ہیں جس کی مثالیں کونسلرسیاست دانوں سے لے کر صدر کے سیاست دانوں تک بکثرت ملتی ہیں جیسے ذوالفقار علی بھٹو کے بعد انکی بیٹی بے نظیر بھٹو ۔ایوب خان کے بعد انکے بیٹے گوہر ایوب۔ضیاء الحق کے بعد انکے بیٹے اعجاز الحق ۔آصف علی زرداری کے بعد انکے بیٹے بلاول بھٹو ۔نواز شریف کے بعد انکی بیٹی مریم نواز ۔شہباز شریف کے بعد انکا بیٹا حمزہ شہباز ۔ پرویز الہی کے بعد انکا بیٹا مونس الہی اسی طرح اپ اپنے علاقے کے ایم این اے ۔ایم پی اے۔ضلعی چیرمین کانسلرز پر نظر ڈالیں گئے تو بھی اپکو اسی طرح کی ایک چین نظر آئے گئی۔ اسکے ساتھ ساتھ سیاست دانوں نے عوام کے سامنے اپنا ایک نیا روپ اپنانا شروع کر دیا ہے صرف اپنے مفاد کی خاطر ۔انکا نیا روپ کیا ہے اپ ذرہ غور کریں کہ اب ۷۰ سال سے ازمائے ہوئے سیاست دان عوام کو کیسے دھوکہ دینے کے چکر میں ہیں اور عوام سیاست دانوں کے دھوکے کھانے کے لیے ایک بار پھر تیار ہو چکی ہے سیاست دانوں نے اپنا چہرہ تبدیل کرنے کی بجائے اپنے لیڈروں کے چہرے تبدیل کر لیے پیپلز پارٹی نے بلاول کی صورت میں نیا چہرہ سامنے لایا ہے جیالوں نے خوشی سے قبول کر لیا اور بلاول کو اپنا لیڈر تسلیم کر لیا ہے۔اسی طرح مسلم لیگ نون سے اگلی آواز مریم نواز کی صورت میں آرہی ہے اور متوالے اسکو بھی تسلیم کریں گے ۷۰ سالوں سے آزمودہ سیاست دانوں میں جن کو یقین ہے کہ عوام اب انکو کسی پرانی پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب نہیں کرے گی ۔تو انہی آذمودہ سیاست دانوں نے اپنے لیڈروں کے ساتھ ساتھ پارٹیوں کی تبدیلی کا نعرہ لگا دیا ہے اور انہی آذمودہ چہروں کو کھلاڑیوں نے بھی خوشی سے قبول کر لیا ہے قطع نظر اسکے کہ وہ کتنے کرپٹ ہیں اور اس موجودہ گندے نظام کے ذمہ دار بھی وہی لوگ ہیں ،واہ رہے پاکستانی عوام ،افسوس کہ آج ۷۰ سال بعد بھی ہماری عوام ایک نیا تجربہ اک نئے چہرے کے ساتھ کرنے کی خواہش رکھتی ہے ۔کبھی ہماری عوام نے یہ سوچنے کی زحمت گہوارہ کی کہ ہماری ہمدردیاں سیاسی پارٹیوں کے ساتھ تو ہیں اپنے لیڈروں کے ساتھ تو ہیں تو کیا ہماری ہمدردیاں پاکستان کے ساتھ بھی ہیں ؟جس نظریے پر پاکستان بنا ہماری ہمدردیاں اس نظریے کے ساتھ ہیں ؟کیا ہماری ہمدردیاں اپنے حقوق حاصل کرنے کے ساتھ ہیں ؟ہماری ہمدردیاں اپنی حالت بدلنے کے ساتھ بھی ہیں کہ نہیں؟
خد نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیا ل آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
پڑھنے والیمجھ سے یہ سوال ضرور کریں گے کہ اس صورت حال میں کیا کرنا چائیے؟
تو میں انکو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ مجھ سے سوال کرنے کی بجائے قرآن پاک سے رہنمائی حاصل کریں اللہ تعالی قران پاک میں ارشاد فرماتا ہے جس کا مہفوم اس طرح ہے کہ جس طرح کی عوام ہو گی اسی طرح کے ان پر حکمران مسلط کیے جائیں گے ۔کچھ دن پہلے احمد پور شرقیہ میں گرے ہوئے آئل کو اپنا حق سمجھ کر لوٹنا شروع کر دیا میں نے فیسبک پر اک وڈیو دیکھی ہے وہ بھی کچھ دن پہلے کی ہے ایک ٹرک الٹ گیا اس میں کوکا کولا کی بوتلیں تھیں عوام نے بوتلیں اس طرح اٹھائیں جیسے ہیں ہی انکی اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے جو بندہ یہ کہتا ہے کہ حکمران کرپٹ ہیں وہ غور کرے کہ حکمران کرپٹ اسلیے ہیں کہ میں کرپٹ ہوں ۔اگر میں نے کرپشن چھوڑ دی تو حکمران بھی کرپٹ نہیں رہیں گے اگر کوئی کہتا ہے حکمران چور ہیں تو وہ غور کرے کی حکمران چور اس لیے ہیں کہ ہم چور ہیں یہ قرآن کہ رہا ہے کوئی اور نہیں ۔اگر کوئی حکمرانوں کو ظالم سمجھتا ہے تو وہ خود ظالم ہے تو ہی حکمران بھی ظالم ہیں سیالکوٹ کا وہ ظلم یاد کرے جس میں عوام ظلم کا تماشہ دیکھتی رہی ظالم کو روکا نہیں اسی لیے ظالم حکمران مسلط کیے جاتے ہیں خداراہ اب اپنے حال پر رحم کھاو۔دین پر چلتے ہوئے اپنی زندگی گزارو ۔جس کام کا اللہ اور رسول ﷺ نے حکم دیا وہ کرو جس سے روکا نہ کرو ان کاموں سے دور رہو پھر دیکھنا حقیقی تبدیلی کیسے آتی ہے حالات کیسے بہتر ہوتے ہیں پھر حکمران بھی حضرت ابوبکر صدیق ۔عمر فاروق ۔عثمان غنی ۔اور حضرت علی جیسے آہیں گے انشاء اللہ آخر میں یہ فقرہ اپنے لیے لکھ رہا ہوں
پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ