تازہ ترین
یوم آزادی پاکستان چودہ اگست کو ہی منایا جائے گا ، رامبلہ راوال پر شام پانچ بجے ، چوہدری ثاقب طاہر         یوم آزادی پاکستان کا بڑا پروگرام پریشان رامبلہ پر کل 14 اگست شام پانچ بجے منعقد ہو گا         گجرات رائل ٹی وی کے نمائندے پر قاتلانہ حملے کی مزمت کرتے ہیں ، پاکستان پریس کلب پرتگال         ترکی سےیورپ جانے والے 645 افراد گرفتار،پاکستانی شامل         جرمنی، ہیمبرگ کی سپرمارکیٹ میں چاقو کے حملے میں ایک شخص ہلاک ، 6 دیگر افرادزخمی         بارسلونا،سانتاکلومیں میوزیکل فیسٹیول آتشزدگی کے باعث کینسل         مسئلہ کشمیرپرکانفرنس کاانعقادخوش آئندہے،چوہدری لطیف اکبر         عمران کی بدولت آج قوم جشن منارہی ہے،علوی خان         پاکستان کی کمزورخارجہ پالیسی کی وجہ سے مسئلہ کشمیرسردخانے کی زینت بن گیا،چوہدری یاسین         آئرلینڈ،تحریک انصاف،منہاج القرآن کاپانامہ فیصلہ پریوم تشکر         وزیر اعظم پاکستان کی نا اہلی کو مسترد کرتے ہیں ، مسلم لیگ ن سپین         اب آئندہ کس کی باری ہے ، وقت جلد فیصلہ کرے گا ، حاجی اسد حسین         شاہد خاقان عباسی کو بطور وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں ، مسلم لیگ ن سپین         مسلم لیگ ن پاکستان میں اپنی حکومت پوری کرے گی ، ایاز عباسی ، ملک شاہد حسین ، خلیم بٹ         کل بھی نواز شریف کے ساتھ تھے ، آج بھی ہیں اور ہمیشہ رہیں گے ، چوہدری محمد ادریس        
l_353469_094813_updates

نوازشریف کا سیاسی عروج و زوال

سیاست میں عروج و زوال نواز شریف کے ساتھ شروع سے آخر تک رہے ، لمحوں میں ‎فرش سے عرش اور عرش سے فرش تک کا سفر ایک دور کانہیں ۔

لاہور کے کاروباری گھرانے کے چشم و چراغ نواز شریف نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا تو آگے سےآگے نکلتے گئے ، سیاسی کیریئر ان کے لیے رکاوٹوں والی دوڑ ضرور ثابت ہوا لیکن ہر رکاوٹ کو عبور کرکے اگلی بار وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرے ۔

ضیاالحق کے دوراقتدار میں نواز شریف کو پہلی حکومتی ذمہ داری ملی ، جو پنجاب کے وزیر خزانہ کی تھی ، یہ1985 سے 88 تک کا دور تھا ، یہاں سے اقتدار کا ہما نواز شریف کے سر پر ایسا بیٹھا کہ پھر نواز کو نوازتا ہی رہا ۔

اس کےبعد نواز شریف پہلے پنجاب کے نگراں وزیراعلیٰ اور پھر منتخب وزیراعلیٰ بنے ، نواز شریف1990ء کے انتخابات میں کامیاب ہوکر پہلی بار وزیراعظم بنے ، یہاں صدر غلام اسحاق خان نے 58ٹو بی کی تلوار سے انہیں وزارت عظمیٰ سے ہٹادیا ۔

نواز شریف اپنی برطرفی کے خلاف عدالت میں جنگ جیت کر بحال ہوئے لیکن پھر بھی اقتدار کی گاڑی ڈھائی سال بھی نہ چل سکی اور غلام اسحاق کے ساتھ کشمکش اس حد تک بڑھی کہ صدر اور وزیراعظم دونوں ہی گئے۔

اس کے بعد بے نظیربھٹو کے دور میں اپوزیشن لیڈر رہے اور 97ء کے انتخابات میں پھر بھاری اکثریت سے وزیراعظم منتخب ہوگئے ، یہاں جنرل مشرف ان کی رفتار میں رکاوٹ بنے اور نواز شریف پھر مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی وزارت عظمیٰ سے محروم ہوگئے ۔

طیارہ سازش کیس چلا، ایوان اقتدار سے نکالے جانے پر نواز شریف نے اڈیالہ جیل بھی دیکھی ، عمر قید کی سزا ہوئی جلا طنی ہوئی اور شریف خاندان لگ بھگ 8سال تک ملک بدر رہا۔

اس ملک بدری میں 2006ء میں لندن میں میثاق جمہوریت ہوا کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی ٹانگیں نہیں کھینچیں گی ، 2007ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی توبھوربن میں میثاق جمہوریت پر عمل کے عہدو پیماں ہوئے اور زرداری نے بھی رائے ونڈ میں حاضری دی اور میاں شریف کی قبر پر فاتحہ پڑھی۔

1999ء میں نواز حکومت کا تختہ الٹے جانے کےبعد 2 الیکشن ہوئے اور 5،5 سال کی اسمبلیوں نے مدت پوری کی ، لیکن نواز شریف اسمبلیوں میں نہیں تھے ۔

پھر 2013ء کے الیکشن میں ن لیگ نے دوبارہ میدان مارلیا اور نواز شریف 14 سال بعد اسمبلی میں واپس اسی سیٹ پر آکر بیٹھے جہاں سے ا نہیں برطرف کیا گيا تھا ۔

پھر پاناما کا ہنگامہ انہیں لے ڈوبا ، اقتدار کی کشتی میں ایسا سوراخ ہوا کہ بڑھتا بڑھتا دو تہائی اکثریت کے ٹائی ٹینک کو لے ڈوبا ، نواز شریف پھر 5 سال کی مدت تک پہنچنے میں ناکام رہے، لیکن اس بار اٹھاون ٹو بی کی تلوار تو کند ہوچکی تھی لیکن آئین کا آرٹیکل 62،63پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا اور اسی نے نواز شریف کے تیسرے دور اقتدار میں آخری کیل ٹھونک دی۔

بقول شیخ رشید کرپشن کا تابوت سپریم کورٹ سے نکل آیا لیکن58 ٹو بی کی جگہ 62،63کی برہنہ تلوار کی کاٹ ابھی تک موجود ہے ، دیکھنایہ ہوگا کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب نمائندوں کو گھر بھیجنے کی یہ تلوار اب بھی سروں پر لٹک رہی ہے ، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا