تازہ ترین
چوہدری مظہر وڑائچانوالہ کے کزن چوہدری فیضان گھیگی کے لئے قران خوانی کے مناظر         چوہدری مظہر وڑائچانوالہ کے کزن چوہدری فیضان گھیگی کی روح کے ایصال ثواب کے لئے ختم شریف اور محفل قران خوانی         تحریک انصاف کا مختلف ممالک میں انٹرا پارٹی الیکشن کا اعلان کر دیا گیا ، طارق رفیق بھٹی         میر نوید جان کاگوادر چیمبر آف کامرس کا صدر منتخب ہونا خوش آئند ہے۔ ذیشان چوہدری         شجاع کرکٹ اسٹیڈیم جرونا کی افتتاحی تقریب ، فیتہ چوہدری امانت حسین مہر نے کاٹا         ضمنی الیکشن میں بیگم کلثوم نواز کی جیت جمہوریت اور حق سچ کی جیت ہے ، حاجی ا سد حسین         ایک شام مسرت عباس کے نام پروگرام میں اسٹیج پر بیٹھے آرگنائزرز اور مہمان خصوصی کی تصاویر         ایک شام مسرت عباس کے نام کے مہمان خصوصی چوہدری اختر علی چھوکر کلاں ، چوہدری مسرت اور یونس پرواز کی یادگار تصویر         پاکستان مسلم لیگ ن سپین کے صدر حاجی اسد حسین کی ایک شام مسرت عباس کے نام میں خصوصی شرکت         چوہدری کلیم الدین وڑائچ کی چوہدری امتیاز لوراں کو میاں محمد بخش کا کلام سنانے کی بھر پور فرمائش         چوہدری امتیاز لوراں اور چوہدری کلیم الدین وڑائچ کی دوسرے مہمانوں سمیت مسرت عباس کے ساتھ تصویر         بارسلونا میں یوتھ کے راہنما میاں شیراز اور چوہدری عمران چھوکر کی مسرت عباس کے ساتھ ملاقات         چوہدری اختر علی آف چھوکر کے ساتھ چوہدری متین امتیاز اور چوہدری مبین امتیاز کی تصویر         سکائی ویز ریسٹورنٹ پر مسرت عباس کے نام ایک شام میں شرکا کی تواضع کی تصویری جھلکیاں         بارسلونا میں دہشت گردی اور میانمار میں مرنے والے بے گناہوں کے لئے ایک منٹ کی خاموشی        
l_353469_094813_updates

نوازشریف کا سیاسی عروج و زوال

سیاست میں عروج و زوال نواز شریف کے ساتھ شروع سے آخر تک رہے ، لمحوں میں ‎فرش سے عرش اور عرش سے فرش تک کا سفر ایک دور کانہیں ۔

لاہور کے کاروباری گھرانے کے چشم و چراغ نواز شریف نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا تو آگے سےآگے نکلتے گئے ، سیاسی کیریئر ان کے لیے رکاوٹوں والی دوڑ ضرور ثابت ہوا لیکن ہر رکاوٹ کو عبور کرکے اگلی بار وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرے ۔

ضیاالحق کے دوراقتدار میں نواز شریف کو پہلی حکومتی ذمہ داری ملی ، جو پنجاب کے وزیر خزانہ کی تھی ، یہ1985 سے 88 تک کا دور تھا ، یہاں سے اقتدار کا ہما نواز شریف کے سر پر ایسا بیٹھا کہ پھر نواز کو نوازتا ہی رہا ۔

اس کےبعد نواز شریف پہلے پنجاب کے نگراں وزیراعلیٰ اور پھر منتخب وزیراعلیٰ بنے ، نواز شریف1990ء کے انتخابات میں کامیاب ہوکر پہلی بار وزیراعظم بنے ، یہاں صدر غلام اسحاق خان نے 58ٹو بی کی تلوار سے انہیں وزارت عظمیٰ سے ہٹادیا ۔

نواز شریف اپنی برطرفی کے خلاف عدالت میں جنگ جیت کر بحال ہوئے لیکن پھر بھی اقتدار کی گاڑی ڈھائی سال بھی نہ چل سکی اور غلام اسحاق کے ساتھ کشمکش اس حد تک بڑھی کہ صدر اور وزیراعظم دونوں ہی گئے۔

اس کے بعد بے نظیربھٹو کے دور میں اپوزیشن لیڈر رہے اور 97ء کے انتخابات میں پھر بھاری اکثریت سے وزیراعظم منتخب ہوگئے ، یہاں جنرل مشرف ان کی رفتار میں رکاوٹ بنے اور نواز شریف پھر مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی وزارت عظمیٰ سے محروم ہوگئے ۔

طیارہ سازش کیس چلا، ایوان اقتدار سے نکالے جانے پر نواز شریف نے اڈیالہ جیل بھی دیکھی ، عمر قید کی سزا ہوئی جلا طنی ہوئی اور شریف خاندان لگ بھگ 8سال تک ملک بدر رہا۔

اس ملک بدری میں 2006ء میں لندن میں میثاق جمہوریت ہوا کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی ٹانگیں نہیں کھینچیں گی ، 2007ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی توبھوربن میں میثاق جمہوریت پر عمل کے عہدو پیماں ہوئے اور زرداری نے بھی رائے ونڈ میں حاضری دی اور میاں شریف کی قبر پر فاتحہ پڑھی۔

1999ء میں نواز حکومت کا تختہ الٹے جانے کےبعد 2 الیکشن ہوئے اور 5،5 سال کی اسمبلیوں نے مدت پوری کی ، لیکن نواز شریف اسمبلیوں میں نہیں تھے ۔

پھر 2013ء کے الیکشن میں ن لیگ نے دوبارہ میدان مارلیا اور نواز شریف 14 سال بعد اسمبلی میں واپس اسی سیٹ پر آکر بیٹھے جہاں سے ا نہیں برطرف کیا گيا تھا ۔

پھر پاناما کا ہنگامہ انہیں لے ڈوبا ، اقتدار کی کشتی میں ایسا سوراخ ہوا کہ بڑھتا بڑھتا دو تہائی اکثریت کے ٹائی ٹینک کو لے ڈوبا ، نواز شریف پھر 5 سال کی مدت تک پہنچنے میں ناکام رہے، لیکن اس بار اٹھاون ٹو بی کی تلوار تو کند ہوچکی تھی لیکن آئین کا آرٹیکل 62،63پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا اور اسی نے نواز شریف کے تیسرے دور اقتدار میں آخری کیل ٹھونک دی۔

بقول شیخ رشید کرپشن کا تابوت سپریم کورٹ سے نکل آیا لیکن58 ٹو بی کی جگہ 62،63کی برہنہ تلوار کی کاٹ ابھی تک موجود ہے ، دیکھنایہ ہوگا کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب نمائندوں کو گھر بھیجنے کی یہ تلوار اب بھی سروں پر لٹک رہی ہے ، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا