تازہ ترین
نیا پاکستان پینل سپین کی جانب سے تبدیلی پینل فرانس کو جیت کی مبارک باد         حاجی اسد حسین کی صدارت میں مسلم لیگ ن سپین کا اہم اجلاس ، ملکی حالات پر بات چیت         مقبوضہ بیت المقدس قدیم ترین شہروں میں سے ایک         پی ٹی آئی سپین کا پہلا باقاعدہ اجلاس 10 دسمبر کو ہو گا ، ممبران بھر پور شرکت کریں گے         بیلجیم کے ہزاروں بچوں کو روزانہ ڈپریشن کی گولیاں کھانے پر کس نے مجبور کیا ، آپ بھی جانیں         اے ٹی ایم کیش مشینیوں میں لاکھوں کے فراڈ کا انکشاف ، حقائق جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے         امریکی سپریم کورٹ بھی ٹرمپ کی حامی نکلی ، چھ مسلم ممالک کے داخلے پر پابندی کا حکم نامہ جاری         طاہر رفیع کو سیوتادانس پارٹی کی طرف سے کاتالونیا کی صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے لئے انتخابی فہرست میں شامل ہونے پر دلی مبارک باد         الحاج چوہدری کرامت حسین مہر کے اعزاز میں عشائیہ کے شرکا کی تصاویر         راجہ شفیق کیانی ، جاوید مغل اور افضال احمد بیدار کی طرف سے دیئے گئے عشائیہ میں الحاج چوہدری کرامت حسین مہر کا محمد اقبال چوہدری ، چوہدری امتیاز آکیہ اور شفقت علی رضا کے ساتھ گروپ فوٹو         سوشلسٹ پارٹی کی جانب سے کتالونیا کے صوبائی الیکشن میں بطور ایم پی اے حصہ لینے والے حافظ عبدالرزاق صادق سوشلسٹ پارٹی کے ممبران و عہدیداران کے ساتھ         ادارہ ہم وطن کی جانب سے الحاج چوہدری کرامت حسین مہر کے اعزاز میں یادگاری شیلڈ کا تحفہ         پاکستان سے آئے الحاج چوہدری کرامت حسین مہر کی بارسلونا کی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے ساتھ تصاویر         راجہ شفیق کیانی ، جاوید مغل اور افضال احمد بیدار کی جانب سے پاکستان سے آئے الحاج چوہدری کرامت حسین مہر کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ میں اویس عابد مہر تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کرتے ہوئے         الحاج چوہدری کرامت حسین مہر کے اعزاز میں دیئے جانے والے عشائیہ میں افضال احمد بیدار خطاب کرتے ہوئے ہوئے        
1501516229dailyausaf

’’پاکستان کو گھیر لو ‘‘ امریکی سینیٹ میں کیا فیصلہ کر لیا گیا ؟ تہلکہ انگیز انکشاف

واشنگٹن(آئی این پی ) امریکی سینیٹ میں پاکستان پر افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا دبائو بڑھانے کیلئے دہری حکمت عملی کی تجویز پیش کردی گئی،امریکی سینیٹ نے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تعلقات میں پابندیوں کی دھمکیوں اور طویل المدت شراکت داری کی پیشکش دونوں کا ایک ساتھ استعمال کرکے افغان باغیوں کی حمایت روکنے کے لیے پاکستان پر زور بڑھائے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابقامریکی سینیٹ میں نیشنل ڈیفنس اتھارائزیشن ایکٹ 2018 میں مجوزہ ترمیم کے لیے تجویز پیش کی گئی ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجی، معاشی اور گورننس سے جڑے پروگرامز کو مزید بہتر کیا جائے۔ترمیم کی یہ تجویز سینیٹر جان مکین نے پیش کی جو طاقتور سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ ہیں اور ان کی پیش کردہ قانونی تجاویز کانگریس سے منظوری حاصل کرتی ہیں۔اس ترمیم میں پاکستان کے حوالے سے شامل حصے میں امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ ایسی ‘مجموعی سول عسکری حکمت عملی’ کا استعمال کیا جائے جو واشنگٹن کے اسٹریٹیجک عزائم کو پورا کرنے میں مدد دے۔اس مقصد کے حصول کے لیے ترمیم میں تجویز دی گئی ہے کہ ‘طویل عرصے تک جاری رہنے والی پاک-امریکا شراکت داری کے ان ممکنہ فوائد کو سامنے لایا جائے جو پاکستان کو دہشت گرد اور باغی گروپوں کی حمایت ختم کرنے کے نتیجے میں حاصل ہوں گے۔مجوزہ قانون سازی میں امریکا کو سفارتی کوششیں بہتر کرنے،

افغانستان، پاکستان، چین، بھارت، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور دیگر ممالک کے ساتھ مذاکرات کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ 28 جولائی کو پیش ہونے والی ترمیم، جس کا متن ہفتے کے روز سامنے آیا، میں کہا گیا کہ یہ کوششیں افغانستان میں سیاسی بحالی کے لیے مفید ثابت ہوں گی۔ترمیم کے تحت امریکی حکومت کو غلط فہمیوں کو کم کرنے اور اعتماد کی فضا بحالکرنے کے لیے جنوبی ایشیا کی دیگر حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔سینیٹ کی اس ترمیم میں انتظامیہ سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ دہشت گرد گروپوں کی امریکا، امریکی اتحادیوں اور ان کے مفادات کے خلاف حملوں کی کوشش ناکام بنائے جبکہ طالبان کو افغان حکومت پر دبا ڈالنے سے روکنے کے ساتھ ساتھ افغان آبادی کے علاقوں میں ان کا کنٹرول کم کرے۔قانون سازی میں افغان سیکیورٹی فورسز کی طاقت بڑھانے اور امریکیفورسز کو حقانی نیٹ ورک، طالبان و دیگر کے خلاف کارروائی کا مزید اختیار فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔یاد رہے کہ رواں ماہ 14 جولائی کو امریکی ایوانِ نمائندگان نے قانون سازی میں 3 ترامیم منظور کی تھیں جن کا تعلق پاکستان کو فراہم کی جانے والی دفاعی فنڈنگ کی شرائط سے تھا۔ان 3 ترامیم میں پاکستان کو آگاہ کیا گیا تھا کہ اگر وہ امریکی امداد کی وصولی جاری رکھنا چاہتا ہے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اطمینانبخش پیش رفت کا مظاہرہ کرے۔واضح رہے کہ ان ترامیم کو پیش کرنے والے دونوں اراکین کانگرس نے اس قرارداد کی بھی حمایت کی تھی جس میں پاکستان کو دہشت گردی کی کفیل ریاست قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔دوسری جانب ایک علیحدہ قرارداد کے ذریعے یہ اراکین، پاکستان کا نام نان نیٹو اتحادیوں کی فہرست سے بھی ہٹانے کی کوشش میں مصروف ہیں، پاکستان 2004 میں نان نیٹو اتحاد کا حصہ بنا تھا۔گذشتہ ہفتے پینٹاگوننے پاکستان کو آگاہ کیا تھا کہ طالبان سے منسلک حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے الزام کے بعد امریکی وزارت دفاع نے پاک فوج کو 5 کروڑ ڈالر کی ادائیگی روک دی ہے۔پینٹاگون کے ترجمان ایڈم اسٹمپ کا کہنا تھا کہ سیکریٹری دفاع جم میٹس نے کانگریس کی دفاعی کمیٹیوں کو بتایا کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتے کہ پاکستان نے، مالی سال 2016 کے لیے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں اس ادائیگی کےلیے حقانی نیٹ ورک کے خلاف خاطر خواہ اقدامات اٹھائے۔امریکا نے خصوصی فنڈ کے ذریعے پاکستان کی فوجی امداد کے لیے 90 کروڑ ڈالر مختص کیے تھے جس میں سے پاکستان 55 کروڑ ڈالر حاصل کر چکا ہے، لیکن جیم میٹس کے اس فیصلے کے بعد پاکستان کو 5 کروڑ ڈالر کی ادائیگی روک دی گئی، جبکہ کانگریس پہلے ہی فوجی امداد میں 30 کروڑ ڈالر کی کمی کرچکی ہے۔پینٹاگون کی جانب سے کہا تھا کہ پاکستان کے پاساب بھی وقت ہے کہ وہ مالی سال 2017 میں سیکریٹری دفاع کے فیصلے پر اثرانداز ہونے کے لیے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے۔1501516229dailyausaf