تازہ ترین
سپین۔’’روجر تورنت ماریو ‘‘کاتالونیا کے نئے اسپیکر منتخب         سینئر صحافی عادل عباسی کے اعزاز میں چوہدری کلیم الدین وڑائچ آف گورالی کا عشائیہ ، معززین کی شرکت         بیلجیئم میں دھماکا، متعدد افراد زخمی         پی آئی اےاپنی پروازوں کےدائرہ کارمیں کمی نہیں لارہی، ترجمان         تارکین وطن پرسان فرانسسکوجج کا فیصلہ اشتعال انگیز ہے،وائٹ ہائوس         سن2017 میں 1465 خواتین کوزیادتی کا نشانہ بنایا گیا         موت کے سوداگر سپین میں سر گرم عمل ، آٹے کی آڑ میں پلاسٹک کی فروخت         طارق رفیق بھٹی صحافتی میدان میں بہترین اضافہ ہیں ،بہت جلد کامیابیوں سے ہمکنار ہوں گے ،معززین سپین         عبدالصبور ہر دلعزیز شخصیت تو ہیں ہی ، لیکن وہ نقابت کے رموز خوب جانتے ہیں         چوہدری محمد ادریس نائب صدر مسلم لیگ ن سپین کا 25دسمبر کی تقریب سے خطاب         پی ٹی آئی سپین کے زیر اہتمام کرسمس اور قائد ڈے کے کیک کاٹنے کی تقریب ، سنیٹر صوبہ کاتالونیا رابرٹ مسیح کی خصوصی شرکت         پی ٹی آئی سپین کے نائب صدر عمران یونس کے والد کی وفات پر ختم شریف اور قران خوانی         مسلم لیگ ن سپین کے زیر اہتمام کرسمس ، یوم قائد اعظم اور میاں محمد نواز شریف کی سالگرہ کا کیک کاٹنے کی تقریب ہمالیہ ریسٹورنٹ پر منعقد ہو گی         تحریک انصاف سپین کے زیر اہتمام یوم قائد اعظم حویلی ریسٹورنٹ پر 25دسمبر کو منایا جائے گا         سپین ۔ کاتالونیا کے صوبائی انتخابات آخری مراحل میں داخل        
rustam-ali

ایک گھنٹہ پاکستان کے لئے , تحریر چوہدری رستم اجنالہ

کچھ سال پہلے کی بات ہے جب میں یورپ سے پاکستان گیا تو جہاں بھی بیٹھو وہاں ہی سیاست ہو رہی ہوتی تھی اگر دوستوں کی محفل میں گیا تو وہاں بھی سیاست ہی زیر بحث ہوتی اگر کسی دوکان پر گیا تو وہاں بھی سیاست ہی نظر آئی کسی مزدور سے بات ہوئی تو وہ بھی سیاست پر لیکچر دینے لگاپاکستان کا ہر بندہ مجھے سیاست دان لگا۔اور ہر بندہ یہی گلہ کرتا ہوانظر آیا کہ پاکستان کی حکومت پاکستان کے لیے کچھ نہی کر رہی ایک دن میں اپنے دوستوں کی محفل میں ایک دوست کے گھر بیٹھا تھاتو وہاں بھی سیاست پر بحث ہو رہی تھی سب دوست یہی کہ رہے تھے کہ حکومت چور ہے پاکستان کے لیے کچھ نہی کرتی حکمران صرف عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیں اور ملک کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔میں دوستوں کی باتیں سنتا رہا جب یہ بحث ہمیشہ کی طرح بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئی ۔تو میں نے اپنے دوستوں سے ایک سوال کیا کہ ہم سب اپنے پیارے وطن پاکستان کے لیے کیا کر رہے ہیں؟تو سب دوست کہنے لگے ہم کیا کر سکتے ہیں ؟ یہ تو حکومتوں کا کام ہوتا ہے کہ وہ ملک کی فلاح کے لیے کام کرے ملک کی بہتری کے لیے بہترین اقدام اٹھائے وغیرہ وغیرہ ۔میں نے دوستوں سے کہا کہ ہماری بھی کچھ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم بھی اپنے وطن کے لیے کچھ کریں دوست کہنے لگے کہ پھر آپ ہی بتائیں ہم کو کیا کرنا چائیے ؟میں نے کہا کہ میں اک کام شروع میں کرتا ہوں آپ میرا ساتھ دیں ۔سب دوستوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں لیکن ہم کو کرنا کیا ہو گا؟میں نے اس سے کہا کہ ایک دن میں ۲۴ گھنٹے ہوتے ہیں ان ۲۴ گھنٹوں میں ایک گھنٹہ اپنے ملک کے لیے بنتا ہے جو ملک کو دینا ہی چائیے۔لیکن ہم دن میں ایک گھنٹہ نہی بلکہ ہفتے میں ایک گھنٹہ کا پروگرام بناتے ہیں ایک ہفتے میں ۱۶۸ گھنٹے ہوتے ہیں ان میں سے ۱۶۷گھنٹے اپنے گھر والوں کو اپنے کام کاج کو اپنے دوستوں کو دیں ۔لیکن ہفتے میں ایک گھنٹہ پاکستان کو دیں ۔جو کہ مشکل کام نہی ہے میں نے کہا ہم اس ایک گھنٹے میں اپنے گلے میں ایک بڑا سا کارڈ لٹکا کر روڈ پر نکلیں گے جس پر یہ فقرہ لکھا ہو گا ،ایک گھنٹہ پاکستان کے لیے،اور اس گھنٹے میں ہم کو ہر وہ کام کرنا ہو گا جو پاکستان کے حق میں بہتر ہو گا ۔میری اس بات پر تمام دوست متفق ہوئے اور مجھے یقن دہانی کروائی کہ ہم آپکے ساتھ ہیں پھر یہ بات طے پائی کہ ہم مشاورت سے دن اور گھنٹے کا تعین کر کے اپکو بتا دیں گے۔میں اس کے بعد گھر آگیاپھر اسی طرح دن گزرتے گئے کسی دوست نے رابطہ نہ کیا ۔ایک دن پھر ہم سب اتفاق سے اکھٹے تھے میں نے دوستوں کو کہا کہ آپ سب نے ایک گھنٹہ پاکستان کو دینا تھا کیا ہوا اسکا ؟میں تو اپکے جواب کے انتظار میں ہوں آپ لوگوں نے کچھ بتایا ہی نہی؟یہ کام کوئی مشکل تو نہی ہے پھر میں نے ان سے کہا فلاں دن اس وقت ہم نکلیں گے ۔اسکے بعد سب دوست کہنے لگے کہ یار آپ اگلی بار پاکستان آئیں گے تو یہ کام کریں گے۔میں نے کہا واہ رے پاکستانی عوام جو خود تو کچھ کرنا نہی چاہتی وہ کوستی حکمرانوں کو ہے کہ وہ کچھ نہی کرتے ۔جناب عوام جو کروڑوں کی تعداد میں ہے ۔وہ روتی ان حکمرانوں کو ہے جو ہزاروں میں ہیں ۔پاکستان کا ہر بندہ اپنے آپ سے یہ سوال کرے کہ میں پاکستان کے لیے کیا کر رہا ہوں ؟تو اسکا دل اس پر اسی طرح روئے گا جیسے پاکستانی عوام اپنے حکمرانوں پر روتی ہے۔میں نے جب یہ پلان بنایا تھا ،ایک گھنٹہ پاکستان کے لیے ،اسوقت میرے ذہن میں کچھ باتیں تھیں جن کا ذکر کرنا میں یہاں ضروری سمجھتا ہوں کہ شایدمیرا وہ پلان کسی کی سمجھ میں آجائے اور وہ یہ کام شروع کر دے جو میرے دوست نہ کر سکے ۔اواپنے وطن کی بہتری کے لیے اپنا حصہ ڈال سکے۔میں یقین دلاتا ہوں کہ جو یہ کام شروع کرے گا وہ اکیلا نہی رہے گا اگر کسی نے یہ کام شروع کر دیا تو وہ دیکھے گا اس کے پیچھے ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہونگے،
اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل ۔مگر لوگ ملتے گئے کارواں بنتا گیا
میرا یہ پروگرام تھا کہ ہم کچھ دوست مل کر ہفتے میں ایک دن ایک گھنٹہ نکلیں گے ۔اس گھنٹے میں ہم تمام شعبے کے لوگوں سے ملیں گے اور سب کی توجہ اسطرف دلائیں گے آپ آپنے شعبے میں رہتے ہوئے ایک گھنٹہ پاکستان کو دیں ۔مثلا ڈاکٹر حضرات ہفتے میں ایک گھنٹہ ایمان داری کے ساتھ پاکستان کے غریب اور مستحق لوگوں کے لیے دیں اسی طرح وکیل ،استاد ،جج،سرکاری ملازم ،نیز ہر شعبے کر لوگ عام لوگ یعنی عوام بھی ایک گھنٹہ پاکستان بہتری کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں کریں ۔آج یہ سوچ کر مجھے افسوس ہوتا ہے کہ کاش اسوقت میرے دوست میراساتھ دیتے تو آج اس پروگرام میں ہمارے ساتھ ہزاروں لوگ شامل ہو چکے ہوتے اور کئی لوگ اس سے فائدہ بھی حاصل کر چکے ہوتے۔اور ہر دیکھنے والابھی ہمارے ساتھ مل کر پاکستان کی ترقی کے لیے اپنا حصہ ڈالنے کے لیے اپنے آپ کو پیش کر رہا ہوتا۔افسوس ہم پاکستان کے لیے کچھ کرنا ہی نہی چاہتے۔مجھے ایک بات یاد آگئی میں اسوقت پرتگال میں مقیم تھا ۔ایک دن میرا دوست مجھے بتاتا ہے کہ میں بازار گیا تو وہاں ایک چائنی عورت کی دوکان تھی جس کو میں اکثر دیکھتا ہوں بازار میں۔ میرا دوست کہتا ہے میں نے آج اس عورت سے ایک سوال کیا کہ بازار میں سب عورتیں بن سنور کر آتی ہیں اور تم ایسے ہی آتی ہو دوکان پر ؟تو اس عورت نے کیا شاندار جواب دیا ۔اور یہ کالم پڑھنے والو اس بات پر غور ضرور کرنا کہ ایک چائنی عورت کی سوچ اور ہماری سوچ میں کیا فرق ہے ؟وہ عورت میرے دوست کو جواب دیتی ہے کہ پہلے میں اپنے ملک کے لیے تو کچھ کر لوں اپنے ملک کو تو بنا سنوار لوں پھر خود کو بھی سنوار لوں گی واہ کیا خوب سوچ ہے کاش ش ش ش ش ۔۔۔۔۔۔۔ہماری بھی یہ سوچ بن جائے۔قومیں ترقی اسوقت کرتی ہیں جب عوام کی سوچ اس طرح کی ہو۔میں اس چائنی عورت کی بات اپنی پاکستانی عوام کے لیے پیغام بنا کر پیش کرنا چاہتا ہوں خدا راہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے تو حکمرانوں کو کوسنے کی بجائے ہم کو اپنی سوچ تبدیل کرنی ہو گی اپنی سوچ کو اس چائنی عورت کی سوچ جیسا بنانا ہو گا۔ہر بندے کو پاکستان کی بہتری کے لیے کوشش کرنا ہو گی اگر ذیادہ وقت پاکستان کو نہی دے سکتے تو صرف ایک گھنٹہ پاکستان کے لیے نکال لو پھر دیکھنا پاکستان بہت جلد اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر لے گا ۔اور پاکستان دن دوگنی رات چگنی ترقی کرے گا۔لیکن شرط یہ ہے کہ پاکستان کا ہر بندہ ایک گھنٹہ پاکستان کے لیے دے ایمان داری کے ساتھ ۔۔۔امید پر دینا قائم ہے۔۔اور میں بھی امید کرتا ہوں کہ ہر پڑھنے والا میری اس بات کو سمجھتے ہوئے اپنے علاقے میں یہ پروگرام شروع کرے گا اللہ ہمارا حامی وناصر ہو ۔۔۔ آمین