تازہ ترین
زبیر گل کے خلاف ہونے والی سازش تمام تارکین وطن کے خلاف سازش ہے ،لیگی عہدیداران         مسلم لیگ ن سپین کے صدر ایاز عباسی اور سرپرست اعلی حاجی اسد حسین کی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان سے ملاقات         پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کا حل اؤلین ترجیح ہو گی ، خیام اکبرسفیر پاکستان میڈرڈ         مسلم لیگ ن سپین آج شام سات بجے کایئے چلی میں جشن منائے گی ، مٹھائی تقسیم کی تقریب بھی ہو گی         کشمیریوں پر ایک ماہ میں 13 لاکھ پیلٹ گنز فائر کیےگئے،کشمیر پولیس         چار روزہ ورلڈ موبائل کانگریس بارسلوناکا اختتام ، انوشہ رحمان کی شرکت         سوسائٹی فار کرائسٹ اور مسلم لیگ ن سپین کی سانحہ شاہدرہ پر مشترکہ پریس کانفرنس         پاکستانی سیاست کے یورپی ممالک میں مقیم پاکستانیوں پر اثرات ، پاک نیوز سروے رپورٹ         MWC 2018: the biggest news from Mobile World Congress in Barcelona         پاکستان پیپلز پارٹی برطانیہ میں تقرریوں کا سلسلہ جاری         بھارتی لیجنڈری اداکارہ سری دیوی انتقال کرگئیں         کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے لاہور قلندرز کو 9 وکٹوں سے ہرا دیا         ویسٹ انڈیز کا دورئہ پاکستان خطرات سے دوچار         سائرہ پیٹر کی پی لیک فیسٹیول میں شاندار پرفارمنس         اردوان نے اپنے بدترین دشمن سے ہاتھ ملا لیا        
l_399447_023307_updates

بنگلہ دیشی حکومت کا روہنگیا مہاجرین کی نس بندی کا منصوبہ

بنگلہ دیش کے پڑوسی ملک میانمار میں رواں برس اگست سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے فوجی کریک ڈاؤن کے بعد چھ لاکھ کے قریب روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔

میانمار کی ریاست رخائن سے آنے والے مہاجرین کی تازہ لہر میں مزید ہزاروں پناہ گزینوں نے بنگلہ دیش کا رخ کیا ہے۔

ان پناہ گزینوں کی روز بروز بڑھتی تعداد کے باعث مہاجر کیمپوں میں رہائش، کھانے پینے اور بیت الخلاء کی سہولیات ناکافی ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اگر کیمپوں میں خاندانی منصوبہ بندی پر عمل نہیں کرایا گیا تو صورت حال مزید خراب ہو گی۔

بنگلہ دیش کے ضلع کوکس بازار میں جہاں ان پناہ گزینوں کو کیمپوں میں رکھا گیا ہے، فیملی پلاننگ کے سربراہ پنتو کانتی بھٹاچرجی کا کہنا ہے کہ ان روہنگیا مہاجرین کو خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے آگاہی بہت کم ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بھٹاچر جی کا کہنا تھا کہ کیمپوں میں بڑے خاندان کا ہونا ایک معمول کی بات ہے۔ کوکس بازار میں فیملی پلاننگ کے سربراہ کے مطابق بعض والدین کے انیس بچے بھی ہیں اور متعدد روہنگیا مہاجرین ایک سے زائد بیویاں رکھتے ہیں۔

ان مقامی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت سے روہنگیا مردوں کی نس بندی کرانے اور خواتین کے لیے بھی اسی نوعیت کی منصوبہ بندی کی درخواست کی ہے۔

بہت سے پناہ گزینوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ اُن کے خیال میں خاندان بڑا رکھنے سے کیمپوں میں اُن کی بقا قائم رکھنے میں مدد ملے گی جہاں کھانے پینے کی اشیا تک رسائی روزانہ کی جنگ ہے اور اکثر بچوں کو ہی سامان خورد و نوش لانے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔

دیگر کئی روہنگیا پناہ گزینوں کا ماننا ہے کہ حمل روکنا اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے۔ فرحانہ سلطانہ مہاجر کیمپوں میں فیملی پلاننگ کے لیے کام کرنے والی ایک رضا کار ہیں۔ سلطانہ کا کہنا ہے کہ کیمپوں میں بہت سی خواتین فیملی پلاننگ کو گناہ سمجھتی ہے۔

بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ کیمپوں میں مہاجرین کی آمد کے بعد سے چھ سو بچوں کی پیدائش ہو چکی ہے جبکہ بیس ہزار مہاجر خواتین حاملہ ہیں