تازہ ترین
کھیلوں کے میدان آباد کرکے مقامی کمیونٹی کو مثبت اور صحت مندانہ پیغام دیا جا سکتا ہے         ایاز عباسی کو مسلم لیگ ن سپین کا متفقہ صدر منتخب کر لیا گیا         مسلم لیگ ن سپین کے صدر ایاز عباسی کی ایگزیکٹو باڈی کا اعلان کر دیا گیا         ایف آئی اے کی کارروائی، 4 انسانی اسمگلرز گرفتار         لیبیا میں حادثے کے شکار افراد کو بھجوانے والا گروہ گرفتار         ایران میں حجاب مخالف احتجاج،29خواتین گرفتار         لیبیا: کشتی ڈوبنے کا واقعہ 16 پاکستانی جاں بحق ہونے کی تصدیق         سپین۔بزم نظام انٹرنیشنل کے زیر اہتمام محفل نعت ، عاشقان رسول ﷺ کی کثیر تعداد میں شرکت         شہزاد اصغر بھٹی کا چوہدری زبیر ٹانڈہ کے اعزاز میں ظہرانہ ، تحریک انصاف سپین کے صدر اور عہدیداران کی شرکت         سپین۔’’روجر تورنت ماریو ‘‘کاتالونیا کے نئے اسپیکر منتخب         سینئر صحافی عادل عباسی کے اعزاز میں چوہدری کلیم الدین وڑائچ آف گورالی کا عشائیہ ، معززین کی شرکت         بیلجیئم میں دھماکا، متعدد افراد زخمی         پی آئی اےاپنی پروازوں کےدائرہ کارمیں کمی نہیں لارہی، ترجمان         تارکین وطن پرسان فرانسسکوجج کا فیصلہ اشتعال انگیز ہے،وائٹ ہائوس         سن2017 میں 1465 خواتین کوزیادتی کا نشانہ بنایا گیا        
l_399447_023307_updates

بنگلہ دیشی حکومت کا روہنگیا مہاجرین کی نس بندی کا منصوبہ

بنگلہ دیش کے پڑوسی ملک میانمار میں رواں برس اگست سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے فوجی کریک ڈاؤن کے بعد چھ لاکھ کے قریب روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔

میانمار کی ریاست رخائن سے آنے والے مہاجرین کی تازہ لہر میں مزید ہزاروں پناہ گزینوں نے بنگلہ دیش کا رخ کیا ہے۔

ان پناہ گزینوں کی روز بروز بڑھتی تعداد کے باعث مہاجر کیمپوں میں رہائش، کھانے پینے اور بیت الخلاء کی سہولیات ناکافی ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اگر کیمپوں میں خاندانی منصوبہ بندی پر عمل نہیں کرایا گیا تو صورت حال مزید خراب ہو گی۔

بنگلہ دیش کے ضلع کوکس بازار میں جہاں ان پناہ گزینوں کو کیمپوں میں رکھا گیا ہے، فیملی پلاننگ کے سربراہ پنتو کانتی بھٹاچرجی کا کہنا ہے کہ ان روہنگیا مہاجرین کو خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے آگاہی بہت کم ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بھٹاچر جی کا کہنا تھا کہ کیمپوں میں بڑے خاندان کا ہونا ایک معمول کی بات ہے۔ کوکس بازار میں فیملی پلاننگ کے سربراہ کے مطابق بعض والدین کے انیس بچے بھی ہیں اور متعدد روہنگیا مہاجرین ایک سے زائد بیویاں رکھتے ہیں۔

ان مقامی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت سے روہنگیا مردوں کی نس بندی کرانے اور خواتین کے لیے بھی اسی نوعیت کی منصوبہ بندی کی درخواست کی ہے۔

بہت سے پناہ گزینوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ اُن کے خیال میں خاندان بڑا رکھنے سے کیمپوں میں اُن کی بقا قائم رکھنے میں مدد ملے گی جہاں کھانے پینے کی اشیا تک رسائی روزانہ کی جنگ ہے اور اکثر بچوں کو ہی سامان خورد و نوش لانے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔

دیگر کئی روہنگیا پناہ گزینوں کا ماننا ہے کہ حمل روکنا اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے۔ فرحانہ سلطانہ مہاجر کیمپوں میں فیملی پلاننگ کے لیے کام کرنے والی ایک رضا کار ہیں۔ سلطانہ کا کہنا ہے کہ کیمپوں میں بہت سی خواتین فیملی پلاننگ کو گناہ سمجھتی ہے۔

بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ کیمپوں میں مہاجرین کی آمد کے بعد سے چھ سو بچوں کی پیدائش ہو چکی ہے جبکہ بیس ہزار مہاجر خواتین حاملہ ہیں