تازہ ترین
سپین۔تارکین وطن پاکستانی مقامی سیاسی پارٹیوں کا حصہ بنیں ، حافظ عبدالرزاق صادق         سپین۔گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ، ہزاروں افراد کی شرکت         گریگ فیسٹیول ’’ منجوئیک ‘‘ میں پاکستانی ثقافت کے رنگ ، پاکسانی شعرا نے اپنا کلام سنایا         سپین۔مسلم لیگ کا اجلاس احتجاجی ضرور تھا لیکن کسی کے خلاف نہیں ، عہدیداران         سپین۔مسیحیوں کو اپنا نمائندہ خودمنتخب کرنے کا حق دیا جائے ، راجو الیگزینڈر         میاں نواز شریف کے استقبال کے لئے سپین سے بھی قافلے پاکستان پہنچیں گے ، مسلم لیگ ن سپین         سپین۔ تصویری نمائش میں بے نظیر بھٹو شہید کی تصویر توجہ کا مرکز         سپین۔الیکٹرانک میڈیا نمائندگان کے پلیٹ فارم کے لئے ایگزیکٹو کمیٹی قائم         سپین۔سفیر پاکستان اور قونصل جنرل بارسلونا کی کمیونٹی سے ملاقات         سپین۔بارسلونا کرکٹ کلب کی یونیفارم کی رونمائی اور تقریب تقسیم انعامات ظہیر عباس کی شرکت         سپین۔کشمیر کی آواز سنو سیمینارمیں بیرسٹر سلطان محمود کی شرکت         جنرل سیکرٹری مسلم لیگ ن سپین راجو الیگزینڈر کی جانب سے بیگم کلثوم نواز کی صحت یابی کے لئے دعائیہ تقریب کا اہتمام         چین نے پاکستانیوں کیلئے ویزہ اجراء کو نہایت آسان کر دیا         انڈونیشیا میں کشتی ڈوبنے سے193افراد تاحال لاپتہ         موت سے بچ جانے والے مزید 522 تارکین وطن اٹلی پہنچ گئے، حکومت روکنے میں ناکام        
l_399457_062812_updates

عدالتی فیصلوں پر محاذ آرائی کی سیاست نہیں ہونی چاہیے، چوہدری نثار

سابق وفاقی وزیر چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلوں پر من وعن عمل اور محاذ آرائی کی سیاست بند ہونی چاہیے۔

ٹیکسلا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ میں حکومت میں نہیں لیکن میری پارٹی کی حکومت ہے اور میں باہر بیٹھ کر تنقید نہیں کرسکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپنی جماعت کے ساتھ ہوں اور ہمیشہ رہوں گا لیکن اداروں سے ٹکراؤ والے بیان پر اب بھی قائم ہوں، حکومت کو اپوزیشن کے علاوہ پارٹی کے اندر سے بھی احتساب کا سامنا ہو تو زیادہ بہتر ہےاور پارٹی کی مشاورت سے جو بھی فیصلہ ہو قابل قبول ہونا چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈان لیکس رپورٹ کو منظر عام پر لایا جانا چاہئے اور اس معاملے میں کسی مرحلہ پر مریم نواز کا نام نہیں آیا۔

چوہدری نثار نے بتایا کہ پاکستانی شہریت بیچی جاتی ہے اور اس کے لیے وزارت داخلہ کے ملازمین کے علاوہ سیاست دان بھی سفارشیں کرتے رہے ہیں، میں نے اپنی دور وزارت میں 33 ہزار پاسپورٹ منسوخ اور لاکھوں شناختی کارڈز بلاک کیے۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ کسی مہاجر کو دھکیل کر ان کے وطن واپس نہیں بھیجا جاسکتا، کوشش ہے کہ مہاجرین کو باعزت طریقے سے واپس بھیجا جائےتاہم افغان شہری پاکستان میں مقیم ہیں اور کسی غیر قانونی کام میں ملوث نہیں تو کوئی ابہام نہیں اور مہاجرین کو پاکستان میں رہنے کا حق حاصل ہے