تازہ ترین
سپین۔تارکین وطن پاکستانی مقامی سیاسی پارٹیوں کا حصہ بنیں ، حافظ عبدالرزاق صادق         سپین۔گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ، ہزاروں افراد کی شرکت         گریگ فیسٹیول ’’ منجوئیک ‘‘ میں پاکستانی ثقافت کے رنگ ، پاکسانی شعرا نے اپنا کلام سنایا         سپین۔مسلم لیگ کا اجلاس احتجاجی ضرور تھا لیکن کسی کے خلاف نہیں ، عہدیداران         سپین۔مسیحیوں کو اپنا نمائندہ خودمنتخب کرنے کا حق دیا جائے ، راجو الیگزینڈر         میاں نواز شریف کے استقبال کے لئے سپین سے بھی قافلے پاکستان پہنچیں گے ، مسلم لیگ ن سپین         سپین۔ تصویری نمائش میں بے نظیر بھٹو شہید کی تصویر توجہ کا مرکز         سپین۔الیکٹرانک میڈیا نمائندگان کے پلیٹ فارم کے لئے ایگزیکٹو کمیٹی قائم         سپین۔سفیر پاکستان اور قونصل جنرل بارسلونا کی کمیونٹی سے ملاقات         سپین۔بارسلونا کرکٹ کلب کی یونیفارم کی رونمائی اور تقریب تقسیم انعامات ظہیر عباس کی شرکت         سپین۔کشمیر کی آواز سنو سیمینارمیں بیرسٹر سلطان محمود کی شرکت         جنرل سیکرٹری مسلم لیگ ن سپین راجو الیگزینڈر کی جانب سے بیگم کلثوم نواز کی صحت یابی کے لئے دعائیہ تقریب کا اہتمام         چین نے پاکستانیوں کیلئے ویزہ اجراء کو نہایت آسان کر دیا         انڈونیشیا میں کشتی ڈوبنے سے193افراد تاحال لاپتہ         موت سے بچ جانے والے مزید 522 تارکین وطن اٹلی پہنچ گئے، حکومت روکنے میں ناکام        
forgive02

قتل کے کیس میں سزاپانے والے سیاہ فام مجرم کو مقتول کے مسلمان باپ نے معاف کر دیا

امریکا کی ایک عدالت میں اس وقت جذباتی مناظر دیکھے گئے جب قتل کے کیس میں سزاپانے والے سیاہ فام مجرم کو مقتول کے مسلمان باپ نے معاف کرتے ہوئے گلے سے لگالیا۔خاتون جج بھی آب دیدہ ہوگئی۔

امریکا کی لیگزنگٹن کاؤنٹی کی ایک عدالت میں تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے شہری ڈاکٹر عبدالمنیم کے نوجوان بیٹے صلاح الدین کے قتل کا مقدمہ زیرسماعت تھا۔ عدالت نے سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے صلاح الدین کے قتل کے مجرم 31 سالہ سیاہ فام نوجوان ٹرے ریلفورڈ کو 31 سال قید کی سزا کا حکم دیا۔

 

عدالت میں اس وقت جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے جب ڈاکٹر عبدالمنیم جج کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد آگے بڑھے اور مختصر بات کرتے ہوئے مجرم کو مخاطب کیا اور کہا کہ میں تمہیں اپنے بیٹے کے قتل کا الزام نہیں دیتا بلکہ شیطان نے یہ جرم کرنے پر مجبور کیا۔

ڈاکٹر عبدالمنیم نے کہا کہ ان کا 24 سالہ بیٹا بہت بہادر، شرمیلا اور ملنسار تھا لیکن اسلام میں معافی سب سے بڑا صدقہ ہے اس لئے میں بیٹے کے قاتل کو معاف کرتا ہوں۔

ڈاکٹر عبدالمنیم اپنی بات کہنے کے بعد آگے بڑھے اور مجرم کو گلے سے لگا لیا، یہ مناظر دیکھ کر کمرہ عدالت میں موجود افراد کی آنکھوں میں آنسو آگئے، یہاں تک کہ خاتون جج بھی اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں اور سماعت کچھ دیر کے لئے ملتوی کردی۔

تھوڑی دیر بعد خاتون جج کمرہ عدالت میں واپس آئیں تو ٹرے ریلفورڈ کی والدہ کٹہرے میں آئیں اور کہا کہ ان کا بیٹا بہت اچھا بچہ تھا لیکن کم عمری میں نشے کی لت نے اسے خراب کیا۔

انہوں نے صلاح الدین کے قتل کی پوری ذمہ داری لیتے ہوئے کہا کہ انہیں نوجوان کے قتل پر بے حد افسوس ہے اور ڈاکٹر عبدالمنیم کی جانب سے معافی نے انہیں حیران کردیا ہے۔

والدہ کے بعد ٹرے ریلفورڈ نے روسٹرم پر کھڑے ہو کر کہا کہ وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہیں اور معاف کرنے پر ڈاکٹر عبدالمنیم کے شکر گزار ہیں۔

مقتول صلاح الدین پیزا ڈلیوری کے لئے ٹرے ریلفورڈ کے فلیٹ پر گیا تھا جہاں اس نے صلاح الدین کے پاس موجود رقم لوٹتے ہوئے چھریوں کے وار کر کے اسے قتل کردیا تھا۔