تازہ ترین
کھیلوں کے میدان آباد کرکے مقامی کمیونٹی کو مثبت اور صحت مندانہ پیغام دیا جا سکتا ہے         ایاز عباسی کو مسلم لیگ ن سپین کا متفقہ صدر منتخب کر لیا گیا         مسلم لیگ ن سپین کے صدر ایاز عباسی کی ایگزیکٹو باڈی کا اعلان کر دیا گیا         ایف آئی اے کی کارروائی، 4 انسانی اسمگلرز گرفتار         لیبیا میں حادثے کے شکار افراد کو بھجوانے والا گروہ گرفتار         ایران میں حجاب مخالف احتجاج،29خواتین گرفتار         لیبیا: کشتی ڈوبنے کا واقعہ 16 پاکستانی جاں بحق ہونے کی تصدیق         سپین۔بزم نظام انٹرنیشنل کے زیر اہتمام محفل نعت ، عاشقان رسول ﷺ کی کثیر تعداد میں شرکت         شہزاد اصغر بھٹی کا چوہدری زبیر ٹانڈہ کے اعزاز میں ظہرانہ ، تحریک انصاف سپین کے صدر اور عہدیداران کی شرکت         سپین۔’’روجر تورنت ماریو ‘‘کاتالونیا کے نئے اسپیکر منتخب         سینئر صحافی عادل عباسی کے اعزاز میں چوہدری کلیم الدین وڑائچ آف گورالی کا عشائیہ ، معززین کی شرکت         بیلجیئم میں دھماکا، متعدد افراد زخمی         پی آئی اےاپنی پروازوں کےدائرہ کارمیں کمی نہیں لارہی، ترجمان         تارکین وطن پرسان فرانسسکوجج کا فیصلہ اشتعال انگیز ہے،وائٹ ہائوس         سن2017 میں 1465 خواتین کوزیادتی کا نشانہ بنایا گیا        
forgive02

قتل کے کیس میں سزاپانے والے سیاہ فام مجرم کو مقتول کے مسلمان باپ نے معاف کر دیا

امریکا کی ایک عدالت میں اس وقت جذباتی مناظر دیکھے گئے جب قتل کے کیس میں سزاپانے والے سیاہ فام مجرم کو مقتول کے مسلمان باپ نے معاف کرتے ہوئے گلے سے لگالیا۔خاتون جج بھی آب دیدہ ہوگئی۔

امریکا کی لیگزنگٹن کاؤنٹی کی ایک عدالت میں تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے شہری ڈاکٹر عبدالمنیم کے نوجوان بیٹے صلاح الدین کے قتل کا مقدمہ زیرسماعت تھا۔ عدالت نے سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے صلاح الدین کے قتل کے مجرم 31 سالہ سیاہ فام نوجوان ٹرے ریلفورڈ کو 31 سال قید کی سزا کا حکم دیا۔

 

عدالت میں اس وقت جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے جب ڈاکٹر عبدالمنیم جج کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد آگے بڑھے اور مختصر بات کرتے ہوئے مجرم کو مخاطب کیا اور کہا کہ میں تمہیں اپنے بیٹے کے قتل کا الزام نہیں دیتا بلکہ شیطان نے یہ جرم کرنے پر مجبور کیا۔

ڈاکٹر عبدالمنیم نے کہا کہ ان کا 24 سالہ بیٹا بہت بہادر، شرمیلا اور ملنسار تھا لیکن اسلام میں معافی سب سے بڑا صدقہ ہے اس لئے میں بیٹے کے قاتل کو معاف کرتا ہوں۔

ڈاکٹر عبدالمنیم اپنی بات کہنے کے بعد آگے بڑھے اور مجرم کو گلے سے لگا لیا، یہ مناظر دیکھ کر کمرہ عدالت میں موجود افراد کی آنکھوں میں آنسو آگئے، یہاں تک کہ خاتون جج بھی اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں اور سماعت کچھ دیر کے لئے ملتوی کردی۔

تھوڑی دیر بعد خاتون جج کمرہ عدالت میں واپس آئیں تو ٹرے ریلفورڈ کی والدہ کٹہرے میں آئیں اور کہا کہ ان کا بیٹا بہت اچھا بچہ تھا لیکن کم عمری میں نشے کی لت نے اسے خراب کیا۔

انہوں نے صلاح الدین کے قتل کی پوری ذمہ داری لیتے ہوئے کہا کہ انہیں نوجوان کے قتل پر بے حد افسوس ہے اور ڈاکٹر عبدالمنیم کی جانب سے معافی نے انہیں حیران کردیا ہے۔

والدہ کے بعد ٹرے ریلفورڈ نے روسٹرم پر کھڑے ہو کر کہا کہ وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہیں اور معاف کرنے پر ڈاکٹر عبدالمنیم کے شکر گزار ہیں۔

مقتول صلاح الدین پیزا ڈلیوری کے لئے ٹرے ریلفورڈ کے فلیٹ پر گیا تھا جہاں اس نے صلاح الدین کے پاس موجود رقم لوٹتے ہوئے چھریوں کے وار کر کے اسے قتل کردیا تھا۔