تازہ ترین
زبیر گل کے خلاف ہونے والی سازش تمام تارکین وطن کے خلاف سازش ہے ،لیگی عہدیداران         مسلم لیگ ن سپین کے صدر ایاز عباسی اور سرپرست اعلی حاجی اسد حسین کی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان سے ملاقات         پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کا حل اؤلین ترجیح ہو گی ، خیام اکبرسفیر پاکستان میڈرڈ         مسلم لیگ ن سپین آج شام سات بجے کایئے چلی میں جشن منائے گی ، مٹھائی تقسیم کی تقریب بھی ہو گی         کشمیریوں پر ایک ماہ میں 13 لاکھ پیلٹ گنز فائر کیےگئے،کشمیر پولیس         چار روزہ ورلڈ موبائل کانگریس بارسلوناکا اختتام ، انوشہ رحمان کی شرکت         سوسائٹی فار کرائسٹ اور مسلم لیگ ن سپین کی سانحہ شاہدرہ پر مشترکہ پریس کانفرنس         پاکستانی سیاست کے یورپی ممالک میں مقیم پاکستانیوں پر اثرات ، پاک نیوز سروے رپورٹ         MWC 2018: the biggest news from Mobile World Congress in Barcelona         پاکستان پیپلز پارٹی برطانیہ میں تقرریوں کا سلسلہ جاری         بھارتی لیجنڈری اداکارہ سری دیوی انتقال کرگئیں         کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے لاہور قلندرز کو 9 وکٹوں سے ہرا دیا         ویسٹ انڈیز کا دورئہ پاکستان خطرات سے دوچار         سائرہ پیٹر کی پی لیک فیسٹیول میں شاندار پرفارمنس         اردوان نے اپنے بدترین دشمن سے ہاتھ ملا لیا        
forgive02

قتل کے کیس میں سزاپانے والے سیاہ فام مجرم کو مقتول کے مسلمان باپ نے معاف کر دیا

امریکا کی ایک عدالت میں اس وقت جذباتی مناظر دیکھے گئے جب قتل کے کیس میں سزاپانے والے سیاہ فام مجرم کو مقتول کے مسلمان باپ نے معاف کرتے ہوئے گلے سے لگالیا۔خاتون جج بھی آب دیدہ ہوگئی۔

امریکا کی لیگزنگٹن کاؤنٹی کی ایک عدالت میں تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے شہری ڈاکٹر عبدالمنیم کے نوجوان بیٹے صلاح الدین کے قتل کا مقدمہ زیرسماعت تھا۔ عدالت نے سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے صلاح الدین کے قتل کے مجرم 31 سالہ سیاہ فام نوجوان ٹرے ریلفورڈ کو 31 سال قید کی سزا کا حکم دیا۔

 

عدالت میں اس وقت جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے جب ڈاکٹر عبدالمنیم جج کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد آگے بڑھے اور مختصر بات کرتے ہوئے مجرم کو مخاطب کیا اور کہا کہ میں تمہیں اپنے بیٹے کے قتل کا الزام نہیں دیتا بلکہ شیطان نے یہ جرم کرنے پر مجبور کیا۔

ڈاکٹر عبدالمنیم نے کہا کہ ان کا 24 سالہ بیٹا بہت بہادر، شرمیلا اور ملنسار تھا لیکن اسلام میں معافی سب سے بڑا صدقہ ہے اس لئے میں بیٹے کے قاتل کو معاف کرتا ہوں۔

ڈاکٹر عبدالمنیم اپنی بات کہنے کے بعد آگے بڑھے اور مجرم کو گلے سے لگا لیا، یہ مناظر دیکھ کر کمرہ عدالت میں موجود افراد کی آنکھوں میں آنسو آگئے، یہاں تک کہ خاتون جج بھی اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں اور سماعت کچھ دیر کے لئے ملتوی کردی۔

تھوڑی دیر بعد خاتون جج کمرہ عدالت میں واپس آئیں تو ٹرے ریلفورڈ کی والدہ کٹہرے میں آئیں اور کہا کہ ان کا بیٹا بہت اچھا بچہ تھا لیکن کم عمری میں نشے کی لت نے اسے خراب کیا۔

انہوں نے صلاح الدین کے قتل کی پوری ذمہ داری لیتے ہوئے کہا کہ انہیں نوجوان کے قتل پر بے حد افسوس ہے اور ڈاکٹر عبدالمنیم کی جانب سے معافی نے انہیں حیران کردیا ہے۔

والدہ کے بعد ٹرے ریلفورڈ نے روسٹرم پر کھڑے ہو کر کہا کہ وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہیں اور معاف کرنے پر ڈاکٹر عبدالمنیم کے شکر گزار ہیں۔

مقتول صلاح الدین پیزا ڈلیوری کے لئے ٹرے ریلفورڈ کے فلیٹ پر گیا تھا جہاں اس نے صلاح الدین کے پاس موجود رقم لوٹتے ہوئے چھریوں کے وار کر کے اسے قتل کردیا تھا۔