تازہ ترین
سپین۔تارکین وطن پاکستانی مقامی سیاسی پارٹیوں کا حصہ بنیں ، حافظ عبدالرزاق صادق         سپین۔گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ، ہزاروں افراد کی شرکت         گریگ فیسٹیول ’’ منجوئیک ‘‘ میں پاکستانی ثقافت کے رنگ ، پاکسانی شعرا نے اپنا کلام سنایا         سپین۔مسلم لیگ کا اجلاس احتجاجی ضرور تھا لیکن کسی کے خلاف نہیں ، عہدیداران         سپین۔مسیحیوں کو اپنا نمائندہ خودمنتخب کرنے کا حق دیا جائے ، راجو الیگزینڈر         میاں نواز شریف کے استقبال کے لئے سپین سے بھی قافلے پاکستان پہنچیں گے ، مسلم لیگ ن سپین         سپین۔ تصویری نمائش میں بے نظیر بھٹو شہید کی تصویر توجہ کا مرکز         سپین۔الیکٹرانک میڈیا نمائندگان کے پلیٹ فارم کے لئے ایگزیکٹو کمیٹی قائم         سپین۔سفیر پاکستان اور قونصل جنرل بارسلونا کی کمیونٹی سے ملاقات         سپین۔بارسلونا کرکٹ کلب کی یونیفارم کی رونمائی اور تقریب تقسیم انعامات ظہیر عباس کی شرکت         سپین۔کشمیر کی آواز سنو سیمینارمیں بیرسٹر سلطان محمود کی شرکت         جنرل سیکرٹری مسلم لیگ ن سپین راجو الیگزینڈر کی جانب سے بیگم کلثوم نواز کی صحت یابی کے لئے دعائیہ تقریب کا اہتمام         چین نے پاکستانیوں کیلئے ویزہ اجراء کو نہایت آسان کر دیا         انڈونیشیا میں کشتی ڈوبنے سے193افراد تاحال لاپتہ         موت سے بچ جانے والے مزید 522 تارکین وطن اٹلی پہنچ گئے، حکومت روکنے میں ناکام        
l_413704_072234_updates

بیلجیم کے ہزاروں بچوں کو روزانہ ڈپریشن کی گولیاں کھانے پر کس نے مجبور کیا ، آپ بھی جانیں

بلجیم میں 17ہزار 600 بچے اینٹی ڈپریشن کی گو لیاں لے رہے ہیں، اس کی وجہ تعلیم کے لیے والدین کا بچوں پر دبائو ڈالنا ہے۔

بلجیم میں بچوں کی نفسیات کے ڈاکٹر سوینن نے مقامی ٹی وی کو انٹرو یو دیتے ہو ئے بتا یا کہ ہمارے سماج میں 11 سے 15 سال کی عمر کے بچے شدید ذہنی دبائو کا شکار ہیں، جس کی اہم وجہ والدین کی طرف سے بچوں پر تعلیم کے لیے بہت زیادہ دبائو اور سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال بھی ہے۔

بلجیئن والدین اپنے بچوں پر ہم عصروں سے آگے نکلنے کے لیے بہت زیادہ دبائو ڈالتے ہیں اور ہر وقت پڑھائی پر تو جہ دینے کی ترغیب دیتے رہتے ہیں ، جبکہ سوشل میڈیا کے استعمال پر تصاویر پر لائیکس نہ آنا اور ناگوا ر کمنٹس بھی ان بچوں کی شخصیت کو مسخ کر دیتے ہیں۔

ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے 11سے 15 سال کی عمر کے ساڑھے 17 ہزر بچوں کو ڈپریشن کی گو لیاں دی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان میں کچھ نو جوان 15 سے 20 سال کی عمر کے بھی ہیں جنہیں ماں باپ کی علیحدگی نے بھی تکلیف دی ہے۔

ڈاکٹر کے مطابق اینٹی ڈپریشن ادویات کے استعمال کرنے والوں کی یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 8 اعشاریہ 4 فیصد زیادہ ہے۔