تازہ ترین
زبیر گل کے خلاف ہونے والی سازش تمام تارکین وطن کے خلاف سازش ہے ،لیگی عہدیداران         مسلم لیگ ن سپین کے صدر ایاز عباسی اور سرپرست اعلی حاجی اسد حسین کی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان سے ملاقات         پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کا حل اؤلین ترجیح ہو گی ، خیام اکبرسفیر پاکستان میڈرڈ         مسلم لیگ ن سپین آج شام سات بجے کایئے چلی میں جشن منائے گی ، مٹھائی تقسیم کی تقریب بھی ہو گی         کشمیریوں پر ایک ماہ میں 13 لاکھ پیلٹ گنز فائر کیےگئے،کشمیر پولیس         چار روزہ ورلڈ موبائل کانگریس بارسلوناکا اختتام ، انوشہ رحمان کی شرکت         سوسائٹی فار کرائسٹ اور مسلم لیگ ن سپین کی سانحہ شاہدرہ پر مشترکہ پریس کانفرنس         پاکستانی سیاست کے یورپی ممالک میں مقیم پاکستانیوں پر اثرات ، پاک نیوز سروے رپورٹ         MWC 2018: the biggest news from Mobile World Congress in Barcelona         پاکستان پیپلز پارٹی برطانیہ میں تقرریوں کا سلسلہ جاری         بھارتی لیجنڈری اداکارہ سری دیوی انتقال کرگئیں         کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے لاہور قلندرز کو 9 وکٹوں سے ہرا دیا         ویسٹ انڈیز کا دورئہ پاکستان خطرات سے دوچار         سائرہ پیٹر کی پی لیک فیسٹیول میں شاندار پرفارمنس         اردوان نے اپنے بدترین دشمن سے ہاتھ ملا لیا        
church1

کوئٹہ میں چرچ پر حملہ ، 9 افراد جان سے گئے

کوئٹہ میں چرچ پر دہشت گرد حملے کی ایک اور زخمی خاتون دم توڑ گئی ، واقعے میں مرنے والے افراد کی تعداد 9ہوگئی ہے ۔

زرغون روڈ پر واقع چرچ میں ایک خود کش بمبار نے خود کو اڑالیا ،دھماکے میں 9افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں57سے زائد زخمی ہیں ۔

ترجمان سول اسپتال کے مطابق شانتی نامی خاتون ٹراما سینٹر میں تشویشناک حالت میں زیر علاج تھی کہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئی جبکہ زیر علاج مریضوں میں سے 4 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے ۔

واقعے میں مرنے والی خواتین کی تعداد 4 ہوگئی ہے ،دیگر 8 افراد کی شناخت مہک بنت سہیل یوسف ، مدیحہ بنت برکت، سونا زوجہ نوف حمید ، فضل مسیح،آکاش،جارج مسیح،گلزاربھٹی اورسلطان مسیح کےناموں سے ہوئی ہے۔

 

سیکیورٹی فورسز کے مطابق چرچ پر 4 دہشت گردوں نے حملہ کیا ،جن میں سے 2 خودکش حملہ آور ہلاک اور2 فرار ہوگئے ہیں۔

کوئٹہ کے زرغون روڈ پر دہشت گردوں نے چرچ پر اس وقت حملہ کیا جب وہاں دعائیہ تقریب جاری تھی، خودکش بمباروں نے چرچ کے اندر جانے کی کوشش کی تاہم مرکزی دروازے پر تعینات اہلکار نے فائرنگ کر کے ایک بمبار کو مار گرایا جب کہ دوسرا خودکش حملہ آور چرچ کے احاطے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

فائرنگ کے بعد پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان دوطرفہ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا،اس دوران زخمی ہونے والے دوسرے خود کش بمبار نے خود کو چر چ کے احاطے میں ہی اڑا لیا ۔

 

ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کے مطابق چرچ پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی تعداد 4 تھی، جن میں سے 2 ہلاک اور 2 فرار ہوگئے، علاقے کو گھیرے میں لیتے ہوئے فرار ہونے والے 2 دہشتگردوں کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔

جب کہ وزیرداخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ 2 خود کش حملہ آوروں نے زرغون روڈ پر واقع چرچ پر حملہ کیا، جن میں سے ایک مرکزی دروازے پر اہلکار کی فائرنگ سے مارا گیااور دوسرے نے چرچ کے احاطے میں خود کو دھماکے سے اڑایا۔

آئی جی بلوچستان معظم انصاری نے کہا کہ خودکش حملہ آوروں کی تعداد 2 تھی، جن میں ایک دہشت گرد چرچ کے مرکزی دروازے پر مارا گیا جب کہ دوسرے نے احاطے میں خود کو دھماکے سے اڑایا۔

آئی جی بلوچستان نے کہا کہ چرچ میں خواتین اور بچوں سمیت تقریباً 400 افراد موجود تھے، اگر دہشت گرد چرچ کے اندر پہنچ جاتے تو بہت بڑا نقصان ہوسکتا تھا تاہم سیکیورٹی فورسز نے فرائض انجام دیتے ہوئے قوم کو بڑے سانحے سے بچاتے ہوئے حملہ آوروں کو ہلاک کیا۔

 

سول اسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق چرچ حملے میں 4 خواتین سمیت 9 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ 57 زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے، زخمیوں میں سے4 کی حالت تشویشناک ہے۔

ڈائریکٹر سول ڈیفنس کے مطابق دونوں حملہ آوروں کی عمریں 16 سے 20 سال کے درمیان تھیں جب کہ اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک دہشت گرد کی خودکش جیکٹ ناکارہ بنا دی گئی۔

 

ڈائریکٹر سول ڈیفنس کے مطابق حملہ آوروں کی خودکش جیکٹ میں تقریباً 15 ،15 کلو بارودی مواد موجود تھا اور خودکش جیکٹوں میں 10، 10 میٹر پرائما کارڈ بھی استعمال کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنااللہ زہری نے آئی جی بلوچستان سے چرچ حملے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ اور آئی جی ایف سی میجر جنرل ندیم انجم اور دیگر حکام نے سول اسپتال میں ٹراما سینٹر کا دورہ کیا اور چرچ حملے کے زخمیوں کی عیادت کی۔