تازہ ترین
سپین۔مسلم لیگ کا اجلاس احتجاجی ضرور تھا لیکن کسی کے خلاف نہیں ، عہدیداران         سپین۔مسیحیوں کو اپنا نمائندہ خودمنتخب کرنے کا حق دیا جائے ، راجو الیگزینڈر         میاں نواز شریف کے استقبال کے لئے سپین سے بھی قافلے پاکستان پہنچیں گے ، مسلم لیگ ن سپین         سپین۔ تصویری نمائش میں بے نظیر بھٹو شہید کی تصویر توجہ کا مرکز         سپین۔الیکٹرانک میڈیا نمائندگان کے پلیٹ فارم کے لئے ایگزیکٹو کمیٹی قائم         سپین۔سفیر پاکستان اور قونصل جنرل بارسلونا کی کمیونٹی سے ملاقات         سپین۔بارسلونا کرکٹ کلب کی یونیفارم کی رونمائی اور تقریب تقسیم انعامات ظہیر عباس کی شرکت         سپین۔کشمیر کی آواز سنو سیمینارمیں بیرسٹر سلطان محمود کی شرکت         جنرل سیکرٹری مسلم لیگ ن سپین راجو الیگزینڈر کی جانب سے بیگم کلثوم نواز کی صحت یابی کے لئے دعائیہ تقریب کا اہتمام         چین نے پاکستانیوں کیلئے ویزہ اجراء کو نہایت آسان کر دیا         انڈونیشیا میں کشتی ڈوبنے سے193افراد تاحال لاپتہ         موت سے بچ جانے والے مزید 522 تارکین وطن اٹلی پہنچ گئے، حکومت روکنے میں ناکام         برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کا بل کامنز میں منظور، ووٹ نے عوام کی طاقت ثابت کردی، وزیراعظم         ان گنت طبی فوائد لیے چھوٹا سا بیج ’’تخم بالنگا‘‘         اسمارٹ فون پھٹنے سے ملائیشین ٹیکنالوجی کمپنی کا سربراہ ہلاک        
l_420179_072916_updates

نارویجن کرکٹ فیڈریشن کےسینئر کوچ خالد محمود انتقال کرگئے

ناروے میں کرکٹ شائقین کو صدمہ، نارویجن کرکٹ فیڈریشن کے پاکستانی نژاد ڈیولپنگ آرگنائزر اور نیشنل کرکٹ ٹیم کے سینئرترین کوچ خالد محمود انتقال کرگئے۔

خالد محمود جنہیں ناروے میں کرکٹ کے بانیوں میں شمار کیا جاتاہے، ہفتے کی شب ناروے میں انتقال کرگئے۔ وہ سرطان کے عارضے میں مبتلا تھے۔ مرحوم سینٹرم کرکٹ کلب ناروے کے بانی تھے اور اس وقت نارویجن کرکٹ فیڈریشن کے ڈیولپنگ آرگنائزر کے عہدے پر کام کررہے تھے۔

ستاون سالہ خالد محمود جو ستر کی دہائی میں اپنے والد کے ساتھ ناروے آئے ، کرکٹ کے فرورغ کے لیے اپنی گرانقدر خدمات کی وجہ سے ناروے میں کپتان جی کے نام سے مشہور تھے۔ خالد محمود کا بنیادی طور پر تعلق لاہور سے ہے اور وہ ناروے میں مقیم ممتاز سماجی و کاروباری شخصیت چوہدری شمعون کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔

خالد محمود ناروے آنے سے قبل لاہور میں بھی کرکٹ کھیلتے رہے اور اسی وجہ سے انھوں نے ناروے آنے کے بعد یہاں کرکٹ کو فروغ دینے کے لیے کلب بنایا۔انہیں پچھلے چند سالوں سے سرطان کی شکایت تھی اور علاج معالجے کے بعد کچھ عرصے سے وہ کافی افاقہ محسوس کررہے تھے لیکن چند دن قبل انہیں دوبارہ تکلیف ہوئی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔

وہ ناروے کے دارالحکومت اوسلو کے ایک اسپتال میں زیرعلاج تھے، ان کی نماز جنازہ بھی اتوار(آج)اسلامی کلچرل سینٹر اوسلو میں ادا کی گئی۔ خالد محمود سماجی زندگی میں بھی انتہائی ملنسار تھے اور انہیں اچھے الفاظ میں یاد رکھاجاتاہے۔ ناروے میں مقیم متعدد پاکستانی سیاسی، مذہبی اور سماجی شخصیات نے ان کی وفات پر انتہائی دکھ اور صدمے کا اظہارکیاہے۔

پاکستان یونین ناروے کے چیئرمین چوہدری قمراقبال کا کہناہے کہ خالد محمود کی وفات پر صرف کرکٹ سے وابستہ لوگ نہیں بلکہ ہرکوئی صدمے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جواررحمت میں جگہ دے۔ سماجی و کھیل کے امور پر گہرے نظر رکھنے والے محمد طارق اشرف کہتے ہیں کہ مرحوم خالد محمود کی کرکٹ کے حوالے سے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

آج ان کی وفات سے پوری نارویجن پاکستانی کمیونٹی صدمے میں ہے، ناروے کے شہر دریمن کے پاکستانی نژاد ڈپٹی میئر سید یوسف گیلانی جو دریمن کرکٹ کلب کے بانی بھی ہیں اور کرکٹ فیڈریشن کے سابق سیکرٹری جنرل بھی ہیں، کہتے ہیں، خالد محمود کے ساتھ کام کرکے بہت ہی اچھا لگا اور انکی رہنمائی اور مشاورت ہمیشہ یادرہے گی۔

نارویجن کرکٹ فیڈریشن کے سابق سربراہ چوہدری تنویر احمد نے بھی گہرے دکھ اور صدمے کا اظہارکیا ہے اور مرحوم کی مغفرت کی دعا کی ہے۔نارویجن پارلیمنٹ کے سابق رکن شہباز طارق بھی افسوس ظاہرکیا ہے اور مرحوم کے درجات کی بلندی کی دعا کی ہے۔ ان علاوہ کرکٹ سے وابستہ دیگرشخصیات چوہدری مختار احمد اور سید سجاد حسین اور دیگر کئی لوگوں نے خالد محمود کی وفات پر دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے اور ان کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔