تازہ ترین
زبیر گل کے خلاف ہونے والی سازش تمام تارکین وطن کے خلاف سازش ہے ،لیگی عہدیداران         مسلم لیگ ن سپین کے صدر ایاز عباسی اور سرپرست اعلی حاجی اسد حسین کی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان سے ملاقات         پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کا حل اؤلین ترجیح ہو گی ، خیام اکبرسفیر پاکستان میڈرڈ         مسلم لیگ ن سپین آج شام سات بجے کایئے چلی میں جشن منائے گی ، مٹھائی تقسیم کی تقریب بھی ہو گی         کشمیریوں پر ایک ماہ میں 13 لاکھ پیلٹ گنز فائر کیےگئے،کشمیر پولیس         چار روزہ ورلڈ موبائل کانگریس بارسلوناکا اختتام ، انوشہ رحمان کی شرکت         سوسائٹی فار کرائسٹ اور مسلم لیگ ن سپین کی سانحہ شاہدرہ پر مشترکہ پریس کانفرنس         پاکستانی سیاست کے یورپی ممالک میں مقیم پاکستانیوں پر اثرات ، پاک نیوز سروے رپورٹ         MWC 2018: the biggest news from Mobile World Congress in Barcelona         پاکستان پیپلز پارٹی برطانیہ میں تقرریوں کا سلسلہ جاری         بھارتی لیجنڈری اداکارہ سری دیوی انتقال کرگئیں         کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے لاہور قلندرز کو 9 وکٹوں سے ہرا دیا         ویسٹ انڈیز کا دورئہ پاکستان خطرات سے دوچار         سائرہ پیٹر کی پی لیک فیسٹیول میں شاندار پرفارمنس         اردوان نے اپنے بدترین دشمن سے ہاتھ ملا لیا        
l_431774_110450_updates

سن2017 میں 1465 خواتین کوزیادتی کا نشانہ بنایا گیا

پاکستان میں سال 2017ء کے دوران 1465خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا ہے ۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اعداد وشمار کے مطابق1465 میں سے نصف سے زائد یعنی769 نو عمر بچیاں تھیں۔

اعداد و شمار کے مطابق سال 2017ء کے دوران گینگ ریپ کے 21 واقعات میں ملزمان متاثر فرد کی جان پہچان والے تھے، 5 کیسز میں قریبی رشتے دار ملوث پائے گئے۔

اعداد وشمار کے مطابق ایک واقعے میں استاد جبکہ2 واقعات میں پڑوسی ملوث نکلے، ایسے ہی 177 واقعات میں محلے دار ملزم تھے ۔

سال 2017ء میں دل دہلادینے والے گینگ ریپ واقعات کی تعداد 447 رہی جبکہ 118 مرد بھی اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنے۔

ہیومن رائٹس کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 447 واقعات میں سے 343 گینگ ریپ کا مقدمہ درج ہوا ،عدالتوں میں ایسے صرف 169 مقدمات میں پیشرفت ہوئی ۔

ایچ آر سی پی کے ڈیٹا کے مطابق سال2017ء میں 530 کم عمر بچیوں کے ساتھ ریپ کے واقعات ہوئے، 250 مردوں کے ساتھ بھی ریپ کیا گیا۔

ایسے 699 واقعات کی ایف آئی آر درج ہوسکی جبکہ 11 مقدمات کی پولیس رپورٹ تک درج نہ ہو پائی، ریپ کے 558 مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت رہے۔