تازہ ترین
کھیلوں کے میدان آباد کرکے مقامی کمیونٹی کو مثبت اور صحت مندانہ پیغام دیا جا سکتا ہے         ایاز عباسی کو مسلم لیگ ن سپین کا متفقہ صدر منتخب کر لیا گیا         مسلم لیگ ن سپین کے صدر ایاز عباسی کی ایگزیکٹو باڈی کا اعلان کر دیا گیا         ایف آئی اے کی کارروائی، 4 انسانی اسمگلرز گرفتار         لیبیا میں حادثے کے شکار افراد کو بھجوانے والا گروہ گرفتار         ایران میں حجاب مخالف احتجاج،29خواتین گرفتار         لیبیا: کشتی ڈوبنے کا واقعہ 16 پاکستانی جاں بحق ہونے کی تصدیق         سپین۔بزم نظام انٹرنیشنل کے زیر اہتمام محفل نعت ، عاشقان رسول ﷺ کی کثیر تعداد میں شرکت         شہزاد اصغر بھٹی کا چوہدری زبیر ٹانڈہ کے اعزاز میں ظہرانہ ، تحریک انصاف سپین کے صدر اور عہدیداران کی شرکت         سپین۔’’روجر تورنت ماریو ‘‘کاتالونیا کے نئے اسپیکر منتخب         سینئر صحافی عادل عباسی کے اعزاز میں چوہدری کلیم الدین وڑائچ آف گورالی کا عشائیہ ، معززین کی شرکت         بیلجیئم میں دھماکا، متعدد افراد زخمی         پی آئی اےاپنی پروازوں کےدائرہ کارمیں کمی نہیں لارہی، ترجمان         تارکین وطن پرسان فرانسسکوجج کا فیصلہ اشتعال انگیز ہے،وائٹ ہائوس         سن2017 میں 1465 خواتین کوزیادتی کا نشانہ بنایا گیا        
l_443438_084521_updates

ایران میں حجاب مخالف احتجاج،29خواتین گرفتار

ایران میں حجاب کی پابندی کیخلاف احتجاج کرنے پر 29 خواتین کو گرفتار کر لیا گیاہے، کریک ڈاؤن کے باوجود حجاب کیخلاف احتجاج کا سلسلہ بڑھتا چلا جارہا ہے ۔

حجاب کی پابندی کیخلاف ایرانی خواتین کا احتجاج سوشل میڈیا سے نکل کر تہران کے چوراہوں پر آگیا ہےاور دائرہ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حجاب مخالف احتجاج کا آغاز 27دسمبر 2017ء کو اس وقت ہوا جب 31سالہ ودا مواحد نے تہران کے خیابان انقلاب کے چبوترے پر چڑھ کر اپنا اسکارف سر سے اتارکر ڈنڈی پر لہرایا تھا ،جس کے بعد خاتون کو گرفتار کیا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ودا مواحدی کی گرفتاری کے بعد حجاب کیخلاف احتجاج میں گرفتاریوں کا غصہ بھی شامل ہوگیا اور ایک کے ایک خاتون تہران کی سڑکوں پر احتجاجا اپنا حجاب سر سے اتار کر لہراتی رہیں ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اور اس کے بعد انہیں گرفتار بھی کیا جاتا رہا ، ایرانی حکام نے گرفتار خواتین پر عوامی بدنظمی پیدا کرنے کی دفعات عائد کی ہیں ،۔ جن کی ضمانت کے لیئے ایک کروڑ روپے سے زائد رقم مقرر کی گئی ہے ۔

ایرانی پراسیکیوٹر جنرل جعفر منتظری کا کہنا ہے کہ گرفتار خواتین نے بچکانہ طرز عمل اختیار کیا اور یہ کام ممکنہ طور پر بیرون ملک موجود عناصر کے اشارے پر کیا جارہا ہے ۔