تازہ ترین
سانپ نے آدمی کو کاٹا اور پھر آدمی نے اپنی بیوی کو کاٹ لیا، لیکن زندہ کون بچا؟ ناقابل یقین واقعہ         صدی کا سب سے بڑا مقدمہ، تاریخ کے سب سے بڑے منشیات سمگلر ایل چیپو کو سخت ترین سزا سنادی گئی         28 سالہ دلہن نے 70 سالہ دولہے کو لوٹ لیا         امیر ترین ہسپانوی سپر ماڈل کی مفلسی، سڑک پر آگئی         محمد اقبال چوہدری کے تایا جان کی روح کے ایصال ثواب کے لئے قران خوانی اور ختم شریف میں معززین کی شرکت         شفقت علی رضا اور رضوان کاظمی کی پالسن کے اونر چوہدری امانت علی وڑائچ اور محمد بلال علی سے ملاقات         سپین ۔کشمیری حریت پسند مقبول احمد بٹ شہید کی 35ویں برسی کی تقریب         بہاماس میں ہیٹی سے تارکین وطن کو لے جانے والی کشتی الٹنے سے 28 مسافر ڈوب گئے         بحیرہ روم میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد میں اضافہ         لیبیا کے قریب بحرہ احمر میں کشتی الٹنے سے 90 تارکین ڈوب کر ہلاک ہوگئے         67 سالہ دولہے اور 24 سالہ دلہن کی جان کو خطرہ         پاکستان اب ای پاسپورٹ اشو کرے گا تیاریاں مکمل         اوسپتالیت میں بین المذاہب ہم آہنگی سیمینار ، پاکستانیوں کی جانب سے طاہر رفیع کی شرکت         چوہدری شوکت آف قرطبہ ریسٹورنٹ کا حافظ عبدالرزاق صادق کے اعزاز میں عشائیہ ، معززین کی شرکت         دوران پروازجہاز کے انجن میں آگ لگ گئی ، مسافر محفوظ رہے        
l_451937_064215_updates

عمران خان کے ایک اور دعوے کا بھانڈا پھوٹ گیا

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے ایک اور دعوےکا بھانڈا خیبرپختونخوا کے انرجی اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی دستاویز نے پھوڑ دیا ۔

دستاویزمیں انکشاف کیا گیا ہے کہ 356میں سے40چھوٹےپن بجلی گھروں پرکام ہی شروع نہیں ہوا، 114چھوٹے پن بجلی گھروں پرکام اب تک مکمل نہیں کیا گیا ،کوئی بجلی گھررسمی طور پر کمیونٹی کےحوالےنہیں کیاگیا۔

دستاویز کے مطابق بجلی کے بیشتر منصوبے 5 سے 50 کلو واٹ تک کے ہیں،تمام 356منصوبوں کی مجموعی پیداوار  35میگاواٹ ہوگی۔

دستاویزکے مطابق بیشترمنصوبے جغرافیائی سروے مکمل کیےبغیرشروع کیےگئے،ستمبر2014میں شروع کیے گئے 356  چھوٹے پن بجلی گھرمنصوبے 18 ماہ میں مکمل ہوناتھے۔

رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوامیں بجلی پیداوارکے 356منصوبےابھی تک مکمل نہ ہوسکے،جن میں 114 منی مائیکرو ہائیڈرل پراجیکٹ بھی شامل ہیں۔

دستاویز کے مطابق 2016ء کے سیلاب سے بجلی پیدا کرنے کے 9منصوبوں کو نقصان پہنچا ،جن میں 6کوہستان اور 3شانگلا میں واقع تھے جبکہ شانگلا میں چلتا ہوا بجلی گھر بھی سیلاب میں بہہ گیا تھا۔

ذرائع پیڈوکےمطابق ستمبر2014ء میں شروع کیےگئےمنصوبے18ماہ میں مکمل ہونے تھے، بیشتر منصوبے جغرافیائی سروے مکمل کیے بغیرشروع کیےگئے،کوئی بجلی گھررسمی طورپرکمیونٹی کےحوالےنہیں کیاگیامنصوبے کے تحت میٹر لگا کر صارفین سے ماہانہ بل وصول کئے جانے تھے ۔

حکام پیڈو کے مطابق بجلی کے202منصوبےمکمل کرکےکمیونٹی کےحوالےکیے،2روپےفی یونٹ کی بجلی فراہم کرناکسی طور ممکن نہیںتاہم 40چھوٹے پن بجلی گھروں پرکام شروع ہی نہ ہوسکا۔