تازہ ترین
سپین۔تارکین وطن پاکستانی مقامی سیاسی پارٹیوں کا حصہ بنیں ، حافظ عبدالرزاق صادق         سپین۔گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ، ہزاروں افراد کی شرکت         گریگ فیسٹیول ’’ منجوئیک ‘‘ میں پاکستانی ثقافت کے رنگ ، پاکسانی شعرا نے اپنا کلام سنایا         سپین۔مسلم لیگ کا اجلاس احتجاجی ضرور تھا لیکن کسی کے خلاف نہیں ، عہدیداران         سپین۔مسیحیوں کو اپنا نمائندہ خودمنتخب کرنے کا حق دیا جائے ، راجو الیگزینڈر         میاں نواز شریف کے استقبال کے لئے سپین سے بھی قافلے پاکستان پہنچیں گے ، مسلم لیگ ن سپین         سپین۔ تصویری نمائش میں بے نظیر بھٹو شہید کی تصویر توجہ کا مرکز         سپین۔الیکٹرانک میڈیا نمائندگان کے پلیٹ فارم کے لئے ایگزیکٹو کمیٹی قائم         سپین۔سفیر پاکستان اور قونصل جنرل بارسلونا کی کمیونٹی سے ملاقات         سپین۔بارسلونا کرکٹ کلب کی یونیفارم کی رونمائی اور تقریب تقسیم انعامات ظہیر عباس کی شرکت         سپین۔کشمیر کی آواز سنو سیمینارمیں بیرسٹر سلطان محمود کی شرکت         جنرل سیکرٹری مسلم لیگ ن سپین راجو الیگزینڈر کی جانب سے بیگم کلثوم نواز کی صحت یابی کے لئے دعائیہ تقریب کا اہتمام         چین نے پاکستانیوں کیلئے ویزہ اجراء کو نہایت آسان کر دیا         انڈونیشیا میں کشتی ڈوبنے سے193افراد تاحال لاپتہ         موت سے بچ جانے والے مزید 522 تارکین وطن اٹلی پہنچ گئے، حکومت روکنے میں ناکام        
shafqat-ali-raza

پاکستان کوہسپانوی تعاون کی ضرورت کیوں ؟ شفقت علی رضا

آج 21فروری ہے اور آج کا دِن یورپین ممالک کی طرف سے پاکستان کی مصنوعات پر ڈیوٹی نہ لگائی جانے والی رعائت ’’ جی ایس پی پلس ‘‘ اور اقوام متحدہ سے کئے گئے27کنونشنز پر عمل درآمد ہونے یا ہونے پر ’’ ریویو ‘‘ کا دِن ہے ۔آج شام تک ساری دُنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ پاکستان کو 2013سے ملنے والی جی ایس پی پلس سہولت جاری رہے گی یا اِسے ختم تصور کیا جائے۔جی ایس پی پلس معاہدے پر ’’ ریویو ‘‘ ایک طرح کا امتحان ہے جس میں پاس ہونے کے لئے یورپی ممالک میں پاکستانی سفارت خانے اور کمیونٹی مل کر لابنگ کر رہی ہے تاکہ یہ رعائت ختم نہ ہو ۔سپین میں پاکستانی سفارت خانہ اِس رعائتی پیکج کو جاری و ساری رکھنے کے لئے دِن رات لابنگ میں مصروفہے۔کمرشل قونصلر ڈاکٹر حامد اِس حوالے سے ممبر یورپین پارلیمنٹ سجاد کریم کے ساتھ ساتھ ہسپانوی ممبرز سے ملاقاتوں میں پیش پیش رہے ۔جی ایس پی پلس کی رعائت لینے والے ممالک میں پاکستان سب سے بڑا ملک ہے جس کی یورپ کے ساتھ ٹریڈ میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے ، پاکستان کے مد مقابل بنگلہ دیش ہے جسے کوٹہ فری اور ڈیوٹی فری کی سہولت حاصل ہے 2017سے یہی سہولت سری لنکا کو بھی مل چکی ہے ، ہندوستان ایک بڑی مارکیٹ ہے اور اگر انڈیا GSP ہونے کے ساتھ ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ حاصل کر لیتا ہے تو یورپی ممالک میں پاکستان کی مصنوعات کا کیرئیر ختم ہونے کا خدشہ اپنی جگہ موجود ہے ۔اِسی خدشے کے پیشِ نظر ہسپانوی ممبرز یورپین پارلیمنٹ سے ملاقات کرنا اور انہیں پاکستان کی ’’ فیور ‘‘ کے لئے آمادہ کرنا انتہائی مشکل مرحلہ تھا جسے سفارت خانہ میڈرڈ نے بخوبی طے کیا اور ہسپانوی حکمران جماعت’’ پاپولر پارٹی ‘‘کے یورپی یونین میں سیکرٹری جنرل ’’ لوپیز وائٹ ‘‘ سمیت پاپولر پارٹی کے تمام ممبران یورپی پارلیمنٹ سے ملاقات کی ۔ اِنٹا کمیٹی کی ممبر ’’ ایمنکولادا ‘‘ ممبر سانتیاگو ، ہسپانوی سیکرٹری فارن افئیرز ’’ کاسترو لوپیز ‘‘ مختلف این جی اوز جن میں ایمنیسٹی انٹرنیشنل ،پی میک اور 4سو سال سے قائم این جی او ’’ فومنٹ ‘‘ کے نمائندوں سے ملاقاتیں ،ہسپانوی سیکرٹری کامرس ، سپوک پرسن پاپولر پارٹی ، سوشلسٹ پارٹی کے ممبرز یورپی پارلیمنٹ کو مل کر پاکستان کے لئے لابنگ کیجس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تمام ممبرز اور این جی اوز کے نمائندوں نے وعدہ کیا کہ ہم پاکستان سے تعاون کریں گے اور کہا کہ آج کا’’ ریویو ‘‘پاکستان کے حق میں ہو گا ۔ریویو کو پاکستان کے حق میں ہونے کے لئے سپین اور پاکستان کے سیکرٹری خارجہ کے مذاکرات کا چوتھا دور اِسلام آباد میں ہوا جو جی ایس پی پلس ریویو میں پاکستان کو سُرخرو ہونے میں بڑا اہم کردار ادا کرے گا ۔جی ایس پی پلس کی صورت میں یورپی یونین نے پاکستانی مصنوعات پر ڈیوٹی ختم کی ہے اِس کے بدلے میں یورپی یونین نے پاکستان سے کیا مانگا ہے ؟انہوں نے صرف اُن 27کنونشز کی شکل میں کئے گئے معاہدوں پر سختی سے عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے ، اِس ضمن میں پاکستان کی وزارت صنعت و تجارت نے تاریخی قدم اُٹھاتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس کے چیئر مین اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف ہیں اس کمیٹی کا سیکرٹریٹ کامرس منسٹری میں ہے ا،س کمیٹی کا مقصد اقوام متحدہ سے کئے گئے اُن معاہدوں پر کیا عمل ہوا اِس عنوان پر کام کرنا ہے ۔کمیٹی نے ایک کتابچہ تیار کیا ہے جس میں تفصیل بیان ہے کہ اب تک پاکستان نے اقوام متحدہ سے کئے گئے 27معاہدوں پر کس طرح عمل کیا اور اِس کے کیا’’ نتائج ‘‘برامد ہوئے ۔اِس کتابچے کو ممبرز یورپی پارلیمنٹ کو دیا گیا تاکہ وہ پڑھ کر پاکستان کے حق میں فیصلہ کر سکیں ۔دوسری طرف سپین اورپاکستان کی درامدات اور برامدات کی شرح میں خاصا بڑھاوا ہوا ہے جو خوش آئند ہے،جولائی تا نومبر 2017 تک دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی شرح 485ملین ڈالرز جبکہ 2016کے پورے سال میں یہ شرح 379ملین ڈالرز تھی ، تجارت کی یہ شرح پانچ ماہ میں 106ملین ڈالرز اور 28فیصد اضافے کے ساتھ سامنے آئی ہے ۔جنوری تا نومبر 2017 تجارت 965ملین ڈالرز تھی جبکہ یہی تجارت دسمبر میں 1050ملین ڈالرز تک چلی جائے گی اور یہ تاریخ میں پہلی بار ہونے جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت ایک بلین ڈالرز سے زیادہ ہو، حیران کن بات یہ ہے کہ ساری دُنیا کے ساتھ ہونے والی پاکستانی تجارت کا یہ 20واں حصہ ہے جسے صرف سپین نے حاصل کیا ہے ۔پاکستان سے سپین کے لئے سویٹرز ، ٹیکسٹائل ، گارمنٹس ، جینز ، ہوم ٹیکسٹائل فٹ ویئر ، فارما سوٹیکل ، سٹیپل فائبرزاور سپورٹس کا سامان بھیجا جاتا ہے جبکہ سپین سے پاکستان کے لئے مشینری ، بوائلرز ، مکینکل ، کنسٹریکشن مشینری ، سرامکس ، کیمیکل ، دفاعی آلات کے ساتھ ساتھ اورگینک کیمیکل ، ادویات اور جانورونں کی نگہداشت کی اشیاء بھیجی جاتی ہیں ۔سپین کی بہت سی کمپنیز نے پاکستان میں جا کر سرمایہ کاری کرنا شروع کر دی ہے سب سے بڑی ہسپانوی کمپنی ’’ اِندرا ‘‘ جو انفارمیشن ٹیکنالوجی ،سول ایو ایشن کے ساتھ ریڈار سسٹم پر کامک کر رہی ہے اُس نے پاکستان ایئر فورس کے ساتھ تھنڈر جے ایف 17کے پائلٹس کی ٹریننگ کا معاہدہ بھی کیا ہے ، ہسپانوی کمپنی ’’ گیمسا ‘‘نے ونڈ انرجی پر سرمایہ کاری کی ہے ۔ اسی طرح دوسری ہسپانوی بڑی کمپنیوں میں کارتے فیل ، اینڈی ٹیکس ، ’’ زارا ‘‘ مینگو ، اور اپنی دوسری پروڈکٹس کو پاکستان میں بیچنا شروع کر دیا ہے ، یقیناًہسپانوی کمپنیز کی پاکستان میں سرمایہ کاری پاکستان کے مستقبل کو تابناک بنانے کا سبب بنے گی ۔سپین سے پاکستان کے لئے ماہانہ 40سے 60بزنس ویزے اشو کئے جاتے ہیں جس کی بدولت ہسپانوی بزنس مین پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں آسانی محسوس کر رہے ہیں ۔حکومت پاکستان نے ہسپانوی بزنس مینوں کے لئے نئی سہولت کا آغاز کر دیا ہے کہ اگر کوئی ہسپانوی باشندہ بغیر ویزہ کے فوری پاکستان جانا چاہے تو سفارت خانے میں تعینات کمرشل قونصلر اُس کو ایک لیٹر اشو کرے گا جس پر سفر کیا جاسکے گا ، پاکستان ایئر پورٹ پر اترتے ہی ویزہ حاصل کیا جا سکے گا ۔اسی طرح ’’ آئی سے کس ‘‘ ACCIO اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے مابین ایک MOUسائن ہونے جا رہا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے بزنس وفود کے دورے یقنی بنائے جائیں گے ، اندالوسیہ ایجنسی فار فارن پروموشن بھی پاکستان کے ساتھ تجارتی تعاون پر رضا مند ہو گئی ہے ۔پاکستان اور سپین کے مابین بڑھتی ہوئی تجارت کی شرح کو دیکھتے ہوئے یہ لکھنا ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک JTC ’’جوائنٹ ٹریڈنگ کمیشن ‘‘ بنایا جائیجو سفارت خانوں کے کمرشل سیکشن کو سہولیات دینے ، بزنس ویزوں میں آسانی ، سرمایہ کاری کے لئے نئے پراجیکٹس اور دونوں ممالک کی مختلف وزارتوں اور بزنس وفود کے سرکاری دوروں کا اہتمام کرے ۔