تازہ ترین
یوم پاکستان مشاعرہ ، ایک شام فاخرہ انجم کے نام         پاک، اسپین اکنامک ڈپلومیسی، شفقت علی رضا         یوم پاکستان پروگرام کی کامیابی قونصل جنرل کی ان تھک محنت کا نتیجہ ہے ،امتیاز آکیہ         طاہر رفیع اور اجمل رشید بٹ ہسپانوی الیکشن میں امیدوار ہوں گے         Pakistan vs England T20 Live | 05 May 2019         Pakistan vs Australia 2nd ODI Live | 24 March 2019 | Ptv Sports Live         Thousands of Catalan separatists march in Madrid         یوم پاکستان اور ڈاکٹر محمد اسد کے عنوان سے اسپین کے تاریخی شہر غرناطہ میں پہلے پروگرام کا انعقاد         میکسیکو:حادثے میں 25 تارکین وطن ہلاک         برطانیہ میں امیگریشن اب پبلک کیلئے تشویش کابڑا موضوع نہیں رہا، سٹڈی میں انکشاف         17 سالہ جوڈی کے قتل کے شبہ میں دوسرا شخص گرفتار         ٹیپو سلطان کون تھا؟ مورخین اور ماہرین کی رائے         میکسیکو نائٹ کلب پر فائرنگ ،15 ہلاک         دُبئی: پاکستانی ڈرائیور نے چوری کرنے پر بھارتی ملازم کو پکڑوا دیا         موٹرولا کے Razr فولڈ ایبل فون کے فیچرز سامنے آ گئے        
509370_7287409_updates

بے نظیر کو جینے دیا جاتا تو آج 65 ویں سالگرہ مناتیں

پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق چیئر پرسن اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کا 65 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے ۔

بے نظیر بھٹو 21 جون 1953 کو المرتضی ہاؤس لاڑکانہ میں پاکستان کے عظیم لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کے گھر میں پیدا ہوئیں،انہیں پیار سے پنکی پکارا جاتا تھا۔ کم عمری میں ہی اپنے والد کے ہمراہ بھارت جاکر شملہ معاہدے کی تقریب میں شرکت کی اور یوں انہوں نے عالمی شہرت کی جانب اپنا پہلا قدم رکھا۔

بے نظیر بھٹو جلاوطنی کے بعد جب پہلی بار وطن واپس لوٹیں تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ وہ عالم اسلام میں پہلی خاتون وزیر اعظم بھی بنیں۔

والد سے اتنی محبت شاید کسی بیٹی نے نا کی ہو جتنی بے نظیر بھٹو نے کی اور یہی وجہ تھی کہ آصف علی زرداری سے شادی کے باوجود خود کو آخر وقت تک انہوں نے بھٹو ہی کہلوانا پسند کیا۔

بے نظیر بھٹو نے ہمیشہ اپنے والد کے فلسفے پر عمل کیا اور اسی وجہ سے وہ بہت جلد لوگوں کے دلوں میں گھر کرگئیں۔

’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے۔۔تم کتنے بھٹو مارو گے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا‘ کا نعرہ سب سے پہلے بے نظیر بھٹو شہید نے ہی لگایا تھا۔ان کا یہ نعرہ آج بھی ملک بھر میں گونج رہا ہے۔

بے نظیر بھٹو اپنے والد کی طرح ذہین اور جرات مند بھی تھیں۔انہوں نے ایک عرصے تک دبئی میں جلاوطنی بھی کاٹی۔جان کا خطرہ ہونے کے باوجود وہ اپنے لوگوں میں واپس لوٹیں۔

دہشت گردوں نے ان پر کراچی میں حملہ کیا لیکن وہ نہیں گھبرائیں ، عوام میں اسی طرح جاتی رہیں اور لوگوں سے اسی طرح ملتی رہیں جیسا ان کا انداز تھا، لیکن 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں وہ دہشت گردی کا شکار ہوگئیں۔

پیپلزپارٹی ایک بار پھر عظیم لیڈر سے محروم ہوگئی۔یہی وجہ ہے کہ اب ’’ زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ کے نعرے کے ساتھ یہ نعرہ بھی ضرور لگتا ہے ’’ زندہ ہے بی بی ۔۔زندہ ہے‘‘۔۔ زندہ ہے بی بی۔۔ زندہ ہے‘‘