تازہ ترین
سپین۔تارکین وطن پاکستانی مقامی سیاسی پارٹیوں کا حصہ بنیں ، حافظ عبدالرزاق صادق         سپین۔گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ، ہزاروں افراد کی شرکت         گریگ فیسٹیول ’’ منجوئیک ‘‘ میں پاکستانی ثقافت کے رنگ ، پاکسانی شعرا نے اپنا کلام سنایا         سپین۔مسلم لیگ کا اجلاس احتجاجی ضرور تھا لیکن کسی کے خلاف نہیں ، عہدیداران         سپین۔مسیحیوں کو اپنا نمائندہ خودمنتخب کرنے کا حق دیا جائے ، راجو الیگزینڈر         میاں نواز شریف کے استقبال کے لئے سپین سے بھی قافلے پاکستان پہنچیں گے ، مسلم لیگ ن سپین         سپین۔ تصویری نمائش میں بے نظیر بھٹو شہید کی تصویر توجہ کا مرکز         سپین۔الیکٹرانک میڈیا نمائندگان کے پلیٹ فارم کے لئے ایگزیکٹو کمیٹی قائم         سپین۔سفیر پاکستان اور قونصل جنرل بارسلونا کی کمیونٹی سے ملاقات         سپین۔بارسلونا کرکٹ کلب کی یونیفارم کی رونمائی اور تقریب تقسیم انعامات ظہیر عباس کی شرکت         سپین۔کشمیر کی آواز سنو سیمینارمیں بیرسٹر سلطان محمود کی شرکت         جنرل سیکرٹری مسلم لیگ ن سپین راجو الیگزینڈر کی جانب سے بیگم کلثوم نواز کی صحت یابی کے لئے دعائیہ تقریب کا اہتمام         چین نے پاکستانیوں کیلئے ویزہ اجراء کو نہایت آسان کر دیا         انڈونیشیا میں کشتی ڈوبنے سے193افراد تاحال لاپتہ         موت سے بچ جانے والے مزید 522 تارکین وطن اٹلی پہنچ گئے، حکومت روکنے میں ناکام        
509370_7287409_updates

بے نظیر کو جینے دیا جاتا تو آج 65 ویں سالگرہ مناتیں

پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق چیئر پرسن اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کا 65 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے ۔

بے نظیر بھٹو 21 جون 1953 کو المرتضی ہاؤس لاڑکانہ میں پاکستان کے عظیم لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کے گھر میں پیدا ہوئیں،انہیں پیار سے پنکی پکارا جاتا تھا۔ کم عمری میں ہی اپنے والد کے ہمراہ بھارت جاکر شملہ معاہدے کی تقریب میں شرکت کی اور یوں انہوں نے عالمی شہرت کی جانب اپنا پہلا قدم رکھا۔

بے نظیر بھٹو جلاوطنی کے بعد جب پہلی بار وطن واپس لوٹیں تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ وہ عالم اسلام میں پہلی خاتون وزیر اعظم بھی بنیں۔

والد سے اتنی محبت شاید کسی بیٹی نے نا کی ہو جتنی بے نظیر بھٹو نے کی اور یہی وجہ تھی کہ آصف علی زرداری سے شادی کے باوجود خود کو آخر وقت تک انہوں نے بھٹو ہی کہلوانا پسند کیا۔

بے نظیر بھٹو نے ہمیشہ اپنے والد کے فلسفے پر عمل کیا اور اسی وجہ سے وہ بہت جلد لوگوں کے دلوں میں گھر کرگئیں۔

’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے۔۔تم کتنے بھٹو مارو گے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا‘ کا نعرہ سب سے پہلے بے نظیر بھٹو شہید نے ہی لگایا تھا۔ان کا یہ نعرہ آج بھی ملک بھر میں گونج رہا ہے۔

بے نظیر بھٹو اپنے والد کی طرح ذہین اور جرات مند بھی تھیں۔انہوں نے ایک عرصے تک دبئی میں جلاوطنی بھی کاٹی۔جان کا خطرہ ہونے کے باوجود وہ اپنے لوگوں میں واپس لوٹیں۔

دہشت گردوں نے ان پر کراچی میں حملہ کیا لیکن وہ نہیں گھبرائیں ، عوام میں اسی طرح جاتی رہیں اور لوگوں سے اسی طرح ملتی رہیں جیسا ان کا انداز تھا، لیکن 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں وہ دہشت گردی کا شکار ہوگئیں۔

پیپلزپارٹی ایک بار پھر عظیم لیڈر سے محروم ہوگئی۔یہی وجہ ہے کہ اب ’’ زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ کے نعرے کے ساتھ یہ نعرہ بھی ضرور لگتا ہے ’’ زندہ ہے بی بی ۔۔زندہ ہے‘‘۔۔ زندہ ہے بی بی۔۔ زندہ ہے‘‘