تازہ ترین
سپین۔تارکین وطن پاکستانی مقامی سیاسی پارٹیوں کا حصہ بنیں ، حافظ عبدالرزاق صادق         سپین۔گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ، ہزاروں افراد کی شرکت         گریگ فیسٹیول ’’ منجوئیک ‘‘ میں پاکستانی ثقافت کے رنگ ، پاکسانی شعرا نے اپنا کلام سنایا         سپین۔مسلم لیگ کا اجلاس احتجاجی ضرور تھا لیکن کسی کے خلاف نہیں ، عہدیداران         سپین۔مسیحیوں کو اپنا نمائندہ خودمنتخب کرنے کا حق دیا جائے ، راجو الیگزینڈر         میاں نواز شریف کے استقبال کے لئے سپین سے بھی قافلے پاکستان پہنچیں گے ، مسلم لیگ ن سپین         سپین۔ تصویری نمائش میں بے نظیر بھٹو شہید کی تصویر توجہ کا مرکز         سپین۔الیکٹرانک میڈیا نمائندگان کے پلیٹ فارم کے لئے ایگزیکٹو کمیٹی قائم         سپین۔سفیر پاکستان اور قونصل جنرل بارسلونا کی کمیونٹی سے ملاقات         سپین۔بارسلونا کرکٹ کلب کی یونیفارم کی رونمائی اور تقریب تقسیم انعامات ظہیر عباس کی شرکت         سپین۔کشمیر کی آواز سنو سیمینارمیں بیرسٹر سلطان محمود کی شرکت         جنرل سیکرٹری مسلم لیگ ن سپین راجو الیگزینڈر کی جانب سے بیگم کلثوم نواز کی صحت یابی کے لئے دعائیہ تقریب کا اہتمام         چین نے پاکستانیوں کیلئے ویزہ اجراء کو نہایت آسان کر دیا         انڈونیشیا میں کشتی ڈوبنے سے193افراد تاحال لاپتہ         موت سے بچ جانے والے مزید 522 تارکین وطن اٹلی پہنچ گئے، حکومت روکنے میں ناکام        
509538_2534795_akhbar

برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کا بل کامنز میں منظور، ووٹ نے عوام کی طاقت ثابت کردی، وزیراعظم

برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کیلئے بریگزٹ بل کی ہائوس آف کامنز نے منظوری دے دی۔ یہ بل حکومت نے پیش کیا تھا۔ اس بل کے حق میں 319 اور مخالفت میں 303ووٹ آئے۔ اب یہ بل قانون بننے کیلئے شاہی توثیق کیلئے بھیجا جائے گا۔ برطانوی وزیر اعظم تھریسامے نے کامنز سے بل کی منظوری کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کیلئے یہ اہم قدم ہے۔ اب یورپی یونین سے برطانیہ کی مرحلہ وار علیحدگی شروع ہو گی۔ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی پر قانون سازی کیلئے کامنز میں طویل بحث کے بعد بل منظوری کیلئے پیش کیا گیا۔ اس سے قبل پیئرز نے بریگزٹ بل میں ترامیم کی منظوری دی تھی اور بل کامنز میں بھیجا تھا۔ وزیراعظم کی جانب سے ممکنہ ٹوری باغی ایم پیز کو یہ یقین دہانی کروائی گئی کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے معاہدے میں ان کی بامقصد آواز ہوگی۔ تھریسامے کا کہنا تھا کہ یورپی یونین سے علیحدگی مشکل قدم ہے تاہم آج کے ووٹ نے برطانیہ کے عوام کی اکثریت ظاہر کردی ہے۔ تھریسامے نے کہا کہ

عوام کے منتخب نمائندوں نے عوام کی خواہش کے مطابق فیصلہ کیا، آئندہ چند روز میں وائٹ پیپر جاری کیا جائے گا جس میں یورپی یونین کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کا احاطہ کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بریگزٹ نے برطانوی شہریوں کو سنہرے مستقبل کے علاوہ اپنے پیسے، قانون اور سرحد پر کنٹرول کی راہ دی ہے ۔ انہوں نے ارکان کو یقین دلایا کہ ٹریڈ اینڈ کسٹمز بلز کو واپس ہائوس آف کامنز میں لایا جائے گا۔ تھریسا مے نے کہا کہ بریگزٹ سے برطانیہ کا مستقبل روشن ہوگا۔ پلان کے مطابق برطانیہ یورپی یونین سے 29 مارچ 2019 کو علیحدگی اختیار کرے گا۔ تاہم علیحگی کیلئے شرائط کار طے کرنے کیلئے فریقین میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ سرکردہ بریگزیٹئر جیکب ریس موگ نے کہا کہ اب تھریسامے اگلے ہفتوں میں زیادہ قوت کے ساتھ یورپی لیڈرز کے اجلاس میں شرکت کریں گی۔ وزیراعظم کی جانب سے یقین دہانی کرانے والے ممکنہ باغیوں کے لیڈر ڈومینک گریو نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کیا گیا۔ فریقین نے بل کی منظوری میں اپنی اپنی جیت کے دعوے کئے ہیں۔یورپی یونین ایم پی سٹیفن ہیمنڈ نے کہا کہ منسٹرز نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ایم پیز کو حتمی ڈیل میں موثر رول دیا جائے۔ انٹر نیشنل ٹریڈ سیکریٹری لیام فاکس نے کہا کہ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا اور نو ڈیل بریگزٹ آپشن ٹیبل پر موجود ہے۔ لیڈر آف لارڈز بیرونس ایوانز نے کہا کہ بریگزٹ بل میں ترامیم پر تفصیلی مباحثہ ہوا اور ترامیم کے نتیجے میں یہ بل اب خاصا مختلف ہے۔ برطانیہ کی 50 فیصد تجارت یورپی یونین کے ساتھ ہوتی ہے، جہاں یورپی یونین کے ممبران ممالک کے درمیان کوئی ٹیکس نہیں ہے، البتہ خود مختاری کے معاملے میں برطانیہ کو فائدہ ہوگا اور وہ اپنے داخلی معاملات میں خود مختار ہوگا ۔ امیگریشن کے معاملے میں یورپی یونین چھوڑنے کا برطانیہ کو فائدہ ہی ہوگا۔ بحیثیت رکن یورپی یونین، برطانیہ میں یورپ کے کسی بھی ملک کے شہری یہاں آسکتے تھے اور اسی وجہ سے برطانیہ میں لوگوں کی بہت بڑی تعد اد آکر بسنے لگی۔ صرف یورپ سے تقریباً 17 لاکھ افراد روزگار کے سلسلے میں برطانیہ میں ہیں اور بریگزٹ کے بعد برطانیہ اپنے سرحدی کنٹرول کے معاملے میں آزاد ہوگا۔یورپی یونین چھوڑنے سے برطانوی شہریوں کے لیے یورپی یونین میں نوکری کا آسرا ہاتھ سے نکلے گا اور مجموعی طور پر برطانیہ کے ہاتھ سے 30 لاکھ نوکریاں نکل جائیں گی۔