تازہ ترین
یوم پاکستان مشاعرہ ، ایک شام فاخرہ انجم کے نام         پاک، اسپین اکنامک ڈپلومیسی، شفقت علی رضا         یوم پاکستان پروگرام کی کامیابی قونصل جنرل کی ان تھک محنت کا نتیجہ ہے ،امتیاز آکیہ         طاہر رفیع اور اجمل رشید بٹ ہسپانوی الیکشن میں امیدوار ہوں گے         Pakistan vs England T20 Live | 05 May 2019         Pakistan vs Australia 2nd ODI Live | 24 March 2019 | Ptv Sports Live         Thousands of Catalan separatists march in Madrid         یوم پاکستان اور ڈاکٹر محمد اسد کے عنوان سے اسپین کے تاریخی شہر غرناطہ میں پہلے پروگرام کا انعقاد         میکسیکو:حادثے میں 25 تارکین وطن ہلاک         برطانیہ میں امیگریشن اب پبلک کیلئے تشویش کابڑا موضوع نہیں رہا، سٹڈی میں انکشاف         17 سالہ جوڈی کے قتل کے شبہ میں دوسرا شخص گرفتار         ٹیپو سلطان کون تھا؟ مورخین اور ماہرین کی رائے         میکسیکو نائٹ کلب پر فائرنگ ،15 ہلاک         دُبئی: پاکستانی ڈرائیور نے چوری کرنے پر بھارتی ملازم کو پکڑوا دیا         موٹرولا کے Razr فولڈ ایبل فون کے فیچرز سامنے آ گئے        
baladi-cri-pic2

سپین۔بارسلونا کرکٹ کلب کی یونیفارم کی رونمائی اور تقریب تقسیم انعامات ظہیر عباس کی شرکت

بارسلونا(پاک نیوز رپورٹ )فٹ بال ورلڈ کپ کے میچ ہو رہے ہین اور یورپی لوگ اس کھیل کے دیوانے ہیں ، ہر میچ کو دیکھنا ان لوگوں کے نزدیک دوسرے کاموں سے بہتر کام ہے ۔ فٹ بال کا ورلڈ کپ نہ بھی ہو رہاہوتو بھی یورپی لوگ ہر گراونڈ کو فٹ بال کھیل کر ہی آباد کرتے ہیں ، یورپی کمیونٹی کو فٹ بال کھیلنے اور دیکھنے کا کتنا کریز ہے اس بات کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہو گا ، بس یوں سمجھ لیں کہ یہ کمیونٹی کھانا چھور سکتی ہے لیکن فٹ بال دیکھنا اور کھیلنا نہیں چھوڑ سکتی ۔ اب ایسے ممالک کے میدانوں میں ایشین کمیونٹی کی جانب سے کرکٹ جیسے کھیل کو متعارف کرانا اور پھر یہاں کے گروانڈز کو آباد کرنا کسی معجزے سے کم نہیں ، سب سے بڑی بات یہ کہ ایشین اور خاص کر پاکستانی کمیونٹی نے کرکٹ کھیل کر یہاں کی مقامی کمیونٹی کو بھی اس کھیل میں دلچسپی لینے پر مجبور کر دیا ہے ، یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ فٹ بال کے گھر سپین میں ایشین کمیونٹی نے کرکٹ کو جس تیزی سے فروغ دیا ہے اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ یہاں کرکٹ کے کھلاڑیوں کی صلاحتین ابھر کر سامنے آئیں گی اور بہت سے کھلاڑی پاکستان جا کر وہاں کی ٹیم میں بھی کھیلیں گے ۔ ویسے سپین کی قومی کرکٹ ٹٰم بھی بن چکی ہے جس میں مقامی کمیونٹی ، برطانیہ اور ایشین کمیونٹی کے کھلاڑی اپنی پرفارمنس دے رہے ہیں ، ایک وقت تھا کہ جب سپین کی قومی ٹیم قائم ہوئی تھی تو اس میں سات کھلاڑیوں کا تعلق پاکستان سے تھا ۔سپین کی قومی کرکٹ ٹٰم ورلڈ کپ کھیلنے کے لئے مختلف مراحؒ سے گزر رہی ہے ، ابھی تک اسے کوئی کامیابی تو نہیں مل سکی لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ وہ دن دور نہیں جب سپین کی ٹیم بھی کرکٹ ورلڈ کپ کا حصہ ہو گی ۔ سپین میں کرکٹ کے فروغ کو دیکھتے ہوئے یہاں منعقد ہونے والے مختلف ایونٹس مین پاکستان کے قومی کھلاڑی بھی پرفارم کر چکے ہیں جن میں راو افتخار ، محمد خلیل ، عبدارلرزاق اور یاسر عرفات کا نام شامل ہیں ۔ سپین میں کرکت کے اسی فروغ کو دیکھتے ہوئے صوبہ کاتالونیا کی حکومت نے کاتالان کرکٹ فیڈریشن بنائی اور اب اس کا باقاعدہ صدر مرزا بشارت ہیں جو پاکستانی ہیں ، سپین میں 34 کرکٹ کلب رجسٹرڈ ہیں جن کے مابین کاتالونیا لیگ ، شہنشاہ کپ ، ایشیاء کپ اور آزادی کپ کے مقابلے ہوتے ہیں جن میں اعلی کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو قومی ٹیم مین کھیلنے کا موقع دیا جاتا ہے ۔بارسلونا کے نواحی علاقے بادالونا کے مقامی ریسٹورنٹ پر بارسلونا کرکٹ کلب کی یونیفارم رونمائی اور تقریب تقسیم انعامات منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی پاکستان کے مایہ ناز بلے باز ظہیر عباس اور قونصل جنرل بارسلونا علی عمران چوہدری تھے ۔ تقریب میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض خالد شہباز چوہان نے ادا کئے ۔ ایشین بریڈ مین ظہیر عباس ، قونصل جنرل بارسلونا علی عمران چوہدری ، سلمان گوندل ، حاجی اسد حسین ، آفتاب کرنسی ، نثار احمد ، ارمغان خان ، ڈاکٹر عرفان مجید راجہ اور دوسرے معززین نے کھلاڑیوں میں یونیفارم اور انعامات تقسیم کئے ، اس موقع پر مقامی بلدیہ کے نمائندے بھی موجود تھے جنہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم فٹ بال سے متعارف تھے لیکن اب ہم کرکٹ سے بھی آشنا ہو رہے ہیں ۔ قونصل جنرل بارسلونا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ یہاں ہمارے روائتی کھیل فروغ پا رہے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب ہمارے کھلاڑی ان ممالک میں کرکٹ کو مشہور کر دیں گے ، ظہیر عباس نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں تیسری دفعہ بارسلونا آیا ہوں پہلی بار 1971میں جب میں نے انگلینڈ کے خلاف 274سکور کیا تھا اور دوسری بار یہاں کرکٹ گراونڈ کے افتتاح کے لئے اور اب تیسری بار یہاں آیا ہوں ، انہوں نے کہا کہ دوسری بار جب یہاں آیا تب ایک لڑکے عدیل شاہ کو باولنگ کرتے دیکھا تو یہاں کی انتظامیہ سے کہا کہ اسے پاکستان بھیج دیں یہ لڑکا ٹھیک کھیل رہا ہے ، وہ لڑکا وہاں نہ جا سکا لیکن اس بات یہ ثابت ہو گیا کہ سپین میں پاکستانی لڑکوں میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ مستقبل میں کرکٹ کی دنیا میں نام پیدا کر سکیں ۔تقریب میں چوہدری قیصر دھوتھڑ ، چوہدری واصف نزیر بجاڑ ، عدنان دھوتھڑ ، شجاعت علی رانا ، طارق رفیق ، بلال بھٹی اور دوسرے پاکستانیوں نے شرکت کی اور ظہیر عباس کو تالیوں کی گونج میں خوش آمدید کہا ۔