تازہ ترین
سپین۔تارکین وطن پاکستانی مقامی سیاسی پارٹیوں کا حصہ بنیں ، حافظ عبدالرزاق صادق         سپین۔گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ، ہزاروں افراد کی شرکت         گریگ فیسٹیول ’’ منجوئیک ‘‘ میں پاکستانی ثقافت کے رنگ ، پاکسانی شعرا نے اپنا کلام سنایا         سپین۔مسلم لیگ کا اجلاس احتجاجی ضرور تھا لیکن کسی کے خلاف نہیں ، عہدیداران         سپین۔مسیحیوں کو اپنا نمائندہ خودمنتخب کرنے کا حق دیا جائے ، راجو الیگزینڈر         میاں نواز شریف کے استقبال کے لئے سپین سے بھی قافلے پاکستان پہنچیں گے ، مسلم لیگ ن سپین         سپین۔ تصویری نمائش میں بے نظیر بھٹو شہید کی تصویر توجہ کا مرکز         سپین۔الیکٹرانک میڈیا نمائندگان کے پلیٹ فارم کے لئے ایگزیکٹو کمیٹی قائم         سپین۔سفیر پاکستان اور قونصل جنرل بارسلونا کی کمیونٹی سے ملاقات         سپین۔بارسلونا کرکٹ کلب کی یونیفارم کی رونمائی اور تقریب تقسیم انعامات ظہیر عباس کی شرکت         سپین۔کشمیر کی آواز سنو سیمینارمیں بیرسٹر سلطان محمود کی شرکت         جنرل سیکرٹری مسلم لیگ ن سپین راجو الیگزینڈر کی جانب سے بیگم کلثوم نواز کی صحت یابی کے لئے دعائیہ تقریب کا اہتمام         چین نے پاکستانیوں کیلئے ویزہ اجراء کو نہایت آسان کر دیا         انڈونیشیا میں کشتی ڈوبنے سے193افراد تاحال لاپتہ         موت سے بچ جانے والے مزید 522 تارکین وطن اٹلی پہنچ گئے، حکومت روکنے میں ناکام        
coul

اشتہاری۔یا ’’اشتہاری‘‘کمپنیاں ، تحریر عتیق الرحمان

قارئین اصل موضوع کی طرف آنے سے پہلے کہنا چاہوں گا کہ پاکستان اور پاکستان میں موجود ادارے، محکمے جس جس نے ان کو ٹھیک کرنا تھا اس اس نے ہی ان اداروں، محکموں کو تباہ کیا ہے۔جس نے قوم کی غربت ختم کرنا تھی اس نے صرف اپنے بیٹوں کی غربت ختم کی ۔جنہوں نے ملک اور قوم کی تعمیر کرنا تھی۔انہوں نے فلیٹس خریدے ۔جزیرے خریدے۔جنہوں نے پولیس ٹھیک کرنا تھی انہوں نے پولیس کے ذریعے اپنے مخالفوں کو ٹھیک کروایا۔جس پیسے سے سکول اور ہسپتال بہتر ہونے تھے اس پیسے سے اپنی کمپنیاں ،اپنے کارخانے بہتر کئے گئے ۔جن لوگوں کو جیل میں ہونا چاہئے تھا ان لوگوں کو اسمبلیوں میں بٹھایا گیا جنہوں نے اسلام اور مساوات کا درس دینا تھا انہوں نے اپنی مسجدیں الگ الگ کرکے دوسروں کو کافر قرار دے دیا ۔جنہوں نے فیصلوں میں انصاف کرنا تھا ۔انہوں نے ہر فیصلہ نا انصافی سے کیا ۔جن لوگوں کو کھیلوں کا سربراہ لگا گیا انہوں نے وہ کھیل کبھی شوق سے ٹی وی پر بھی نہیں دیکھا ہوتا اور جنہوں نے ٹی وی چینلزپر بیٹھ کر ڈراموں کی قسمت کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے ان میں سے اکثریت نے کبھی خود ڈرامہ نہیں بنایا ہوتا ہے۔غرض یہ کہ پاکستان اور پاکستان کا ہر شعبہ جس نے ٹھیک کرنا تھا اس نے ہی خراب کیا ہے اور نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے ۔اب میں اپنے اصل مدعا کی طرف آنا چاہوں گا ۔قارئین بشمول اس خاکسار کے ہزاروں کی تعداد میں لوگ ٹی وی ڈرامہ اور ٹی وی چینلز انڈسٹری سے وابستہ ہیں ۔لیکن ہر چینل خواہ وہ ڈرامہ چینل ہو یا نیوز چینل سب اپنے ورکروں اداکاروں ،تکنیک کاروں اور اپنے ساتھ کام کرنے والے پروڈیوسر کے ساتھ معاوضے کی ادائیگی اور تنخواہ کے معاملے میں سالہا سال سے ایک غیر انسانی اور نا انصافی پر مبنی بد ترین سلوک روا رکھے ہوئے ہیں ۔چینل میں کام کرنے والے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر اور نامکمل تنخواہ ملنا ایک عام اور معمول کی بات ہے ۔ڈرامہ آن ائیر ہونے کے کئی سال تک ڈرامہ پروڈیوسر کو رقم کی ادائیگی نہ ہونا بھی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔چینلز کی یہ نا انصافیاں جان کر چینلز اور چینلز مالکان پر ہر ایک کا غصہ کرنا ایک جائز اور فطری امر ہے ۔لیکن جب پوری ایمانداری اور غیر جانبداری سے اس نا انصافی کے پیچھے چھپے اصل حقائق کا تجزیہ کیا گیا تو مجھے چینلز مالکان کچھ زیادہ دوشی اور ذمہ دار نہیں محسوس ہوئے ۔سرکاری ٹی وی کے علاوہ تمام تر پرائیویٹ چینلز کا ذریعہ آمدن کمرشل اشتہارات ہیں جو تمام چینلز کو اشتہاری کمپنیوں کے توسط سے ڈسٹری بیوٹ کئے جاتے ہیں ۔کسی بھی چینل کی نشری زندگی کا دارومدار صرف ان اشتہاری سانسوں کا مرہون منت ہے۔لہٰذا چینلز کے لئے اشتہاری اور ایڈورٹائزنگ کمپنیوں کے کرتا دھرتاؤں کی حیثیت خاندان میں بڑے داماد سے بھی زیادہ اہم اور معتبر تصور کی جاتی ہے ۔در حقیقت چینلز مالکان کی طرف سے ورکروں کو تنخواہوں کی بروقت عدم ادائیگی اور ڈرامہ پروڈیوسر کو سالہا سال رقم نہ ملنے کی اصل وجہ ان اشتہاری کمپنیوں کی طرف سے رقم کی تاخیر ہے ۔اور ہاں ان اشتہاری کمپنیوں کی طرف سے نا صرف چینلز کو بروقت رقم نہیں دی جاتی بلکہ پوری رقم بھی ادا نہیں کی جاتی ہے ۔جس کی وجہ سے چینلز اپنے عملے اور پروڈیوسر ز کو تنخواہوں کی مد میں رقم جاری ہونے میں بہت تاخیر کرتے جاتے ہیں ۔
اگر چینلز کے مالکان ان اشتہاری کمپنیوں کے کرتا دھرتا ؤں سے سخت لہجے میں اپنی رقم کی واپسی کا مطالبہ کریں تو دوسری طرف سے ان کو کمرشل اشتہار بند کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے ۔لہٰذا چینلز مالکان بادل نا خواستہ اسی پرانی تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔اور ان اشتہاری کمپنیوں کا سارا بوجھ اور غصہ پھر چینلز مالکان اپنے ورکروں اور عملے کی تنخواہوں اور ڈرامہ پرڈیوسروں کو رقم نہ دے کر یا دیر سے دے کر اتارتے ہیں ۔میری چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ اس سنگین معاملے کی طرف بھی ہمدردانہ توجہ دی جائے کیونکہ اس ڈرامہ اور چینلز انڈسٹری کے ساتھ ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے ۔تنخواہوں کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے گھروں میں جو معاشی بھونچال آتا ہے وہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے ۔لہٰذا ہزاروں لوگوں کو اس ذہنی اذیت اور عزت نفس کی تذلیل سے بچانے کے خاطر اشتہاری کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ تمام اشتہاری کمپنیاں چینلز کے ساتھ ہر طرح کے واجبات کے معاملات 2ماہ کے اندر اندر کلیئر کیا کریں ۔تاکہ ٹی وی چینلز میں کام کرنے والے ملازمین ذہنی اور معاشی آسودگی کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں اور ٹی وی چینلز کو بھی سختی سے پابند کیا جائے کہ ڈرامہ آن ایئر ہوجانے کے زیادہ سے زیادہ 90دن تک ہر ڈرامہ پروڈیوسر کو ڈرامہ کی رقم ادا کر دی جائے ۔اسی طرح اداکاروں کو بھی زیادہ سے زیادہ 60دن میں ان کا معاوضہ ادا کر دیا جائے ۔ان سب شرائط کے اطلاق کو یقینی بنانے کے لے ایک بہت واضح قانون وضع کیا جائے تاکہ ہم فنی اور تکنیکی ہنر مندوں کی زندگیوں میں بھی کچھ آسانیاں پیدا ہو سکے ۔وگرنہ ان اشتہاری کمپنیوں کے اس ناروا سلوک سے متنفر ہو کر لوگ باغی اور پھر اشتہاری ہونے میں بھی کوئی عار نہیں سمجھیں گے۔