تازہ ترین
بارسلونا: آل پارٹیز کشمیر کانفرنس، کشمیری و پاکستانی کمیونٹی کی شرکت         پاکستانی کمیونٹی کو ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے راجہ ضیا صدیق کا خوبصورت مشورہ         وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی دبنگ تقریر پر چوہدری ایاز مٹھانہ چک کے تاثرات         چوہدری افضال وڑائچ کے والد کی وفات پر پاکستانی کمیونٹی کا اظہار افسوس اور دعائے مغفرت         سابق وزیر خزانہ رانا محمد افضل کی وفات پر مسلم لیگ ن سپین کا اظہار افسوس         انٹرنیشنل امن کانفرنس سپین ،مولانا عبدالخبیر آزاد کی شرکت         سپین میں امراض جگر کے اسپیشلسٹ پہلے پاکستانی ڈاکٹر عرفان مجید راجہ سے بات چیت، پاک نیوز رپورٹ         کاتالان کرکٹ لیگ فائنل کے مہمان خصوصی چوہدری عزیز امرہ ونر ٹرافی دیتے ہوئے         کاتالان کرکٹ لیگ کی چیمپیئن پاک آئی کیئر نے اپنی جیت کشمیری بھائیوں کے نام کر دی         قونصلیٹ آفس بارسلونا میں کشمیر کے حق میں احتجاج مختلف شعبہ ہائے زندگی کے معززین کی شرکت         آل پاکستان فیملی ایسوسی ایشنز، اظہار ایسوسی ایشن، ایسوسی ایشن پیس فار پیس کے زیر اہتمام ہر سال کی طرح اس سال بھی ہسپیتالت میں پاکستانی بچوں میں تعلیم کو فروغ دینے کے سلسلے میں پروگرام Back to school کا انعقاد کیا         قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری کی کاتالونیا کے نیشنل ڈے کی تقریبات میں شرکت         قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری کی کاتالونیا کے صدر کوائم تورا سے ملاقات         قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری کی صوبائی فارن منسٹر الفریڈ بوش ای پاسکوال سے ملاقات         ظہیر جنجوعہ نے نئی سفارتی ذمہ داریاں سنبھال لیں        

اشتہاری۔یا ’’اشتہاری‘‘کمپنیاں ، تحریر عتیق الرحمان

قارئین اصل موضوع کی طرف آنے سے پہلے کہنا چاہوں گا کہ پاکستان اور پاکستان میں موجود ادارے، محکمے جس جس نے ان کو ٹھیک کرنا تھا اس اس نے ہی ان اداروں، محکموں کو تباہ کیا ہے۔جس نے قوم کی غربت ختم کرنا تھی اس نے صرف اپنے بیٹوں کی غربت ختم کی ۔جنہوں نے ملک اور قوم کی تعمیر کرنا تھی۔انہوں نے فلیٹس خریدے ۔جزیرے خریدے۔جنہوں نے پولیس ٹھیک کرنا تھی انہوں نے پولیس کے ذریعے اپنے مخالفوں کو ٹھیک کروایا۔جس پیسے سے سکول اور ہسپتال بہتر ہونے تھے اس پیسے سے اپنی کمپنیاں ،اپنے کارخانے بہتر کئے گئے ۔جن لوگوں کو جیل میں ہونا چاہئے تھا ان لوگوں کو اسمبلیوں میں بٹھایا گیا جنہوں نے اسلام اور مساوات کا درس دینا تھا انہوں نے اپنی مسجدیں الگ الگ کرکے دوسروں کو کافر قرار دے دیا ۔جنہوں نے فیصلوں میں انصاف کرنا تھا ۔انہوں نے ہر فیصلہ نا انصافی سے کیا ۔جن لوگوں کو کھیلوں کا سربراہ لگا گیا انہوں نے وہ کھیل کبھی شوق سے ٹی وی پر بھی نہیں دیکھا ہوتا اور جنہوں نے ٹی وی چینلزپر بیٹھ کر ڈراموں کی قسمت کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے ان میں سے اکثریت نے کبھی خود ڈرامہ نہیں بنایا ہوتا ہے۔غرض یہ کہ پاکستان اور پاکستان کا ہر شعبہ جس نے ٹھیک کرنا تھا اس نے ہی خراب کیا ہے اور نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے ۔اب میں اپنے اصل مدعا کی طرف آنا چاہوں گا ۔قارئین بشمول اس خاکسار کے ہزاروں کی تعداد میں لوگ ٹی وی ڈرامہ اور ٹی وی چینلز انڈسٹری سے وابستہ ہیں ۔لیکن ہر چینل خواہ وہ ڈرامہ چینل ہو یا نیوز چینل سب اپنے ورکروں اداکاروں ،تکنیک کاروں اور اپنے ساتھ کام کرنے والے پروڈیوسر کے ساتھ معاوضے کی ادائیگی اور تنخواہ کے معاملے میں سالہا سال سے ایک غیر انسانی اور نا انصافی پر مبنی بد ترین سلوک روا رکھے ہوئے ہیں ۔چینل میں کام کرنے والے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر اور نامکمل تنخواہ ملنا ایک عام اور معمول کی بات ہے ۔ڈرامہ آن ائیر ہونے کے کئی سال تک ڈرامہ پروڈیوسر کو رقم کی ادائیگی نہ ہونا بھی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔چینلز کی یہ نا انصافیاں جان کر چینلز اور چینلز مالکان پر ہر ایک کا غصہ کرنا ایک جائز اور فطری امر ہے ۔لیکن جب پوری ایمانداری اور غیر جانبداری سے اس نا انصافی کے پیچھے چھپے اصل حقائق کا تجزیہ کیا گیا تو مجھے چینلز مالکان کچھ زیادہ دوشی اور ذمہ دار نہیں محسوس ہوئے ۔سرکاری ٹی وی کے علاوہ تمام تر پرائیویٹ چینلز کا ذریعہ آمدن کمرشل اشتہارات ہیں جو تمام چینلز کو اشتہاری کمپنیوں کے توسط سے ڈسٹری بیوٹ کئے جاتے ہیں ۔کسی بھی چینل کی نشری زندگی کا دارومدار صرف ان اشتہاری سانسوں کا مرہون منت ہے۔لہٰذا چینلز کے لئے اشتہاری اور ایڈورٹائزنگ کمپنیوں کے کرتا دھرتاؤں کی حیثیت خاندان میں بڑے داماد سے بھی زیادہ اہم اور معتبر تصور کی جاتی ہے ۔در حقیقت چینلز مالکان کی طرف سے ورکروں کو تنخواہوں کی بروقت عدم ادائیگی اور ڈرامہ پروڈیوسر کو سالہا سال رقم نہ ملنے کی اصل وجہ ان اشتہاری کمپنیوں کی طرف سے رقم کی تاخیر ہے ۔اور ہاں ان اشتہاری کمپنیوں کی طرف سے نا صرف چینلز کو بروقت رقم نہیں دی جاتی بلکہ پوری رقم بھی ادا نہیں کی جاتی ہے ۔جس کی وجہ سے چینلز اپنے عملے اور پروڈیوسر ز کو تنخواہوں کی مد میں رقم جاری ہونے میں بہت تاخیر کرتے جاتے ہیں ۔
اگر چینلز کے مالکان ان اشتہاری کمپنیوں کے کرتا دھرتا ؤں سے سخت لہجے میں اپنی رقم کی واپسی کا مطالبہ کریں تو دوسری طرف سے ان کو کمرشل اشتہار بند کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے ۔لہٰذا چینلز مالکان بادل نا خواستہ اسی پرانی تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔اور ان اشتہاری کمپنیوں کا سارا بوجھ اور غصہ پھر چینلز مالکان اپنے ورکروں اور عملے کی تنخواہوں اور ڈرامہ پرڈیوسروں کو رقم نہ دے کر یا دیر سے دے کر اتارتے ہیں ۔میری چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ اس سنگین معاملے کی طرف بھی ہمدردانہ توجہ دی جائے کیونکہ اس ڈرامہ اور چینلز انڈسٹری کے ساتھ ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے ۔تنخواہوں کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے گھروں میں جو معاشی بھونچال آتا ہے وہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے ۔لہٰذا ہزاروں لوگوں کو اس ذہنی اذیت اور عزت نفس کی تذلیل سے بچانے کے خاطر اشتہاری کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ تمام اشتہاری کمپنیاں چینلز کے ساتھ ہر طرح کے واجبات کے معاملات 2ماہ کے اندر اندر کلیئر کیا کریں ۔تاکہ ٹی وی چینلز میں کام کرنے والے ملازمین ذہنی اور معاشی آسودگی کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں اور ٹی وی چینلز کو بھی سختی سے پابند کیا جائے کہ ڈرامہ آن ایئر ہوجانے کے زیادہ سے زیادہ 90دن تک ہر ڈرامہ پروڈیوسر کو ڈرامہ کی رقم ادا کر دی جائے ۔اسی طرح اداکاروں کو بھی زیادہ سے زیادہ 60دن میں ان کا معاوضہ ادا کر دیا جائے ۔ان سب شرائط کے اطلاق کو یقینی بنانے کے لے ایک بہت واضح قانون وضع کیا جائے تاکہ ہم فنی اور تکنیکی ہنر مندوں کی زندگیوں میں بھی کچھ آسانیاں پیدا ہو سکے ۔وگرنہ ان اشتہاری کمپنیوں کے اس ناروا سلوک سے متنفر ہو کر لوگ باغی اور پھر اشتہاری ہونے میں بھی کوئی عار نہیں سمجھیں گے۔