تازہ ترین
یوم پاکستان مشاعرہ ، ایک شام فاخرہ انجم کے نام         پاک، اسپین اکنامک ڈپلومیسی، شفقت علی رضا         یوم پاکستان پروگرام کی کامیابی قونصل جنرل کی ان تھک محنت کا نتیجہ ہے ،امتیاز آکیہ         طاہر رفیع اور اجمل رشید بٹ ہسپانوی الیکشن میں امیدوار ہوں گے         Pakistan vs Australia 3rd ODI Live | 27 March 2019         Pakistan vs Australia 2nd ODI Live | 24 March 2019 | Ptv Sports Live         Thousands of Catalan separatists march in Madrid         یوم پاکستان اور ڈاکٹر محمد اسد کے عنوان سے اسپین کے تاریخی شہر غرناطہ میں پہلے پروگرام کا انعقاد         میکسیکو:حادثے میں 25 تارکین وطن ہلاک         برطانیہ میں امیگریشن اب پبلک کیلئے تشویش کابڑا موضوع نہیں رہا، سٹڈی میں انکشاف         17 سالہ جوڈی کے قتل کے شبہ میں دوسرا شخص گرفتار         ٹیپو سلطان کون تھا؟ مورخین اور ماہرین کی رائے         میکسیکو نائٹ کلب پر فائرنگ ،15 ہلاک         دُبئی: پاکستانی ڈرائیور نے چوری کرنے پر بھارتی ملازم کو پکڑوا دیا         موٹرولا کے Razr فولڈ ایبل فون کے فیچرز سامنے آ گئے        
a6

سپین۔گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ، ہزاروں افراد کی شرکت

بارسلونا(پاک نیوز )دنیا بھر کی طرح سپین میں مقیم مسلمان کمیونٹی اور دوسرے مذاہب کے افراد نے مل کر ہالینڈ کے سیاستدان گیرٹ ویلڈرز کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کرائے جانے کے خلاف خواتین کی ایسوسی ایشن ’’ آسے سوپ ‘‘ کے زیر اہتمام بارسلونا کے کولمبس ٹامب چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں مسلمان کمیونٹی کے ساتھ ساتھ سپین میں مقیم ہندو ، سکھ ، عیسائی اور دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی اور گیرٹ ویلڈرز کے خلاف سخت الفاظ میں نعرے بازی کی ۔ احتجاجی ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر گیرٹ ویلڈرز اور ہالینڈ حکومت کے خلاف نعرے لکھے ہوئے تھے ۔ احتجاجی ریلی میں سپین کی مختلف تنظیمات ، ایسوسی ایشنز ، مذہبی سیاسی اور سماجی اداروں کی بھر پور نمائندگی موجود تھی ۔احتجاجی ریلی میں خواتین کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی اور حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے اور ایسا سوچنے والوں کی مذمت کی ۔ احتجاجی ریلی کولمبس ٹامب سے ہوتی ہوئی مختلف شاہراہوں پر پھیل گئی ۔ شرکاء ریلی کا کہنا تھا کہ شان رسالت ﷺ میں گستاخی کرنے والے کیوں نہیں سمجھتے کہ ایسا کرنے سے مسلمان کمیونٹی کو کتنی تکلیف ہوتی ہے ۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ ہم کسی بھی نبی کی شان میں گستاخی نہیں ہونے دیں گے اور اس طرح کے عمل پر سخت احتجاج ہو گا ۔ احتجاجی ریلی سے سلطان باہو کے گدی نشین پیر ریاض الحسن قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے آقا ﷺ کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر سکتے ہیں ، ہمارے ماں باپ ہماری اولادین حضرت محمد پر قربان ہو جائیں تو بھی ہم خوشی خوشی ایسا کر دیں لیکن ہم اپنے نبی ﷺ کے خلاف نہ کوئی بات سن سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کو ایسی جرات دیں گے کہ وہ شان رسالت میں گستاخی کا ارتکاب کریں ۔منہاج القرآن سپین کے راہنما محمد اقبال چوہدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام امن کا درس دیتا ہے لیکن شان رسالت ﷺ میں گستاخی اس امن کو سبو تاژ کر سکتی ہے انہوں نے کہا کہ اگر دنیا میں امن قائم کرنا ہے تو مسلمانوں کی دل آزاری ختم کرنا ہوگی اور وہ اسی طرح ممکن ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کی شان کوئی گستاخی نہ کرے ورنہ وہ اپنے انجام کا خود ذمہ دار ہوگا ۔مولانا عبدالمعروف نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہالینڈ حکومت کو چاہیئے کہ وہ ایسے سیاستدانوں پر پابندی عائد کرے جو مختلف مذاہب کے نبیوں کے خلاف گستاخی کرتے ہیں کہ جس سے ان نبیوں کے پیرو کاروں کی دل آزاری ہوتی ہے ، انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کا یہ قطعاً مطلب نہیں کہ آپ اس آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھائیں ، آسے سوپ ایسوسی ایشن کی صدر ڈاکٹر ہما جمشید نے احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پیارے نبی ﷺ کے ساتھ ساتھ اللہ کی طرف سے بھیجے گئے تمام انبیاء کا احترام کرتے ہیں کیونکہ ہمارے دین نے ہمیں یہ درس دیا ہے اس لئے دنیا میں کوئی ایسا قانون بننا چاہیئے جس کی وجہ سے انبیاء کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ اس وقت احتجاجی ریلی میں مختلف مذاہب کے افراد شریک ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تمام مذاہب بھائی چارے اور اپنائیت کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے ہالینڈ حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار رائے کا ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کو لگام ڈالی جائے ورنہ مسلمان اپنے نبی ﷺ کے نام پر قربان ہونا جانتے ہیں ، مسیحی راہنما خاتون جوزفین کرسٹینا نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کی احتجاجی ریلی میں میں کہنا چاہتی ہوں کہ ہمیں تمام نبیوں کا احترام کرنا چاہیئے ، ہم مسیحی ہیں لیکن ہم بھی چاہیں گے کہ مسلمانوں کی دل آزاری کی جائے انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کا احترام انسانیت کا پہلا قانون ہے اور انسانیت کی یہی ڈیمانڈ ہے کہ تمام مذاہب اور ان کے انبیاء کا احترام ہم سب پر لازم ہے ۔احتجاجی ریلی میں اس خوشی کا اظہار بھی کیا گیا کہ ہالینڈ حکومت نے پاکستانی حکومت کے سخت احتجاج کی وجہ سے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کو ختم کر دیا ہے لیکن دوسری طرف گیرٹ ویلڈرز کے ٹویٹ کہ مسلمان اس عمل کو اخلاقی فتح نہ سمجھیں میں یہ کام دوبارہ کرونگا جیسے بیان پر ایک دفعہ بھر سے غم و غصہ کا اظہار کیا ہے ۔مسلمان کمیونٹی نے ایک بار پھر ہالینڈ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گیرٹ ویلڈرز جیسے شر پسند کو لگام ڈالی جائے اور اسے آزادی اظہار رائے کی آڑ میں مذاہب اور انبیاء کی شان میں گستاخی نہ کرنے دی جائے ۔