تازہ ترین
یوم پاکستان مشاعرہ ، ایک شام فاخرہ انجم کے نام         پاک، اسپین اکنامک ڈپلومیسی، شفقت علی رضا         یوم پاکستان پروگرام کی کامیابی قونصل جنرل کی ان تھک محنت کا نتیجہ ہے ،امتیاز آکیہ         طاہر رفیع اور اجمل رشید بٹ ہسپانوی الیکشن میں امیدوار ہوں گے         Pakistan vs Australia 3rd ODI Live | 27 March 2019         Pakistan vs Australia 2nd ODI Live | 24 March 2019 | Ptv Sports Live         Thousands of Catalan separatists march in Madrid         یوم پاکستان اور ڈاکٹر محمد اسد کے عنوان سے اسپین کے تاریخی شہر غرناطہ میں پہلے پروگرام کا انعقاد         میکسیکو:حادثے میں 25 تارکین وطن ہلاک         برطانیہ میں امیگریشن اب پبلک کیلئے تشویش کابڑا موضوع نہیں رہا، سٹڈی میں انکشاف         17 سالہ جوڈی کے قتل کے شبہ میں دوسرا شخص گرفتار         ٹیپو سلطان کون تھا؟ مورخین اور ماہرین کی رائے         میکسیکو نائٹ کلب پر فائرنگ ،15 ہلاک         دُبئی: پاکستانی ڈرائیور نے چوری کرنے پر بھارتی ملازم کو پکڑوا دیا         موٹرولا کے Razr فولڈ ایبل فون کے فیچرز سامنے آ گئے        
42051672_303

بحیرہ روم میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد میں اضافہ

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق لیبیا کی سمندری حدود میں گزشتہ ہفتے غرق ہونے والی کشتی کے نتیجے میں 13 پاکستانی ہلاکتوں کی تصدیق ہو گئی ہے۔ مہاجرین کی اس کشتی میں تقریبا نوے افراد سوار تھے، جن میں زیادہ تر پاکستانی ہی تھے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد فیصل کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ ہفتے بروز جمعہ لیبیا ہوئے کشتی کے حادثے کے نتیجے میں تیرہ پاکستانی افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لیبیا کے ساحلی محافظوں نے ان لاشوں کو نکال لیا ہے اور دستاویزات کی چھان بین سے ثابت ہو گیا کہ یہ پاکستانی شہری ہی تھے۔ اس کشتی میں سوار یہ لوگ اٹلی پہنچنے کی کوشش میں تھے۔ ہفتے کے دن پاکستانی وزارت خارجہ نے اس حادثے میں گیارہ پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

جن تیرہ پاکستانی تارکین وطن کی لاشیں ملی ہیں، ان میں سے آٹھ کا تعلق گجرات جبکہ چار کا منڈی بہاؤالدین سے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا محکمہ لیبیا کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور ایک ہفتے کے اندر اندر ان لاشوں کو پاکستان منتقل کر دیا جائے گا۔

محمد فیصل نے مزید بتایا ہے کہ ایسی خبروں کی تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا حادثے کا شکار ہونے والی اس کشتی میں زیادہ تر پاکستانی مہاجرین سوار تھے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین آئی او ایم نے بتایا ہے کہ دو جنوری کو ہونے والے اس حادثے کے نتیجے میں کم ازکم نوے افراد کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس کشتی میں نوے سے زائد مہاجرین سوار تھے، جن میں سے صرف تین ہی زندہ بچے ہیں۔

عالمی ادارہ برائے مہاجرین کی ترجمان اولیویہ ہیڈون نے بتایا ہے کہ لیبیا کے سمندری راستے یورپ جانے کی کوشش کرنے والوں میں پاکستانی شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

ہیڈون نے بتایا کہ قومیت کے حوالے سے دیکھا جائے تو گزشتہ برس غیر قانونی طور پر لیبیا سے اٹلی جانے والوں میں پاکستانیوں کا نمبر تیراہوں تھا تاہم رواں برس کے پہلے ماہ کے دوران پاکستان ایسا تیسرا ملک ہے، جس کے باشندے سب سے زیادہ تعداد میں بحیرہ روم کے خطرناک راستے سے یورپ پہنچنے کی کوشش کر چکے ہیں یا پہنچ چکے ہیں۔

ہیڈون کے مطابق پاکستانی شہریوں کی طرف سے لیبیا کے راستے غیرقانونی طور پر یورپ پہنچنے کی وجہ ابھی تک نامعلوم ہے لیکن حقائق جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ مستقبل میں بھی پاکستانی باشندوں کی بڑی تعداد اس طرح یورپ پہنچنے کی کوشش کرے گی۔

آئی او ایم کے اعدادوشمار کے مطابق جنوری کے مہینے میں چھ ہزار چھ سو چوبیس تارکین وطن لیبیا کے سمندری راستے کے ذریعے غیر قانونی طور پر یورپ پہنچے۔ ان معلومات کے مطابق اسی ماہ بحیرہ روم میں رونما ہونے والے متعدد حادثات کے نتیجے میں کم ازکم ڈھائی سو مہاجرین لقمہ اجل بھی بن گئے۔