تازہ ترین
سپین: کشمیری رہنما مقبول بٹ شہید کی 36ویں برسی پر تقریب         آرمی کمانڈو اور سابق باکسر ظفر پہلوان کی ساتھیوں سمیت کشمیر ریلی میں شرکت         قونصل جنرل بارسلونا کے ساتھ مل کر یوم پاکستان پروگرام کامیاب بنائیں گے ، میاں محمد اظہر و راجو الیگزینڈر         جاوید ڈار کو حمزہ جاوید ڈار کی تعلیمی کامیابی پر چوہدری نوید وڑائچ کی مبارک باد         کشمیر ریلی بارسلونا میں چوہدری نزیر احمد نواں کی بھر پور شرکت         کشمیر ریلی میں ایاز مٹھانہ ، راجہ بابر ناصر اور قدیر احمد خان کی شرکت         چوہدری امتیاز آکیہ کی کشمیر ریلی بارسلونا میں بھر پور شرکت         کشمیر ریلی رامبلہ راوال میں چوہدری گلریز بوگا کی شرکت         مسلم لیگ ن سپین قافلے کی صورت کشمیر ریلی میں شریک         ندائے کشمیر ایسوسی ایشن سپین کے زیر اہتمام کشمیر ریلی کا انعقاد         حاجی اسد حسین کی برطانیہ میں سہیل وڑائچ ، طاہر چوہدری اور حمزہ باسط بٹ سے ملاقات         کاتالونیا میں آزادی کی تحریک پھر زور پکڑ گئی ہے         کشمیر اور خالصتان کی آزادی کے لئے ریفرنڈم ٹونٹی ٹونٹی کا اعلان، شفقت علی رضا         علامہ اقبال ؒ کے یوم پیدائش پراوسپتالیت کے اُردو سکول میں شاندار تقریب         بارسلونا: آل پارٹیز کشمیر کانفرنس، کشمیری و پاکستانی کمیونٹی کی شرکت        

کلبھوش کی رہائی کی بھارتی درخواست مسترد

عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کلبھوشن جادھو کیس میں پاکستان کی فتح ہوگئی۔

پاکستان میں کلبھوشن جادھو کی سزا کے خلاف بھارتی اپیل پر آئی سی جے کے جج عبدالقوی احمد یوسف نے 21فروری کو محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

عدالت نے کلبھوشن جادھو کی بریت،رہائی اور بھارت واپسی کی بھارتی درخواست بھی مسترد کردی جبکہ پاکستان کی فوجی عدالت کی سزا ختم کرنے کی بھارتی اپیل بھی رد کردی۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ کلبھوشن جادھو بھارتی شہری ہے، اس کا مبارک پٹیل کے نام کا پاسپورٹ بھی بھارتی ہے،ویانا کنونشن جاسوسی کرنے والے قیدیوں کو قونصلر رسائی سے محروم نہیں کرتا،پاکستان جادھو کو قونصلر رسائی دے۔

عدالت نے مزید کہا کہ ہمارے خیال میں پاکستان کی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ جادھو کیس میں نظر ثانی کا حق رکھتی ہیں۔

عالمی عدالت انصاف نے پاکستان کی دائر ہ اختیار سماعت کی درخواست مسترد کردی اور کہا کہ پاکستان نے ویانا کنونش میں طے شدہ قونصلر رسائی کے معاملات کا خیال نہیں رکھا۔

سماعت کےد وران پاکستان کی طرف سے خاور قریشی نے اور بھارت کی جانب سے ہریش سالوے نے دلائل پیش کئے تھے۔

پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث کلبھوشن جادھو کو ایران سے پاکستان دراندازی کرتے ہوئے3 مارچ 2016 کو بلوچستان میں مشخیل کے علاقے سے گرفتار کیا گیا۔

کلبھوشن جادھو کے پاس حسین مبارک پٹیل کے نام سے ایک جعلی پاسپورٹ برآمد ہوا،دوران سماعت بھارت یہ واضح کرنے میں ناکام رہا کہ کلبھوشن جادھو کے پاس 2پاسپورٹ کیوں اور کیسے تھے؟

گرفتاری کے بعد بھارتی دہشت گرد نے اعتراف کیا کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ایجنٹ ہے اور بلوچستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے، جرم ثابت ہونے پر فوجی عدالت نے اسے سزائے موت سنائی۔

10 اپریل 2017ء کو فوجی عدالت سے کلبھوشن کو سزائے موت کے بعد بھارت نے یہ معاملہ عالمی عدالت انصاف میں اٹھا دیا اور مطالبہ کیا کہ کلبھوشن کی سزائے موت ختم کر کے اسے رہا کیا جائے اور بھارت کے حوالے کیا جائے۔

عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں بھارت کی یہ تینوں درخواستیں مسترد کر دی ہیں، عالمی عدالت نے کلبھوشن کی سزا ختم کرنے کی بھارتی درخواست بھی مسترد کر دی ہے۔

کلبھوشن کیس کا فیصلہ سننےکے لئے اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور کی قیادت میں وفد گزشتہ روز دی ہیگ پہنچا تھا،وفد میں ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل بھی شامل ہیں۔

کلبھوشن کیس کی آخری سماعت میں پاک بھارت وفود نے شرکت کی تھی،پاکستانی وفد کی سربراہی اٹارنی جنرل انور منصور خان اور بھارتی وفد کی سربراہی جوائنٹ سیکریٹری دیپک متل نے کی تھی۔

کلبھوشن جادھو کو پاکستان ملٹری کورٹ نے سزائے موت دی تھی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے 10اپریل 2017ء کو کلبھوشن جادھو کی سزائے موت کی توثیق کی۔

کلبھوشن نے رحم کی اپیل کی تھی جبکہ مئی 2017ء میں بھارت معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے گیا تھا اور کلبھوشن کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد رکوانے کی درخواست دائر کی تھی۔