تازہ ترین
حاجی اسد حسین کی برطانیہ میں سہیل وڑائچ ، طاہر چوہدری اور حمزہ باسط بٹ سے ملاقات         کاتالونیا میں آزادی کی تحریک پھر زور پکڑ گئی ہے         کشمیر اور خالصتان کی آزادی کے لئے ریفرنڈم ٹونٹی ٹونٹی کا اعلان، شفقت علی رضا         علامہ اقبال ؒ کے یوم پیدائش پراوسپتالیت کے اُردو سکول میں شاندار تقریب         بارسلونا: آل پارٹیز کشمیر کانفرنس، کشمیری و پاکستانی کمیونٹی کی شرکت         پاکستانی کمیونٹی کو ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے راجہ ضیا صدیق کا خوبصورت مشورہ         وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی دبنگ تقریر پر چوہدری ایاز مٹھانہ چک کے تاثرات         چوہدری افضال وڑائچ کے والد کی وفات پر پاکستانی کمیونٹی کا اظہار افسوس اور دعائے مغفرت         سابق وزیر خزانہ رانا محمد افضل کی وفات پر مسلم لیگ ن سپین کا اظہار افسوس         انٹرنیشنل امن کانفرنس سپین ،مولانا عبدالخبیر آزاد کی شرکت         سپین میں امراض جگر کے اسپیشلسٹ پہلے پاکستانی ڈاکٹر عرفان مجید راجہ سے بات چیت، پاک نیوز رپورٹ         کاتالان کرکٹ لیگ فائنل کے مہمان خصوصی چوہدری عزیز امرہ ونر ٹرافی دیتے ہوئے         کاتالان کرکٹ لیگ کی چیمپیئن پاک آئی کیئر نے اپنی جیت کشمیری بھائیوں کے نام کر دی         قونصلیٹ آفس بارسلونا میں کشمیر کے حق میں احتجاج مختلف شعبہ ہائے زندگی کے معززین کی شرکت         آل پاکستان فیملی ایسوسی ایشنز، اظہار ایسوسی ایشن، ایسوسی ایشن پیس فار پیس کے زیر اہتمام ہر سال کی طرح اس سال بھی ہسپیتالت میں پاکستانی بچوں میں تعلیم کو فروغ دینے کے سلسلے میں پروگرام Back to school کا انعقاد کیا        

پاکستان کی پہلی خلا باز خاتون کون ہیں؟

جنوبی فرانس میں مقیم پاکستانی 44سالہ نمیرہ سلیم کا نام خلا میں سفرکرنے والوں میں شامل ہوگیا۔

امریکا کے شہر اورلانڈو میں ’اپولو 11 مشن‘ کے پچاس سال مکمل ہونے کے موقع پر نمیرا کا کہنا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں عام سے کچھ بڑھ کر کرنا چاہتی تھیں تو سب سے پہلے انہوں نے زمین سے باہر کی دنیا دیکھنے کا ارادہ کیا ۔

خلائی سفر پر جانے کے لئے نمیرا نے 2لاکھ ڈالر کا برطانوی اسپیس فلائٹ کا ٹکٹ  حاصل کیا۔ نمیرا کا نام معروف ارب پتی رچرڈ بیرنسن کی خلائی کمپنی ورجین کی بنیاد رکھنے والے افراد کی فہرست میں بھی ہوتا ہے۔

نمیرا سلیم خلا میں جانے کا ارادہ بہت پہلے سے رکھتی ہیں اور انہوں نے اس سلسلے میں خلامیں سیاحوں کو لے جانے والے منصوبے میں اپنا نام درج کروا رکھا تھا تاہم اب اُن کا نام اس فہرست میں آچکا ہے۔

اس سلسلے میں نمیرا سمیت دنیا بھر سے ہزاروں افراد کی جانب سے درخواستین جمع کروائی گئیں تھیں اورسال بھر مذاکرات کے بعد اُن کا نام خلا میں سفر کرنے والوں میں شامل کیا گیا۔

نمیرا نے 2015 میں ایک غیر منافع بخش، خلائی ٹرسٹ کی بنیاد رکھی تھی جس کا مقصد خلا میں سفر کر کے دنیا میں امن کو فروغ دینا ہے۔

رواں سال معروف امریکی خلائی کمپنی ورجین کی جانب سے خلائی سفر کے لئے اپنا پہلا پیسنجر ( جو اُن کے اسٹاف ممبر میں سے ہی تھے ) خلائی جہاز ’اسپیس شپ ٹو‘ کے ذریعے کیلیفورنیا کے موجاو ائیر اینڈ اسپیس پورٹ کے تحت بھیجا گیا ۔

اس سے قبل بلند حوصلوں کی مالک نمیرا دنیا کے قطب شمالی اورقطب جنوبی پر جانے والی پہلی پاکستانی ہونے کا اعزاز بھی اپنے نام کر چکی ہیں ۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والی مہم جو خاتون نمیرا نے 21 اپریل 2007ء کو قطب شمالی میں پاکستان کا پرچم لہرایا۔ وہ پرچم انہیں 29 جنوری 2007ء کو صدر جنرل پرویز مشرف نے دیا تھا۔

نمیرہ سلیم نے 10 جنوری 2008ء کو 35 سال کی عمر میں قطب جنوبی پر بھی قدم رکھا اور وہاں پہلی مرتبہ پاکستان کا پرچم لہرانے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ پرچم انہیں 24 دسمبر 2007ء کو پاکستان کے نگراں وزیراعظم محمد میاں سومرو نے دیا تھا

نمیرا سلیم دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ یا کوہ ہمالیہ سے زیادہ بلندی سے زمین پر چھلانگ لگانے والی پہلے ایشیائی خاتون کا اعزاز حاصل کر چکی ہیں ۔

نمیرہ سلیم کی ابتدائی تعلیم

1975ء میں پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہونے والی نمیرا سلیم نے ہوفسٹرا یونیورسٹی، نیویارک سے بین الاقوامی تجارت میں بیچلرز کیا اور کولمبیا یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ پاکستان واپس آئیں اور یہاں اقوام متحدہ کے کلچرل ایکسچینج پروگرام کے تحت بننے والی بین الاقوامی اکنامکس اور بزنس مینجمنٹ ایسوسی ایشن کی صدر منتخب ہوئیں ۔

1997ء میں نمیرا یورپی ملک موناکو منتقل ہوگئیں۔ نمیرا نا صرف ایک خلا باز ہیں بلکہ وہ ایک فنکارہ بھی ہیں۔ شاعری، مجسمہ نگاری اور موسیقی میں بھی نمیرا نے کام کر رکھا ہے۔ اُن کی پینٹنگز امن جیسے موضوع پر ہوتی ہیں ۔

گزشتہ 13 سال سے نمیرا ’ورجین گروپ‘ کے تعاون سے خلائی سیاحت کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں ۔