تازہ ترین
پاکستانی سٹیج اداکاروں کی پردے کے پیچھے کی کہانی دیکھیں اس ویڈیو میں         لگرونیو والی بال ٹورنامنٹ میں چوہدری عزیز امرہ اور سبط امرہ مہمان خصوصی تھے وہاں کی یادگار تصاویر         سپین ۔ جشن آزادی شوٹنگ والی بال چیلنج کپ گجر کلب نے جیت لیا         بارسلونا میں انڈیا کے آزادی کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا ، البیلا ٹی وی کی رپورٹ         پاکستان مسلم لیگ ن سپین کے صدر چوہدری محمد افضال سے میڈیا کی ملاقات         سپین۔ تیسرا ایشیاءٹی ٹوئنٹی کرکٹ کپ پاکستان نے جیت لیا         چوہدری موسی الہی کو خوش آمدید کہتے ہوئے چوہدری عبدالغفار مرہانہ کے اشتہار کا عکس         چوہدری موسی الہی کو بارسلونا آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں ، چوہدری عبدالغفار مرہانہ         ملک عمران اور مرزا بشارت مہمان خصوصی چوہدری عزیز امرہ کا استقبال کرتے ہوئے         ملک عمران کرکٹ کی خدمت کے ساتھ ساتھ شعبہ نقابت میں بھی کمال کرتے ہیں         سپین۔تیسرے ایشیاءٹی 20 کرکٹ کپ ٹرافی کی تقریب رونمائی، مہمان خصوصی چوہدری عزیز امرہ تھے         سپین ۔ تیسرے ایشیاءٹی 20 کرکٹ کپ ٹرافی کی تقریب رونمائی         چوہدری تنویر کوٹلہ کے اعزاز میں عشائیہ ، راجہ شعیب ستی ، نوید وڑائچ، راجہ سونی و دیگر کی شرکت         سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد تحریک کی ناکامی اپوزیشن جماعتوں کی ناکامی ہے ، چوہدری نوید وڑائچ         برازیل کی جیل میں 2 گروپوں میں تصادم، 52 قیدی ہلاک        
rafi-muhammad-singer-india-39-death-day

محمد رفیع کو مداحوں سے بچھڑے 39 برس بیت گئے

برِ صغیر کے نامور گلوکار محمد رفیع کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جن پر موسیقی ناز کرتی ہے، اس عظیم گلوکار کو ہم سے بچھڑے 39 برس بیت گئے مگر ان کی آواز آج بھی ہرطرف سُر بکھیر رہی ہے۔

رفیع نے لاہور ریڈیو پر پنجابی نغموں سے اپنے سفر کی ابتداء کی جن کا پہلا فلمی گانا زینت بیگم کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا۔

رفیع کی زندگی میں سب سے بڑا موڑ اس وقت آیا جب موسیقار اعظم نوشاد نے فلم”بیجو باؤرا” انہیں اپنی آواز میں جادو جگانے کا موقع فراہم کیا جس کے بعد تمام نغمے سپر ہٹ ہوئے۔

محمدرفیع کو کلاسیکی سے شوخ و چنچل ہر طرح کے گیت گانے میں مہارت حاصل تھی۔

“من تڑپت ہری درشن ” جیسا کلاسیکی  اور “چاہے کوئی مجھے جنگلی کہے ” جیسا چنچل نغمہ انکی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

دلوں پر راج کرنے والے رفیع نے نہ صرف اردو اور ہندی بلکہ میراٹھی، گجراتی، بنگالی اور تامل کے علاوہ کئی زبانوں میں بھی ہزاروں گیت گائے اور 31 جولائی 1980کو اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔