تازہ ترین
بارسلونا: آل پارٹیز کشمیر کانفرنس، کشمیری و پاکستانی کمیونٹی کی شرکت         پاکستانی کمیونٹی کو ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے راجہ ضیا صدیق کا خوبصورت مشورہ         وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی دبنگ تقریر پر چوہدری ایاز مٹھانہ چک کے تاثرات         چوہدری افضال وڑائچ کے والد کی وفات پر پاکستانی کمیونٹی کا اظہار افسوس اور دعائے مغفرت         سابق وزیر خزانہ رانا محمد افضل کی وفات پر مسلم لیگ ن سپین کا اظہار افسوس         انٹرنیشنل امن کانفرنس سپین ،مولانا عبدالخبیر آزاد کی شرکت         سپین میں امراض جگر کے اسپیشلسٹ پہلے پاکستانی ڈاکٹر عرفان مجید راجہ سے بات چیت، پاک نیوز رپورٹ         کاتالان کرکٹ لیگ فائنل کے مہمان خصوصی چوہدری عزیز امرہ ونر ٹرافی دیتے ہوئے         کاتالان کرکٹ لیگ کی چیمپیئن پاک آئی کیئر نے اپنی جیت کشمیری بھائیوں کے نام کر دی         قونصلیٹ آفس بارسلونا میں کشمیر کے حق میں احتجاج مختلف شعبہ ہائے زندگی کے معززین کی شرکت         آل پاکستان فیملی ایسوسی ایشنز، اظہار ایسوسی ایشن، ایسوسی ایشن پیس فار پیس کے زیر اہتمام ہر سال کی طرح اس سال بھی ہسپیتالت میں پاکستانی بچوں میں تعلیم کو فروغ دینے کے سلسلے میں پروگرام Back to school کا انعقاد کیا         قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری کی کاتالونیا کے نیشنل ڈے کی تقریبات میں شرکت         قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری کی کاتالونیا کے صدر کوائم تورا سے ملاقات         قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری کی صوبائی فارن منسٹر الفریڈ بوش ای پاسکوال سے ملاقات         ظہیر جنجوعہ نے نئی سفارتی ذمہ داریاں سنبھال لیں        
rafi-muhammad-singer-india-39-death-day

محمد رفیع کو مداحوں سے بچھڑے 39 برس بیت گئے

برِ صغیر کے نامور گلوکار محمد رفیع کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جن پر موسیقی ناز کرتی ہے، اس عظیم گلوکار کو ہم سے بچھڑے 39 برس بیت گئے مگر ان کی آواز آج بھی ہرطرف سُر بکھیر رہی ہے۔

رفیع نے لاہور ریڈیو پر پنجابی نغموں سے اپنے سفر کی ابتداء کی جن کا پہلا فلمی گانا زینت بیگم کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا۔

رفیع کی زندگی میں سب سے بڑا موڑ اس وقت آیا جب موسیقار اعظم نوشاد نے فلم”بیجو باؤرا” انہیں اپنی آواز میں جادو جگانے کا موقع فراہم کیا جس کے بعد تمام نغمے سپر ہٹ ہوئے۔

محمدرفیع کو کلاسیکی سے شوخ و چنچل ہر طرح کے گیت گانے میں مہارت حاصل تھی۔

“من تڑپت ہری درشن ” جیسا کلاسیکی  اور “چاہے کوئی مجھے جنگلی کہے ” جیسا چنچل نغمہ انکی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

دلوں پر راج کرنے والے رفیع نے نہ صرف اردو اور ہندی بلکہ میراٹھی، گجراتی، بنگالی اور تامل کے علاوہ کئی زبانوں میں بھی ہزاروں گیت گائے اور 31 جولائی 1980کو اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔