تازہ ترین
بارسلونا: آل پارٹیز کشمیر کانفرنس، کشمیری و پاکستانی کمیونٹی کی شرکت         پاکستانی کمیونٹی کو ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے راجہ ضیا صدیق کا خوبصورت مشورہ         وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی دبنگ تقریر پر چوہدری ایاز مٹھانہ چک کے تاثرات         چوہدری افضال وڑائچ کے والد کی وفات پر پاکستانی کمیونٹی کا اظہار افسوس اور دعائے مغفرت         سابق وزیر خزانہ رانا محمد افضل کی وفات پر مسلم لیگ ن سپین کا اظہار افسوس         انٹرنیشنل امن کانفرنس سپین ،مولانا عبدالخبیر آزاد کی شرکت         سپین میں امراض جگر کے اسپیشلسٹ پہلے پاکستانی ڈاکٹر عرفان مجید راجہ سے بات چیت، پاک نیوز رپورٹ         کاتالان کرکٹ لیگ فائنل کے مہمان خصوصی چوہدری عزیز امرہ ونر ٹرافی دیتے ہوئے         کاتالان کرکٹ لیگ کی چیمپیئن پاک آئی کیئر نے اپنی جیت کشمیری بھائیوں کے نام کر دی         قونصلیٹ آفس بارسلونا میں کشمیر کے حق میں احتجاج مختلف شعبہ ہائے زندگی کے معززین کی شرکت         آل پاکستان فیملی ایسوسی ایشنز، اظہار ایسوسی ایشن، ایسوسی ایشن پیس فار پیس کے زیر اہتمام ہر سال کی طرح اس سال بھی ہسپیتالت میں پاکستانی بچوں میں تعلیم کو فروغ دینے کے سلسلے میں پروگرام Back to school کا انعقاد کیا         قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری کی کاتالونیا کے نیشنل ڈے کی تقریبات میں شرکت         قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری کی کاتالونیا کے صدر کوائم تورا سے ملاقات         قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری کی صوبائی فارن منسٹر الفریڈ بوش ای پاسکوال سے ملاقات         ظہیر جنجوعہ نے نئی سفارتی ذمہ داریاں سنبھال لیں        

ہماری ڈوبتی معیشت کا سفینہ,بلال غوری

جنوبی امریکہ کا ایک ملک ہے ارجنٹینا، جسے ہم فٹبالر میسی کے حوالے سے جانتے ہیں۔ یہ براعظم امریکہ کا چوتھا جبکہ دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہے۔ یہاں 2007سے 2015تک خاتون صدر کرسٹینا فرنینڈز کی حکمرانی رہی۔ کرسٹینا فرنینڈز کے دور میں نہ صرف معیشت مستحکم ہوئی بلکہ قانون کی حکمرانی کے حوالے سے بھی نہایت اہم فیصلے ہوئے۔ سابق فوجی حکمران رینالدو بگینو کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا اور ٹرائل کے بعد 25سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ارجنٹینا والوں کو تبدیلی کا شوق چرایا تو انہوں نے 2015میں Mauricio Macriکو صدر منتخب کر لیا۔ صدر موریسیو میکری کا خیال تھا کہ اس ملک کا واحد مسئلہ کرپشن ہے جسے جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔ چنانچہ سیاسی مخالفین کو کرپشن کے الزامات لگا کر گرفتار کیا جانے لگا۔ امادو بودو جو خاتون صدر کرسٹینا کے ساتھ نائب صدر کے طور پر فرائض سر انجام دیتے رہے، کو کرپشن اور کمیشن کھانے کے مقدمے میں پانچ سال دس ماہ قید کی سزا سنا دی گئی۔ جب کرپشن کے خلاف مہم پورے جوبن پر تھی تو صدر موریسیو میکری کا نام پاناما لیکس میں آگیا۔ معلوم ہوا کہ صدر موریسیو میکری آف شور کمپنی کے ڈائریکٹر ہیں۔ ارجنٹینا کی اعلیٰ عدالت نے صدر کو طلب کرلیا۔ موریسیو میکری کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل آف شور کمپنی ’’فلیگ ٹریڈنگ‘‘کے ڈائریکٹر ضرور ہیں مگر انہوں نے اس کمپنی سے کبھی کوئی تنخواہ وصول نہیں کی۔ ارجنٹینا میں بلیک لاز ڈکشنری مستعمل نہیں اور چونکہ کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی تھی اس لئے صدر موریسیو میکری کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہ ہوئی۔ صدر موریسیو میکری اس بحران کی زد میں تو نہ آئے البتہ ان کی غیر مستحکم پالیسیوں کے باعث معیشت کی کشتی ہچکولے لینے لگی۔ صدر موریسیو قرضے لینے کے حق میں نہیں تھے اس لئے انہوں نے کفایت شعاری اپنانے کا اعلان کر دیا۔ حکومتی اخراجات کم ہونے لگے، ترقیاتی منصوبے محدود کر دیئے گئے اور غیر ضروری سرکاری ملازمین کو نکالا جانے لگا۔ ان سب اقدامات کے باوجود ملکی معیشت ٹھیک نہ ہوئی اور بحران بڑھتا چلا گیا تو بیل آئوٹ پیکیج کے لئے آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑا۔ کئی ماہ کی بات چیت کے بعد عالمی مالیاتی ادارے نے ارجنٹینا کی معیشت کو سہارا دینے کے لئے 57بلین ڈالر قرض دینے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ آئی ایم ایف کی تاریخ کا سب سے بڑا بیل آئوٹ پیکیج تھا۔پاکستان جیسے ممالک کو 6بلین ڈالر لینے کے لئے نجانے کتنے پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں اور ارجنٹینا کو بیک جنبش قلم 57بلین ڈالر دیدیئے گئے۔ معیشت کے گورکھ دھندے سے واقف ماہرین کہتے رہے کہ جتنا مرضی قرض لے لیں جب تک سرمایہ کار کا اعتماد بحال نہیں کیا جاتا، کاروباری سرگرمیاں شروع نہیں ہوتیں، ملکی معیشت کو قرض کی سانسیں مہیا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آئی ایم ایف سے طے ہونے والی شرائط پر بھی لوگوں نے تحفظات کا اظہار کیا اور یہ خدشات ظاہر کئے کہ اس قرضے کو واپس کرنا مشکل ہو جائے گا مگر صدر موریسیو میکری جو اس سے قبل غیر ملکی قرضے لینے کے حق میں نہیں تھے، کو اب یقین تھا کہ ملک کی تقدیر آئی ایم ایف کے بیل آئوٹ پیکیج سے ہی بدل سکتی ہے۔ چنانچہ معاہدے کے مطابق آئی ایم ایف نے ڈالروں کی برسات کر دی لیکن ڈالروں کی برسات کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔

چند روز قبل ارجنٹینا میں صدارتی انتخابات کے لئے ابتدائی مقابلہ ہوا تو اپوزیشن کے امیدوار Alberto Fernandezنے بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی۔ اب اکتوبر 2019میں صدارتی الیکشن کے لئے ووٹنگ ہونا ہے اور صدر موریسیو میکری کی شکست یقینی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ ان کی ناقص پالیسیوں کے باعث ارجنٹینا کو اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے اور عین ممکن ہے کہ ملک کا دیوالیہ نکل جائے اور غیر ملکی قرضوں کی قسط ادا نہ کر سکنے کے باعث اسے ڈیفالٹر قرار دے دیا جائے۔ آئی ایم ایف معاہدہ طے پانے کے بعد 57بلین ڈالر کے بیل آئوٹ پیکیج میں سے 44.5بلین ڈالر ادا کرچکا ہے اور اب اگلے ہفتے 5.4بلین ڈالر کی قسط جاری کرنا ہے۔ معاشی بحران کے پیش نظر آئی ایم ایف حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ مزید رقم ضائع کرنے کے بجائے یہ قسط روک لی جائے۔ اگر آئی ایم ایف کی طرف سے یہ رقم روک لی گئی تو معاشی بحران مزید سنگین ہو جائے گا اور پھر ارجنٹینا کے پاس ڈیفالٹ کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں رہ جائے گا۔ معاشی ماہرین بتاتے ہیں کہ اس بحران کا آغاز سرمایہ کار کو ڈرانے دھمکانے سے ہوا۔ آئی ایم ایف نے 44.5بلین ڈالر جاری کئے اور اس دوران سرمایہ کاروں نے پیسہ ڈوب جانے کے ڈر سے 6.36بلین ڈالر مارکیٹ سے نکال لئے۔ آئی ایم ایف سے طے ہونے والی شرائط کے تحت مقامی کرنسی Pesoکی قدر کم کی گئی مگر جب ڈھلوان کا سفر شروع ہوا تو پھر کرنسی کی شرح تبادلہ پھسلتی چلی گئی۔ 0.53فیصد گراوٹ کے ساتھ Pesoکے مقابلے میں امریکی ڈالر 55.03کا ہو چکا ہے۔ ارجنٹینا کے سینٹرل بینک نے 11اگست سے اب تک 709ملین ڈالر مارکیٹ میں جھونک دیئے ہیں تاکہ ملکی کرنسی کو ڈالر کے مقابلے میں مستحکم کیا جا سکے مگر اس مہینے میں Pesoکی قدر 20فیصد کم ہو چکی ہے۔ صدارتی الیکشن کا پہلا مرحلہ جس میں صدر موریسیو میکری کو شکست ہوئی، سے پہلے امریکی ڈالر 45پیسو کا خریدا جا سکتا تھا۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ارجنٹینا بدترین معاشی بحران کی دہلیز پر کھڑا ہے بلکہ اس سے پہلے بھی 1999میں ملک کو اسی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا مگر 2003سے 2015کا عرصہ سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کا دورانیہ کہلاتا ہے جس کے دوران نہ صرف غربت کم ہوئی بلکہ فی کس آمدن اور ترقی کی شرح نمو میں بھی اضافہ ہوا مگر اچانک وہاں کے لوگوں کو تبدیلی کا شوق چرایا اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔

بیشک ارجنٹینا کے حالات و واقعات میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ ہم بھی کم و بیش اسی طرح کے حالات سے گزر کر اب آئی ایم ایف کے بیل آئوٹ پیکیج سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔ بجٹ خسارہ ملکی تاریخ کے 40سال کی بلند ترین سطح کو پہنچ چکا ہے۔ گزشتہ برس بجٹ خسارہ 2.26ٹریلین روپے (جی ڈی پی کا 6.6فیصد) تھا۔ اس سال یہ خسارہ 3.445ٹریلین روپے (جی ڈی پی کا 8.9فیصد) ہو چکا ہے۔ جتنے قرضے اس ایک سال میں لئے گئے اس کی بھی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ ایک اور مماثلت یہ ہے کہ ہمارے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو ارجنٹینا کی معیشت پر ایکسپرٹ سمجھا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے وہاں سرمایہ کاری پر ایک کتاب لکھی ہے، کیا وہ قوم کی رہنمائی فرمائیں گے کہ 57بلین ڈالر کے بیل آئوٹ پیکیج کے باوجود معیشت نہیں سنبھل سکی تو ہم 6بلین ڈالر سے یہ کارنامہ کیسے کر دکھائیں گے؟