تازہ ترین
سپین میں امراض جگر کے اسپیشلسٹ پہلے پاکستانی ڈاکٹر عرفان مجید راجہ سے بات چیت، پاک نیوز رپورٹ         کاتالان کرکٹ لیگ فائنل کے مہمان خصوصی چوہدری عزیز امرہ ونر ٹرافی دیتے ہوئے         کاتالان کرکٹ لیگ کی چیمپیئن پاک آئی کیئر نے اپنی جیت کشمیری بھائیوں کے نام کر دی         قونصلیٹ آفس بارسلونا میں کشمیر کے حق میں احتجاج مختلف شعبہ ہائے زندگی کے معززین کی شرکت         آل پاکستان فیملی ایسوسی ایشنز، اظہار ایسوسی ایشن، ایسوسی ایشن پیس فار پیس کے زیر اہتمام ہر سال کی طرح اس سال بھی ہسپیتالت میں پاکستانی بچوں میں تعلیم کو فروغ دینے کے سلسلے میں پروگرام Back to school کا انعقاد کیا         قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری کی کاتالونیا کے نیشنل ڈے کی تقریبات میں شرکت         قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری کی کاتالونیا کے صدر کوائم تورا سے ملاقات         قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری کی صوبائی فارن منسٹر الفریڈ بوش ای پاسکوال سے ملاقات         ظہیر جنجوعہ نے نئی سفارتی ذمہ داریاں سنبھال لیں         ذوالجناح کی تاریخ کیا ہے ؟         نوحہ کی تاریخ کیا ہے ؟         مقبوضہ کشمیر، ناکہ بندی مزید سخت، محرم کے جلوسوں پر بھارتی فوج کی فائرنگ، شیلنگ، کئی افراد زخمی         کھبی کھبی لوگ آپکی دل سے مدد کرنا چاہتے ہیں ، لیکن؟         سپین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو دوہری شہریت کے قانون پاس ہونے کی خوشخبری جلد         قرطبہ ریسٹورنٹ کے ڈائریکٹر ملک شریف کی دوست احباب کے ساتھ گروپ فوٹو        

کمیونٹی میں حصول تعلیم کا رجحان بڑھنا چاہیئے ، سپین میں پاکستان کی پہلی لیڈی ڈاکٹر سحرش گل سے شفقت رضا کی بات چیت

برطانیہ میں تو ہماری پانویں نسل پروان چڑھ رہی ہے اور اسی وجہ سے برطانیہ کےسرکاری محکموں ، سیاسی ایوانوں ، میڈیکل ، وکالت ، جج ، بیرسٹرز اور میئرز تک پاکستانی نژاد افراداپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ، ان افراد میں خواتین و حضرات کی تقریبا یکساں تعداد شامل ہے ۔ یورپ کے دوسرے ممالک جن میں فرانس ، ہالینڈ ، جرمنی ، بیلجیم شامل ہیں میں بھی ہماری دوسری اور تیسری نسل پروان چڑھ رہی ہے اور پاکستانیوں نے ان ممالک کے سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں اپنا مقامی بنا لیا ہے جس سے پاکستان کا نام اور وقار بلند ہوا ہے ۔پاکستانیوں کی زیادہ تعداد یورپ کے اُن ممالک میں مقیم ہے جہاں گاہے بگاہے امیگریشن کھلتی رہی ہے ان ممالک میں اٹلی ، یونان ، پولینڈ ، پرتگال ، آسٹریا اور سپین شامل ہیں ۔ سپین وہ واحد ملک ہے جہاں ہر تین سال بعد آپ قانونی رہائش رکھنے کا پرمٹ لے سکتے ہیں ، کیونکہ سپین میں ہسپانوی عوام نے ایک قانون پاس کروایا ہوا ہے جس کے مطابق آپ اگر یہ ثابت کر دیں کہ آپ تین سال سے مسلسل یہیں رہائش پذیر تھے اور آپ کے پاس ان تین سالوں میں قانونی طور پر رہائش رکھنے کا اجازت نامہ نہیں تھا تو بھی یہاں کے قانون ’’ آرائیگو ‘‘ کے مطابق آپ قانونی رہائش کا پرمٹ حاصل کرنے کا حق رکھتے ہیں اس قانون کی وجہ سے یورپ کے دوسرے ممالک کی با نسبت سپین میں پاکستانیوں کی آمد کا سلسلہ زیادہ تیزی سے جاری ہے ،

پاکستانی اس وقت وکالت ، کاروبار اور میڈیکل میں کافی ترقی کر چکے ہیں ۔ہماری پہلی نسل اب تعلیم سے فارغ ہو رہی ہے اور اپنے اپنے سرکاری محکموں ، سیاست اور میڈیکل سمیت وکالت کے شعبے میں طبع آزمائی کرنے میں جُت گئی ہے ۔ ایسی ایک مثال لیڈی ڈاکٹر سحرش گل کی ہے جو پاکستان کے ضلع گجرات کی تحصیل کھاریاں سے تعلق رکھتی ہیں ، ڈاکٹر سحرش گل کے والد محمد آصف سن دو ہزار میں سپین آئے اور محنت مزدوری شروع کی پھر دو ہزار سات میں اپنے بچوں کو سپین بلا لیا انہی بچوں میں ڈاکٹر سحرش گل بھی شامل تھیں ۔ سحرش گل نے اپنی ابتدائی تعلیم آرمی پبلک سکول کھاریاں سے حاصل کی ۔میٹرک کے بعد ایف ایس سی ، ایف گی ڈگری کالج فار وویمن کھاریاں سے حاصل کی اُس کے بعد وہ سپین آگئیں ، یہاں آکر انہوں نے سپینش زبان سیکھنی شروع کر دی ، سپینش سیکھنے کے بعد انہوں نے میڈیکل میں داخلہ لینے کے لئے مقامی زبان کاتالان میں ٹیسٹ دیا جو پاس کرنے کے بعد انہیں ’’ آتو نومیا دے بارسلونا سبادل ‘‘ میں داخلہ مل گیا اور انہوں نے چھ سال میڈیکل کی تعلیم حاصل کی اور مکمل طور پر سپین میں تعلیم حاصل کرنے والی پہلی ڈاکٹر بن گئیں ، سحرش گل اپنی والدہ کے ساتھ دو ہزار سات میں سپین آئی تھیں یہاں ایم بی بی ایس کی تعلیم چھ سال پر محیط ہوتی ہے ، دو ہزار نو میں انہوں نے انٹری ٹیسٹ پاس کیا اور دو ہزار پندرہ میں میڈیکل کی ڈگری حاصل کر لی ۔ڈاکٹر سحرش گل پہلی پاکستانی خاتون ڈاکٹر ہیں جو اب یہاں سپینش مریضوں کا علاج کرتی ہیں ، اس وقت ڈاکٹر سحرش گل بارسلونا کے قریبی علاقے ’’ سان گوگات ‘‘ میں ہسپتال یونیورستیتاریو خینرال دے کاتالونیا ‘‘ میں بطور لیڈی ڈاکٹر اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہی ہیں ۔یہ پاکستانی کمیونٹی کے لئے بڑے فخر کی بات ہے کہ سحرش گل پہلی پاکستانی ڈاکٹر بنی ہیں اور پاکستان کا نام روشن کر رہی ہیں ۔لیڈی ڈاکٹر سحرش گل سے نمائندہ جنگ نے بات چیت کی اور انہیں کہا کہ آپ جیسے پاکستانی ہمارا فخر ہیں ہم جب آپ کا تعارف کرائیں گے کہ ایک پاکستانی بیٹی یہاں ڈاکٹر ہے تو اس سے ہماری اور ہمارے ملک کی شان بڑھے گی ۔بات چیت کے دوران ڈاکٹر سحرش گل نے بتایا کہ کہ وہ اب چائلڈ اسپیشلسٹ بن رہی ہیں یہ چار سالہ کورس ہے اور اس وقت میرا آخری سال ہے اس کے بعد میں شعبہ اطفال کی اسپیشلسٹ بن جاوں گی ۔

انہوں نے بتایا کہ میں ابھی جس ہسپتال میں کام کر رہی ہوں وہاں اس شہر میں پاکستانیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے لیکن کوشش کر رہی ہوں کہ اسپیشلسٹ اطفال بن جاوں تو پھر بارسلونا کے کسی ہسپتال میں آ جاوں گی اور یہاں پاکستانی کمیونٹی کی بھر پور مدد کرونگی ، انہوں نے بتایا کہ ابھی کچھ مزید پاکستانی لڑکیوں کا میڈیکل میں آ خری سال چل رہا ہے اس کے بعد وہ بھی ڈاکٹر بن جائیں گی اور یہاں خدمت کریں گی ۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر سحرش گل نے کہا کہ پاکستانی والدین جو سپین میں مقیم ہیں اور یہیں رہنا چاہتے ہیں وہ اپنے بچوں کو تعلیمی میدان میں سر گرم کریں ، انہوں نے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی میں تعلیم دلانے کا رجحان بہت کم ہے ، کیونکہ پاکستانی والدین بچوں کی تعلیم کی بجائے انہیں اپنے معاشی حالات ٹھیک کرنے کی چکی میں پیسنا شروع کر دیتے ہیں یہ ٹھیک نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ سولہ سال تک کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنا لازمی ہے لیکن جونہی وہ سولہ سال کے ہو جاتے ہیں تو ان کے والدین کی کوشش ہو تی ہے کہ وہ کام کریں اور ان کا بازو بنیں ، انہوں نے کہا کہ اگر ہم تعلیمی میدان میں آگے نہیں بڑھیں گے تو ہماری ترقی کی رفتار بہت کم ہو جائے گی ، انہوں نے کہا کہ بچوں کو کام پر بھی بھیجیں لیکن ساتھ ساتھ ان کی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ کریں ۔ڈاکٹر سحرش گل نے بتایا کہ جب میں نے اپنی ڈاکٹری کی ڈگری پاس کر لی تو میرے والدین پاکستان لے کر میری شادی محمد عظیم وقار سے کر دی جو میرے والدین کے ملنے والوں میں سے تھے ، اب ہماری ازدواجی زندگی بہت خوشی سے کٹ رہی ہے ، انہوں نے بتایا کہ قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری نے قونصلیٹ آفس میں یہاں پڑھنے والے سٹوڈنٹس اور ان کے والدین کے حوالے سے جو معلوماتی سیشن شروع کیا ہے وہ خوش آئند ہے اسی طرح قونصلیٹ میں پاکستانی وکلا ہر طرح کے قانونی مشورہ جات دینے آتے ہیں یہ اس سے بھی زیادہ خوش آئند ہے انہوں نے بتایا کہ قونصلیٹ جنرل نے مجھے قونصلیٹ آفس بارسلونا میں بلا کر پہلی پاکستانی ڈاکٹر ہونے پر جو تعریفی سرٹیفیکیٹ دیا ہے وہ میرے لئے بہت حوصلہ افزا بات ہے کیونکہ یہ سن کر دوسرے سٹوڈنٹس بھی تعلیمی میدانوں میں آگے بڑھیں گے اور وہ بھی تعریفی اسناد سے نوازے جائیں گے ، انہوں نے اس موقع پر قونص؛ل جنرل بارسلونا کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی حوصلہ افزائی نے مجھے مزید جرات دی ہے اور میں میڈیکل کے میدان میں مزید محنت سے کام کروں گی تاکہ میرے ملک کا وقار بلند ہو ۔روزنامہ جنگ سے بات کرتے ہوئے قونصل جنرل بارسلونا نے کہا کہ ڈاکٹر سحرش گل جیسے نوجوان جو تعلیمی میدان میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں پاکستان کو ان پر فخر ہے ، انہوں نے کہا کہ تعلیم کے حوالے سے ڈاکٹر سحرش گل نے بڑی خوبصورت بات کی ہے کہ تعلیم کے بغیر ترقی کی رفتار کم ہو جاتی ہے ، انہوں نے کہا کہ تعلیم ضرور حاصل کرنی چاہیئے کیونکہ تعلیم صرف اچھی نوکری ہی نہیں دیتی بلکہ انسان کو رہن سہن اور زندگی گزارنے کا طریقہ بھی بتاتی ہے ۔