تازہ ترین
بارسلونا: آل پارٹیز کشمیر کانفرنس، کشمیری و پاکستانی کمیونٹی کی شرکت         پاکستانی کمیونٹی کو ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے راجہ ضیا صدیق کا خوبصورت مشورہ         وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی دبنگ تقریر پر چوہدری ایاز مٹھانہ چک کے تاثرات         چوہدری افضال وڑائچ کے والد کی وفات پر پاکستانی کمیونٹی کا اظہار افسوس اور دعائے مغفرت         سابق وزیر خزانہ رانا محمد افضل کی وفات پر مسلم لیگ ن سپین کا اظہار افسوس         انٹرنیشنل امن کانفرنس سپین ،مولانا عبدالخبیر آزاد کی شرکت         سپین میں امراض جگر کے اسپیشلسٹ پہلے پاکستانی ڈاکٹر عرفان مجید راجہ سے بات چیت، پاک نیوز رپورٹ         کاتالان کرکٹ لیگ فائنل کے مہمان خصوصی چوہدری عزیز امرہ ونر ٹرافی دیتے ہوئے         کاتالان کرکٹ لیگ کی چیمپیئن پاک آئی کیئر نے اپنی جیت کشمیری بھائیوں کے نام کر دی         قونصلیٹ آفس بارسلونا میں کشمیر کے حق میں احتجاج مختلف شعبہ ہائے زندگی کے معززین کی شرکت         آل پاکستان فیملی ایسوسی ایشنز، اظہار ایسوسی ایشن، ایسوسی ایشن پیس فار پیس کے زیر اہتمام ہر سال کی طرح اس سال بھی ہسپیتالت میں پاکستانی بچوں میں تعلیم کو فروغ دینے کے سلسلے میں پروگرام Back to school کا انعقاد کیا         قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری کی کاتالونیا کے نیشنل ڈے کی تقریبات میں شرکت         قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری کی کاتالونیا کے صدر کوائم تورا سے ملاقات         قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری کی صوبائی فارن منسٹر الفریڈ بوش ای پاسکوال سے ملاقات         ظہیر جنجوعہ نے نئی سفارتی ذمہ داریاں سنبھال لیں        

سپین میں امراض جگر کے اسپیشلسٹ پہلے پاکستانی ڈاکٹر عرفان مجید راجہ سے بات چیت، پاک نیوز رپورٹ

سپین میں پاکستانی کمیونٹی کی آمد کا سلسلہ 70کی دہائی سے شروع ہوا جب پاکستانی مزدوروں کے روپ میں سپین کے شہر خائن میں آئے اور کوئلے کی کانوں میں مزدوری شروع کر دی، وقت کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کی فیملیز کی آمد کا دور شروع ہوا تو خائن میں کام کرنے والے دوسرے شہروں کی طرف پھیلنا شروع ہو گئے، ان شہروں میں سپین کے صوبے کاتالونیا کے دارلحکومت بارسلونا اور اس کے گرد و نواح میں پاکستانی کمیونٹی نے اپنا زریعہ معاش تلاش کرنے کی سعی کی اور کافی حد تک اس میں کامیاب ہو ئے اور پاکستانی کمیونٹی کی کافی تعداد نے مزدوری میں طبع آزامائی کے ساتھ ساتھ اپنا ذاتی کاروبار بنانے کو ترجیح دینا شروع کی اور بزنس سیکٹر میں بھی اپنا لوہا منوانے میں کامیاب ہو گئے، صوبہ کاتالونیا میں پاکستانیوں کی تعداد کا ستر فیصد حصہ مقیم ہے جو اپنی فیملیز کے ساتھ یہاں مختلف شعبوں میں کامیابی اور بچوں کے بہتر مستقبل کو تابناک بنانے میں میدان عمل میں سرگرم ہیں۔ سپین میں پاکستانیوں نے جہاں اپنی معاشی حالت بہتر بنانے کے لئے بچوں کو اپنے ساتھ کام کاج میں اپنا بازو بنایا وہیں بہت سے والدین نے اپنے بچوں کو حصول تعلیم کے لئے تیار کیا اور انہیں تعلیم جیسے زیور سے مالا مال کر دیا، آج سپین میں پاکستانیوں کی پہلی نسل یونیورسٹیز سے تعلیم حاصل کرکے کے مختلف شعبوں سے وابستہ ہو گئی ہے ان شعبوں میں وکالت، ڈاکٹری، بلدیہ، کنسٹریکشن،سیاست، انجنیئرنگ، سائنس، نرسنگ اور دیگر شعبے شامل ہیں۔ایسی ہی ایک مثال ضلع گجرات کے گاوں ”پران“ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عرفان مجید راجہ ہیں جو سپین میں پہلے باقاعدہ پاکستانی نژاد ڈاکٹر ہیں، ڈاکٹر عرفان مجید راجہ نے سے ہونے والی بات چیت قارئین جنگ کے لئے حاضر ہے، ڈاکٹر عرفان مجید راجہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنی میڈیکل کی تعلیم ”رومانیہ“ سے حاصل کی،1997سے 2003تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ برطانیہ چلے گئے جہاں انہوں نے ڈاکٹری کے لئے دیا جانے والا امتحان پاس کیا اور پھر برطانیہ سے 2005اپریل میں پاکستان واپس چلے گئے۔پاکستان جا کر پی ایم این ڈی سی، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا امتحان پاس کیا۔اس کے بعد سروسز ہسپتال لاہور میں ہاوس جاب مکمل کی،ہاوس جاب مکمل کرنے کے بعد وہ واپس سپین آگئے، یہاں آکر انہوں نے پرائیویٹ جاب کی بطور ڈاکٹر اس کے بعد 2011میں سپین کا میڈیکل نیشنل بورڈ کا امتحان پاس کر لیا، جنرل میڈیکل میں اسپیشلسٹ بنے 2011 تا 2015تک، 2015 سے 2016کے لئے سپین گورنمنٹ کی طرف سے مجھے سکالرشپ مل گئی، 2016میں میں اسی سکالرشپ کی بنیاد پر جولائی میں انٹرنیشنل ایوارڈ ملا جو میں نے ”امراض جگر“ پر بہترین تحقیق کی تھی، میں جس انسٹیٹیوٹ سے منسلک ہوں اس کا نام ”جوردی گول“ ادارہ برائے تحقیق امراض جگر جو یونیورسٹی آف بارسلونا اور آتو نومو س یونیورسٹی آف بارسلونا سے ملحق ادارہ جو امراض جگر پر تحقیق کرتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ میں بارسلونا کے علاقے سانت آدریا دے بیسوس سپیشلسٹ سنٹر ڈاکٹر بارا کیئر میں جاب کر رہا ہوں اور یہ گورنمنٹ آف کاتالونیا کا سرکاری ادارہ ہے۔ڈاکٹر عرفان مجید راجہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جگر کے حوالے سے جاری ہماری ٹیم کی تحقیق سارے یورپ میں انتہائی یونیک تحقیق ہے ہماری ٹیم کے مطابق صرف وہ مریض جو شراب وغیرہ نہیں پیتے ان کے جگر میں چربی کی مقدار بڑھ جاتی ہے ہم اس کے لئے ایک ایسا سافٹ ویئر تیات کر رہے ہیں جس کی وجہ سے مریض کی بیماری شروع ہونے سے پہلے معلوم کی جا سکے گی یا شروع ہوتے ہی پکڑی جائے گی۔امراض جگر پر ہونے والی ہماری یہ تحقیق ایک نئی تحقیق ثابت ہو گی جس سے بہت سے مریض فائدہ اٹھا سکیں گے، اس حوالے سے ہم یہ سہولت بھی پیدا کرنے جا رہے ہیں کہ اگر چربی کی مقدار بڑھ جائے تو اسے ختم کیا جاسکے یا کم کر کے جگر میں ہونے والے کینسر اور جگر کو زخمی ہونے سے بچایا جا سکے، ہم نے اس سافٹ ویئر کو ابھی صرف بارسلونا میں تجرباتی مراحل سے گزارا ہے جس کی وجہ سے جہاں ہمیں خاطر خواہ نتائج ملے ہیں وہیں میڈیکل اداروں کو فالتو اخراجات سے بچت ہوئی ہے ان اخراجات میں الٹرا ساونڈ کا خرچہ سر فہرست ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اس تحقیق سے یہ فائدہ بھی ہوا ہے کہ ہم نے بہت سارے ایسے کیسز کو پتا لگا لیا ہے جو مریض کا جگر ناکارہ یا کینسر کے قریب پہنچانے والے تھے،پہلے یہ تصور کیا جاتا تھا کہ جو لوگ الکوحل استعمال نہیں کرتے ان میں امراض جگر کا ہونا بہت کم ہوتا ہے لیکن یہ تصور بالکل غلط ہے کیونکہ جسم میں فالتو چربی کا ہونا اس بیماری کو جنم دیتا ہے اور وہ چربی کسی بھی وجہ سے بن سکتی ہے۔اس کے لئے ہم اور ہماری ٹیم لوگوں کو بتاتی ہے کہ اپنی خوراک کا دھیان رکھیں، ورزش کریں تاکہ جسم میں چربی نہ بڑھے۔کاتالونیا میں کھائی جانے والی خوراک سمندری ہے یا بہت اچھی ہے اس کے باوجود بھی الکوحل نہ استعمال کرنے والوں میں امراض جگر کی شرح 4فیصد ہے۔ڈاکٹر عرفان مجید راجہ کا کہنا تھا کہ میں 6سال سے سوشل ورکر ہوں ہماری ساری ٹیم کا ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستانی کمیونٹی کا انضمام تعلیم کے زریعے ہی ممکن ہے۔ہم یہاں اردو کلاسز بھی دیتے ہیں تاکہ ہماری آئندہ نسلیں اپنے کلچر سے منسلک رہیں اور ہمارا اردو ادب یہاں کی مقامی زبان میں بھی پڑھا جائے اور متعارف ہو۔انہوں نے کہا کہ قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری نے پاکستانی کمیونٹی کے لئے قونصلیٹ جنرل آف پاکستان آفس میں قانونی مشاورت، طبی سہولیات، پاکستانی کمیونٹی کے بچوں کو حصول تعلیم میں دلچسپی اور مدد کے لئے ہفتہ وار میٹنگز بھی ہوتی ہیں ساتھ ساتھ جیلوں میں قید پاکستانیوں کو سہولیات دی جا رہی ہیں جو بہت خوش آئند ہے۔