تازہ ترین
سپین: کشمیری رہنما مقبول بٹ شہید کی 36ویں برسی پر تقریب         آرمی کمانڈو اور سابق باکسر ظفر پہلوان کی ساتھیوں سمیت کشمیر ریلی میں شرکت         قونصل جنرل بارسلونا کے ساتھ مل کر یوم پاکستان پروگرام کامیاب بنائیں گے ، میاں محمد اظہر و راجو الیگزینڈر         جاوید ڈار کو حمزہ جاوید ڈار کی تعلیمی کامیابی پر چوہدری نوید وڑائچ کی مبارک باد         کشمیر ریلی بارسلونا میں چوہدری نزیر احمد نواں کی بھر پور شرکت         کشمیر ریلی میں ایاز مٹھانہ ، راجہ بابر ناصر اور قدیر احمد خان کی شرکت         چوہدری امتیاز آکیہ کی کشمیر ریلی بارسلونا میں بھر پور شرکت         کشمیر ریلی رامبلہ راوال میں چوہدری گلریز بوگا کی شرکت         مسلم لیگ ن سپین قافلے کی صورت کشمیر ریلی میں شریک         ندائے کشمیر ایسوسی ایشن سپین کے زیر اہتمام کشمیر ریلی کا انعقاد         حاجی اسد حسین کی برطانیہ میں سہیل وڑائچ ، طاہر چوہدری اور حمزہ باسط بٹ سے ملاقات         کاتالونیا میں آزادی کی تحریک پھر زور پکڑ گئی ہے         کشمیر اور خالصتان کی آزادی کے لئے ریفرنڈم ٹونٹی ٹونٹی کا اعلان، شفقت علی رضا         علامہ اقبال ؒ کے یوم پیدائش پراوسپتالیت کے اُردو سکول میں شاندار تقریب         بارسلونا: آل پارٹیز کشمیر کانفرنس، کشمیری و پاکستانی کمیونٹی کی شرکت        

قندیل بلوچ کے بھائی کوعمر قید، مفتی قوی بری

قندیل بلوچ قتل کیس میں بھائی وسیم کو عمر قید کی سزا جبکہ مفتی عبدالقوی سمیت دیگر تمام ملزمان کو بری کردیا گیا۔

عدالتی فیصلہ آنے کے بعد قندیل بلوچ کی ماں نے میڈیا سے بات کرنے سے گریز کیا۔

دوسری جانب فیصلے پر مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ آج انصاف اور فتح کا دن ہے۔

گزشتہ روز قندیل بلوچ قتل کیس میں وکلاء اور پراسیکیوشن نے دلائل مکمل کر لیے تھے جس کے بعد ملتان کی ماڈل کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا اور اسے آج سنانے کا اعلان کیا تھا۔

ماڈل کورٹ ملتان قندیل بلوچ قتل کیس کو 3 اگست کو منتقل کیا گیا تھا جہاں روزانہ کی بنیاد پر اس کیس کی سماعت ہوئی اور آج جج عمران شفیع نے گزشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ آج سنایا ہے ۔

واضح رہے کہ اس کیس کا فیصلہ 3 سال  اور 2 ماہ  بعد سنایا گیا ہے، کیس کے مدعی قندیل کے والد اسلم ماہڑہ نے اپنے 3 بیٹوں وسیم ، عارف اور اسلم شاہین سمیت مفتی عبدالقوی ، حق نواز ، عبدالباسط اور ظفر کو اس کیس میں نامزد کیا تھا ۔

مرکزی ملزم وسیم نے قتل کے اگلے روز پولیس کو ازخود گرفتاری دے کر اقبال جرم بھی کیا اور عدالت کو ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ اس نے اپنی بہن کو غیرت کے نام پر قتل کیا جس پر اسے کوئی شرمندگی نہیں تاہم بعد میں وہ اپنے اعترافی بیان سے منحرف ہو گیا تھا۔

اس کیس کے دوسرے ملزم حق نواز، عبدالباسط اور ظفر نے بھی مختلف اوقات میں پولیس کو خود گرفتاریاں پیش کیں، تاہم مفتی عبدالقوی کو پولیس نے جھنگ جاتے ہوئے راستے سے گرفتار کیا۔

قندیل بلوچ کے والدین نے بھی اپنے تینوں بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست عدالت میں جمع کروائی جو عدالت نے مسترد کر دی تھی۔

اس کیس کا مزکری ملزم وسیم جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں تھا جبکہ باقی ملزمان ضمانت پر رہا تھے ۔

قندیل بلوچ قتل میں قندیل کی والدہ نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی بیٹی کا قتل مفتی عبدالقوی کے ایماء پر ان کے بیٹوں نے 15 جولائی 2016ء کی شب ملتان کے علاقے مظفر آباد میں کیا تھا۔