تازہ ترین
حاجی اسد حسین کی برطانیہ میں سہیل وڑائچ ، طاہر چوہدری اور حمزہ باسط بٹ سے ملاقات         کاتالونیا میں آزادی کی تحریک پھر زور پکڑ گئی ہے         کشمیر اور خالصتان کی آزادی کے لئے ریفرنڈم ٹونٹی ٹونٹی کا اعلان، شفقت علی رضا         علامہ اقبال ؒ کے یوم پیدائش پراوسپتالیت کے اُردو سکول میں شاندار تقریب         بارسلونا: آل پارٹیز کشمیر کانفرنس، کشمیری و پاکستانی کمیونٹی کی شرکت         پاکستانی کمیونٹی کو ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے راجہ ضیا صدیق کا خوبصورت مشورہ         وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی دبنگ تقریر پر چوہدری ایاز مٹھانہ چک کے تاثرات         چوہدری افضال وڑائچ کے والد کی وفات پر پاکستانی کمیونٹی کا اظہار افسوس اور دعائے مغفرت         سابق وزیر خزانہ رانا محمد افضل کی وفات پر مسلم لیگ ن سپین کا اظہار افسوس         انٹرنیشنل امن کانفرنس سپین ،مولانا عبدالخبیر آزاد کی شرکت         سپین میں امراض جگر کے اسپیشلسٹ پہلے پاکستانی ڈاکٹر عرفان مجید راجہ سے بات چیت، پاک نیوز رپورٹ         کاتالان کرکٹ لیگ فائنل کے مہمان خصوصی چوہدری عزیز امرہ ونر ٹرافی دیتے ہوئے         کاتالان کرکٹ لیگ کی چیمپیئن پاک آئی کیئر نے اپنی جیت کشمیری بھائیوں کے نام کر دی         قونصلیٹ آفس بارسلونا میں کشمیر کے حق میں احتجاج مختلف شعبہ ہائے زندگی کے معززین کی شرکت         آل پاکستان فیملی ایسوسی ایشنز، اظہار ایسوسی ایشن، ایسوسی ایشن پیس فار پیس کے زیر اہتمام ہر سال کی طرح اس سال بھی ہسپیتالت میں پاکستانی بچوں میں تعلیم کو فروغ دینے کے سلسلے میں پروگرام Back to school کا انعقاد کیا        

کشمیر اور خالصتان کی آزادی کے لئے ریفرنڈم ٹونٹی ٹونٹی کا اعلان، شفقت علی رضا

کشمیر میں جاری انڈین آرمی کی جارحیت اور مودی سرکار کی در اندازی کو دنیا بھر کے ممالک میں مقیم کشمیری اور پاکستانی سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، احتجاجی ریلیاں، احتجاجی مظاہرے اور کشمیر کاز کے عنوان سے سیمینار اور کانفرنسز منعقد کی جا رہی ہیں، کینیڈا، امریکا، آسٹریلیا کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک اور گلف میں بھی کشمیری اور پاکستانی مل کر انڈین حکومت کی کشمیر کے متعلق پالیسیوں کو رد کر رہے ہیں اور کشمیریوں کی آزادی کے لئے انڈیا پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تناظر میں کشمیریوں کو جینے کا حق دے، دوسری طرف انڈیا کے خلاف سکھ بھی میدان میں نکل آئے ہیں جہاں وہ علیحدہ وطن خالصتان کی بات کر رہے ہیں وہیں وہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف کشمیری، پاکستانی اور دوسری اقوام کے ساتھ مل کر سراپا احتجاج ہیں، سکھ حضرات پنجاب کو آزاد کرانے کے حوالے سے مہم زوروشورسے جاری رکھے ہوئے ہیں اور 2020 میں پنجاب کو آزاد کرانے کے حوالے سے ریفرنڈم ٹونٹی ٹونٹی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ جس کے لئے اگست میں پوری دنیا میں سکھوں کی ووٹ رجسٹریشن کا سلسلہ شروع ہوگا اور نومبر میں ریفرنڈم ہوگاجس میں بھارت سمیت دنیا بھر میں موجود سکھ برادری اپنا ووٹ کا حق استعمال کرے گی۔سکھ رہنما نے کہا کہ پنجاب پر بھارت کا قبضہ ہے جسے آزاد کرانے کے لئے ریفرنڈم مہم کا آغازدہشت گردی یا جرائم سے متعلق نہیں ہے۔ ریفرنڈم ٹونٹی ٹونٹی بلٹ نہیں بیلٹ کے ذریعے ہوگا اور پنجاب کے لوگ اپناحق خود مختاری استعمال کرکے جمہوری عمل کو مکمل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ریفرنڈم کے لئے پولنگ شمالی امریکہ، یورپ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ملائیشیا، فلپائن، سنگاپور، کینیا اور مشرق وسطی کے ممالک اور ہندوستانی پنجاب میں ہو گی۔ایک طرف یہ بھی ہے کہ بی جے پی کے حامیوں نے منصوبہ بنایا ہے کہ سکھ برادری کی ریلیوں کو ناکام بنانے کیلئے لوگ اکھٹے کرکے جوابی مظاہرہ کیا جائے۔ بھارت میں بھی آزاد خالصتان کی تحریک زوروں پر ہے، خصوصاً مغربی ممالک میں بسنے والے سکھ پوری طرح منظم ہوچکے ہیں اور آزاد خالصتان کی گونج دنیا بھر میں سنائی دینے لگی ہے۔ بھارت اس صورتحال پر بری طرح بوکھلا گیا ہے اور سارا ملبہ ایک بار پھر پاکستان پر ڈال رہا ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا جیسے ممالک میں خالصتان تحریک سے متعلقہ تمام سرگرمیوں کو پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی سازش قرار دے دیا گیا ہے۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے ادارے ”سکھ فار جسٹس“ کا موقف واضح ہے کہ اس ریفرنڈم کے پیچھے کوئی بین الاقوامی سازش نہیں ہے اور یہ کہ وہ صرف بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے حقوق مانگ رہے ہیں۔ اس حوالے سے فرینڈزآف کشمیر اور سکھ فار جسٹس نے ملکر کشمیر خالصتان ریفرنڈم فرنٹ تشکیل دیدیا،سکھوں اور کشمیریوں کیلئے دونوں پلیٹ فارم سے ریفرنڈم ٹونٹی ٹوئنٹی مہم شروع کر دی گئی ہے، سوئٹرز لینڈ کے شہر جنیوا میں یو این او کے انسانی حقوق والے آفس کے سامنے دونوں پلیٹ فارمز نے مل کر ایک احتجاجی مارچ اور کنونش کا انعقاد کیا جس میں سکھ، کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی سمیت دوسری اقوام نے بھی شرکت کی، یورپی ممالک سے بسوں کے زریعے لوگوں کی کثیر تعداد نے اس احتجاج میں شرکت کی اور بارش میں کھڑے رہ کر خالصتان اور کشمیر کی آزادی کے لئے نعرے بازی کی اور دنیا کو باور کروا دیا کہ ہم مل کر خالصتان اور کشمیر کے لئے ریفرنڈم کرائیں گے، اس موقع پر فرینڈز آف کشمیر کی چئیرپرسن غزالہ حبیب، کشمیری راہنماوں علی رضا سید اور زاہد ہاشمی سمیت سکھ رہنماؤں نے خطاب کیا۔اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق جینیوا کے سامنے ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں فرینڈزآف کشمیر،سکھ فار جسٹس کے کشمیر خالصتان ریفنڈم فرنٹ، ندائے کشمیر اور دیگر تنظیموں نے بھر پور شرکت کی فرینڈزآف کشمیر کی چیئرپرسن غزالہ حبیب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانچ اگست سے کشمیرکی وادی جیل میں تبدیل ہوچکی ہے یہ جیتا جاگتا انسانی حقوق کا بحران دنیا کو نظر نہیں آرہا کشمیرخالصتان فرنٹ کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ دونوں کمیونیٹیز کو حق خوداردیت دلوائی جائے، کنونشن میں مقررین نے کہا کہ بھارت میں فاشسٹ حکومت ہے جہاں اقلیتوں کو حقوق حاصل نہیں دنیا فوری طور پر توجہ دے سکھوں کی نسل کشی ہورہی ہے ساٹس خالصتان موومنٹ کے قانونی مشیر نے حق خودارادیت کے حوالے قوانین پر عمل کرنے ضرورت پر زوردیا مظاہرے سے اوتار سنگھ پنوں،ڈاکٹر بخشی سنگھ،ج سبیر سنگھ،جتندر اگروال،پرم جیت سنگھ،جکرم سنگھ،دویندر جیت سنگھ،جگجیت سنگھ،گرپنت سنگھ پنوں،زاہد ہاشمی،علی رضا سید،تنویر اور قدیر نے بھی خطاب کیا۔ سکھ راہنماوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ کانگرس (آئی) جیسی نام نہاد سیکولر جماعت ہو یا کٹر انتہا پسند ہندوؤں کی نمائندہ جماعت بی جے پی ان سب نے اپنے دور اقتدار میں یہی تاثر دیا کہ بھارت میں سکھوں کی خالصتان کیلئے علیحدگی کی تحریک دم توڑ چکی ہے لیکن سکھ اپنی جستجو کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں خصوصاً امریکہ‘ برطانیہ اور یورپی یونین میں آباد سکھوں نے بھارت میں اپنے حقوق اور خود کو ہندوؤں سے بالکل الگ شناخت رکھنے والی ایک قوم کے طورپر منوانے کیلئے بہت محنت کی ہے بہت سے مغربی دانشور سکھوں کے اس موقف کو تسلیم کرتے ہیں کہ 1947 میں جس دو قومی نظریہ کی بنیاد پر مسلمانوں کا الگ وطن کا مطالبہ تسلیم کیا گیا، اسی طرح سکھوں کیلئے انکے اکثریتی آبادی والے علاقوں میں الگ وطن کی ضرورت کو مدنظر رکھا جانا چاہئیے تھا مغربی دنیا میں اپنے لئے پائی جانیوالی اسی سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے سکھوں کی بھارت سے باہر جلاوطن حکومت نے جون2020 ء میں خالصتان کی آزادی کیلئے بھارت میں سکھوں کی رائے لینے کیلئے ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر مشرقی تیمور کو ریفرنڈم کے ذریعے انڈونیشیا سے الگ اور سوڈان کو ریفرنڈم کے ذریعے دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے تو پھر بھارت میں سکھوں کیلئے اور مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے لئے الگ وطن کی خاطر ریفرنڈم کیوں نہیں کرایا جا سکتا۔سکھ راہنماوں نے اس موقع پر کشمیر بنے گا پاکستان، کشمیر کو آزاد کرو، مودی سرکار ہائے ہائے اور انڈین آرمی کشمیر میں مظالم بند کرے جیسے نعرے بھی لگائے اور انہوں نے اعلان کیا کہ ہم فرینڈز آف کشمیر کے ساتھ مل کر خالصتان اور کشمیر کی آزادی کی مہم میں تیزی لائیں گے۔