تازہ ترین
حاجی اسد حسین کی برطانیہ میں سہیل وڑائچ ، طاہر چوہدری اور حمزہ باسط بٹ سے ملاقات         کاتالونیا میں آزادی کی تحریک پھر زور پکڑ گئی ہے         کشمیر اور خالصتان کی آزادی کے لئے ریفرنڈم ٹونٹی ٹونٹی کا اعلان، شفقت علی رضا         علامہ اقبال ؒ کے یوم پیدائش پراوسپتالیت کے اُردو سکول میں شاندار تقریب         بارسلونا: آل پارٹیز کشمیر کانفرنس، کشمیری و پاکستانی کمیونٹی کی شرکت         پاکستانی کمیونٹی کو ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے راجہ ضیا صدیق کا خوبصورت مشورہ         وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی دبنگ تقریر پر چوہدری ایاز مٹھانہ چک کے تاثرات         چوہدری افضال وڑائچ کے والد کی وفات پر پاکستانی کمیونٹی کا اظہار افسوس اور دعائے مغفرت         سابق وزیر خزانہ رانا محمد افضل کی وفات پر مسلم لیگ ن سپین کا اظہار افسوس         انٹرنیشنل امن کانفرنس سپین ،مولانا عبدالخبیر آزاد کی شرکت         سپین میں امراض جگر کے اسپیشلسٹ پہلے پاکستانی ڈاکٹر عرفان مجید راجہ سے بات چیت، پاک نیوز رپورٹ         کاتالان کرکٹ لیگ فائنل کے مہمان خصوصی چوہدری عزیز امرہ ونر ٹرافی دیتے ہوئے         کاتالان کرکٹ لیگ کی چیمپیئن پاک آئی کیئر نے اپنی جیت کشمیری بھائیوں کے نام کر دی         قونصلیٹ آفس بارسلونا میں کشمیر کے حق میں احتجاج مختلف شعبہ ہائے زندگی کے معززین کی شرکت         آل پاکستان فیملی ایسوسی ایشنز، اظہار ایسوسی ایشن، ایسوسی ایشن پیس فار پیس کے زیر اہتمام ہر سال کی طرح اس سال بھی ہسپیتالت میں پاکستانی بچوں میں تعلیم کو فروغ دینے کے سلسلے میں پروگرام Back to school کا انعقاد کیا        

آسٹریلوی بینک کی چھوٹی سی غلطی سے طالبہ کے ہتھے 46 لاکھ ڈالر لگ گئے

paknews سڈنی: آسٹریلیا میں زیر تعلیم ملائیشیا سے تعلق رکھنے والی طالبہ کے اس وقت مزے ہوگئے جب بینک نے اس کے اکاؤنٹ میں غلطی سے 46 لاکھ ڈالر ڈال دیئے۔
غیر ملکی ویب سائٹ کے مطابق آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ملائیشیا سے تعلق رکھنے والی 21 سالہ طالبہ جیا زِن لی کیمیکل انجینئرنگ کی طالبہ ہے۔ گزشتہ برس جیا اس وقت حیران رہ گئی جب اس نے اپنے بینک اکاؤنٹ میں 46 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم دیکھی۔ اسے اندازہ ہوگیا کہ اتنی بڑی رقم اس کے اکاؤنٹ میں غلطی سے آگئی ہے۔
اس نے بھی بینک انتظامیہ کی غلطی سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ایک ہی روز میں 2 لاکھ 20 ہزار ڈالر خرچ کر ڈالے۔ محترمہ نے یہیں پر بس نہیں کیا بلکہ 11 ماہ کی مدت میں اتنی بڑی رقم سے خوب شاہ خرچیاں کیں۔ مہنگے سے مہنگے کپڑے اور دیگر چیزیں خریدیں۔ تعجب یہ رہا کہ اس سارے عرصے کے دوران بینک کو اس غلطی کا بالکل احساس بھی نہ ہوا۔
بینک کو اپنی اس غلطی کا احساس 11 ماہ بعد ہوا جب تک یہ طالبہ اچھی خاصی رقم خرچ کر چکی تھی۔ بات اس وقت کھلی جب جیا نے 15 لاکھ ڈالر کی رقم اپنے اس اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی کوشش کی۔ جس پر بینک نے جیا کو طلب کرکے اس سے باقی رقم بھی واپس کرنے کا مطالبہ کیا لیکن اس نے انوکھا جواب دیا کہ میں سمجھی یہ رقم میرے والدین نے بھجوائی ہے۔
طلبہ کو آخر کار اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب اس نے ملائشیا واپس فرار ہونے کی کوشش کی۔ اس وقت یہ معاملہ عدالت میں ہے جہاں جیا پر بے ایمانی کا مقدمہ درج ہے۔ بینک نے اس غلطی سے حاصل کردہ رقم سے جیا کی خریداری کی تمام تفصیلات بھی عدالت میں پیش کردی ہیں۔