تازہ ترین
کوٹلہ برادران جہد مسلسل کا نام اورفتح اُن کا مقدر ہے،ہمیشہ جیت اُن کا مقدر رہے گی ۔ظفر پہلوان سابق باکسر وکمانڈو پاک آرمی         سپین ۔ میاں نواز شریف کے خلاف بے بنیاد مقدمات بنائے گئے ہیں ، راجہ حاجی اسد حسین و دیگر         ملالہ کے کمرے میں کس کی تصویر لگی ہے؟         آج رات 12بجے تمام مسروقہ غیر استعمال شدہ فون بند کردئیے جائینگے، پی ٹی اے         سپین۔چوہدری عابد رضا اور چوہدری شبیر کے خلاف انتقامی کاروائیاں بند کی جائیں ،چوہدری امتیاز آکیہ         چوہدری برادران نے پنجاب میں ریکارڈ ترقیاتی کام کئے ، چوہدری امتیاز لوراں         برٹش ائیرویز کے بعد جرمنی کی ائیرلائن نے بھی پاکستان سے پروازیں شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا         پنجاب میں بیرون ملک جانے کے خواہش مند شہریوں کیلئے کریکٹر سرٹیفیکیٹ کے حصول کا عمل مزید آسان کردیا گیا         قونصلیٹ آفس بارسلونا میں کرسمس اور قائد ڈے کے کیک کاٹنے کی تقریب         سماجی راہنما راجہ شعیب ستی کے اعزاز میں عشائیہ،معززین کی شرکت         سپین۔مسلم لیگ ن کے زیر اہتمام کیک کاٹنے کی تقریب         سپین۔پاک ویلنسیا ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام کرسمس اور یوم ولادت قائد اعظم کی تقریب         سپین۔تارکین وطن پاکستانی مقامی سیاسی پارٹیوں کا حصہ بنیں ، حافظ عبدالرزاق صادق         سپین۔گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ، ہزاروں افراد کی شرکت         گریگ فیسٹیول ’’ منجوئیک ‘‘ میں پاکستانی ثقافت کے رنگ ، پاکسانی شعرا نے اپنا کلام سنایا        
paknews

جھگڑا اور شکوہ کرنے والی بیویوں کے شوہر ذیابیطس جیسے مرض سے محفوظ رہتے ہیں، تحقیق

paknews مشی گن: ماہرین کا کہنا ہےکہ اگر میاں بیوی کے تعلقات کشیدہ رہتے ہیں تو اس سے مرد کو ذیابیطس ہونے کے خطرات کم ہوجاتے ہیں۔
امریکی یونیورسٹی میں سوشیالوجی کی خاتون پروفیسر کے مطابق تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ شادی کے بعد نوک جھونک اور خاتون کی شکایتیں ہمیشہ نقصان دہ نہیں ہوتیں بلکہ اس کے صحت پر اچھے اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ ماہرین نے اس کے لیے ایک ہزار سے زائد شادی شدہ جوڑوں کا 5 سال تک مطالعہ کیا جن کی عمریں 57 سے 85 سال تھی، ان میں سے 389 جوڑے کی کسی ایک رکن کو آخر میں ذیابیطس کا مرض لاحق ہوگیا تھا۔
ماہرین نے اپنے 5 سالہ مطالعے میں نوٹ کیا کہ منفی ازدواجی زندگی نہ صرف مردوں میں ذیابیطس کو روکتی ہے بلکہ اگر کوئی اس مرض کا شکار ہو تو وہ اس کی بہتر نگرانی اور علاج میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ شکایتی بیویاں شوہر کے کھانے پینے اور صحت کے معاملات پر بھی نکتہ چینی کرتی رہتی ہیں اور اس طرح سے وہ شوگر کے مرض سے دور رہتے ہیں جب کہ اس کے برخلاف شادی شدہ خواتین کی پرسکون زندگی ذیابیطس کو 5 سال کے لیے ٹال سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کی بیوی جھگڑالواورشکوہ کرتی رہتی ہے تو اس سے آپ کے جسم پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور ایسے مرد ذیابیطس جیسے امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے مطابق خواتین میں اس کا الٹ اثر ہوتا ہے یعنی خوشگوار زندگی گزارنے والی خواتین میں ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خدشہ بہت کم کم ہوتا ہے۔