تازہ ترین
حاجی اسد حسین کی برطانیہ میں سہیل وڑائچ ، طاہر چوہدری اور حمزہ باسط بٹ سے ملاقات         کاتالونیا میں آزادی کی تحریک پھر زور پکڑ گئی ہے         کشمیر اور خالصتان کی آزادی کے لئے ریفرنڈم ٹونٹی ٹونٹی کا اعلان، شفقت علی رضا         علامہ اقبال ؒ کے یوم پیدائش پراوسپتالیت کے اُردو سکول میں شاندار تقریب         بارسلونا: آل پارٹیز کشمیر کانفرنس، کشمیری و پاکستانی کمیونٹی کی شرکت         پاکستانی کمیونٹی کو ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے راجہ ضیا صدیق کا خوبصورت مشورہ         وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی دبنگ تقریر پر چوہدری ایاز مٹھانہ چک کے تاثرات         چوہدری افضال وڑائچ کے والد کی وفات پر پاکستانی کمیونٹی کا اظہار افسوس اور دعائے مغفرت         سابق وزیر خزانہ رانا محمد افضل کی وفات پر مسلم لیگ ن سپین کا اظہار افسوس         انٹرنیشنل امن کانفرنس سپین ،مولانا عبدالخبیر آزاد کی شرکت         سپین میں امراض جگر کے اسپیشلسٹ پہلے پاکستانی ڈاکٹر عرفان مجید راجہ سے بات چیت، پاک نیوز رپورٹ         کاتالان کرکٹ لیگ فائنل کے مہمان خصوصی چوہدری عزیز امرہ ونر ٹرافی دیتے ہوئے         کاتالان کرکٹ لیگ کی چیمپیئن پاک آئی کیئر نے اپنی جیت کشمیری بھائیوں کے نام کر دی         قونصلیٹ آفس بارسلونا میں کشمیر کے حق میں احتجاج مختلف شعبہ ہائے زندگی کے معززین کی شرکت         آل پاکستان فیملی ایسوسی ایشنز، اظہار ایسوسی ایشن، ایسوسی ایشن پیس فار پیس کے زیر اہتمام ہر سال کی طرح اس سال بھی ہسپیتالت میں پاکستانی بچوں میں تعلیم کو فروغ دینے کے سلسلے میں پروگرام Back to school کا انعقاد کیا        

جھگڑا اور شکوہ کرنے والی بیویوں کے شوہر ذیابیطس جیسے مرض سے محفوظ رہتے ہیں، تحقیق

paknews مشی گن: ماہرین کا کہنا ہےکہ اگر میاں بیوی کے تعلقات کشیدہ رہتے ہیں تو اس سے مرد کو ذیابیطس ہونے کے خطرات کم ہوجاتے ہیں۔
امریکی یونیورسٹی میں سوشیالوجی کی خاتون پروفیسر کے مطابق تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ شادی کے بعد نوک جھونک اور خاتون کی شکایتیں ہمیشہ نقصان دہ نہیں ہوتیں بلکہ اس کے صحت پر اچھے اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ ماہرین نے اس کے لیے ایک ہزار سے زائد شادی شدہ جوڑوں کا 5 سال تک مطالعہ کیا جن کی عمریں 57 سے 85 سال تھی، ان میں سے 389 جوڑے کی کسی ایک رکن کو آخر میں ذیابیطس کا مرض لاحق ہوگیا تھا۔
ماہرین نے اپنے 5 سالہ مطالعے میں نوٹ کیا کہ منفی ازدواجی زندگی نہ صرف مردوں میں ذیابیطس کو روکتی ہے بلکہ اگر کوئی اس مرض کا شکار ہو تو وہ اس کی بہتر نگرانی اور علاج میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ شکایتی بیویاں شوہر کے کھانے پینے اور صحت کے معاملات پر بھی نکتہ چینی کرتی رہتی ہیں اور اس طرح سے وہ شوگر کے مرض سے دور رہتے ہیں جب کہ اس کے برخلاف شادی شدہ خواتین کی پرسکون زندگی ذیابیطس کو 5 سال کے لیے ٹال سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کی بیوی جھگڑالواورشکوہ کرتی رہتی ہے تو اس سے آپ کے جسم پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور ایسے مرد ذیابیطس جیسے امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے مطابق خواتین میں اس کا الٹ اثر ہوتا ہے یعنی خوشگوار زندگی گزارنے والی خواتین میں ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خدشہ بہت کم کم ہوتا ہے۔